Daily Mashriq

بسیں تو آگئیں چلیں گی کیسے؟

بسیں تو آگئیں چلیں گی کیسے؟

بالآخر پشاور بس ریپڈ منصوبے کے ابتدائی مرحلہ کی 20بسیں کراچی سے پشاور پہنچ گئیں ۔23مارچ کو یہ بسیں بی آر ٹی کے روٹ پر چلائی جائیں گی۔ خیبر پختونخوا حکومت کے اعلان کے مطابق بی آر ٹی کی 220بسوں میں سے ابتدائی طور پر 20بسیں روٹ پر چلائی جائیں گی ۔بی آر ٹی کی بسوں کیلئے ٹرمینل تیار نہ ہونے کی وجہ سے یہ بسیں حیات آباد کی زرغونی مسجد کے قریب خالی پلاٹ میں رکھنے کی تجویز ہے۔ مذکورہ مقام پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی ملکیت ہے ۔بسوں میں جسمانی معذور افراد کیلئے خصوصی سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔خدا خدا کرکے بی آر ٹی کی بیس بسوں کو پشاور پہنچانے کا مرحلہ طے ہونا صوبائی حکومت اور عوام دونوں کے لئے باعث اطمینان ہے۔ صوبائی حکومت 23مارچ کو حسب وعدہ منصوبے کا افتتاح کرسکی تو سرخرو ہوگی جبکہ عوام کو آرام دہ اور تیز رفتار سفری سہولت ملنے پر یقینا مسرت ہوگی اور وہ بی آر ٹی کی تعمیر کی لاگت اور مشکلات سے گزرنے کے باوجود یہ غم بھلا دیں گے۔ دوسری جانب دیکھا جائے تو ایک بڑا مرحلہ طے ہونے کے باوجود بی آر ٹی کی تکمیل اور عوام کا اس سے پوری طرح استفادہ کرنے کا عمل شروع ہونے میں ابھی انتظار کے دن باقی ہیں۔ اولاً صوبائی حکومت کو بیورو کریسی نے یہ پٹی پڑھا دی ہے کہ 23مارچ کو منصوبے کا سوفٹ افتتاح ممکن ہوگا حیرت کی بات ہے کہ اعلیٰ اجلاس کی صدارت کرنے والے وزیر اعلیٰ ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح اس منصوبے کا افتتاح ہو جائے تو دوسری جانب اجلاس میں ایک بیورو کریٹ حکومت کو سناتے ہیں کہ اس کا سوفٹ افتتاح ممکن ہوگا ۔معلوم نہیں اس لفظ کے استعمال کی حکمت کیا تھی لیکن اس کا سیدھے سبھائو عوامی طور پر یہی مطلب نکلتا ہے کہ منصوبے کا افتتاح ہونے کے باوجود عوام کو اس سے مکمل استفادہ نہیں ہوگا گویا یہاں افادہ مختتم کا اصول لاگو کیا جائے گا۔ اولاً بیس بسیں لائی گئیں جن کو ایچ ون تک چلایا جائے گا جو چمکنی سے فردوس تک ہے چمکنی سے بسوں کی روانگی اور واپسی کے انتظامات ہو بھی جائیں تو فردوس پہنچ کر بس کے واپس مڑنے کی مشکل کا جو بھی حل نکالا جائے عوام کو فردوس سے آگے ایک اور سواری کی ضرورت پڑے گی۔ کم ہی لوگ اڈے سے فردوس تک کا سفر کرتے ہیں۔ اگر کم از کم یہ انتظام ڈبگری گارڈن تک ممکن ہوتا تو وہاں پر بی آر ٹی بسوں کا اڈہ زیر تعمیر ہے لیکن فردوس سے ڈبگری گارڈن تک کا حصہ ہی شاید سب سے آخر میں بن جائے جس کی وجوہات جو بھی ہوں اس قسم کے ادھورے افتتاح اور ناکافی ترین بی آر ٹی بسوں سے عوام کو ایک فیصد بھی آسانی ملنے کی امید نہیں صرف یہی نہیں بلکہ فردوس میں عوام کو دوسری سواری کے حصول کے لئے اور وہاں سے بسوں‘ ویگنوں اور سواری والی ٹیکسیوں کے ٹھہرنے اور مڑنے کی بھی جگہ نہیں۔ اس وقت بھی فردوس تک سخت رش کا جو عالم ہوتا ہے اس کا اثر پورے شہر کی ٹریفک پر پڑ رہا ہے اور شہر میں ٹریفک کانظام بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ بیس بسیں ہوں تو دس بسیں ایک طرف کی روٹ کی ہوں گی جو سواریوں کی ضرورت کے لئے کافی نہیں۔ ایک اور مشکل کی سمجھ نہیں آتی کہ فردوس میں بی آر ٹی کا جو پل بنایا گیا ہے وہ پل جو اس وقت عام ٹریفک کے لئے مستعمل ہے بعد ازاں اس کا کیا انتظام ہوگا اس بارے بی آر ٹی کے منصوبہ سازوں نے عوام کو اعتماد میں نہیں لیا۔ مزید بسیں کب تک آئیں گی اس بارے بھی کسی واضح وقت کا تعین نظر نہیں آتا۔ بی آر ٹی کی تکمیل میں سال کا عرصہ بھی لگ جائے اور دیگر انتظامات و اقدامات کی تکمیل میں وقت بھی لگے لیکن کم از کم چھ ماہ کی مدت تکمیل والا منصوبہ دوسرے سال تو کم از کم اس قابل ہونا چاہئے تھا کہ بسیں چلتی نظر آتیں۔ ساڑھے تین سو بسوں میں سے بیس بسیں روٹ کے ایک تہائی حصہ پر چلیں گی تو کیا اسے حکومت کی ناکامی سے تعبیر نہیں کیا جائے گا۔ کیا اس ادھورے اور ناقص انتظامات کے ساتھ ایک جدید بس سروس کا اجراء ہوسکے گا ان جیسے سوالات کا حکومت کو ابھی سے سوفٹ افتتاح کی وکالت کرنے والے منتظمین سے جواب طلب کرلینا چاہئے تاکہ عین وقت پر جگ ہسائی نہ ہو۔ہم سمجھتے ہیں کہ اب بھی ایک ماہ سے زائد کا عرصہ حکومت اور سرکاری اداروں کے پاس ہے بجائے اس کے کہ محض میڈیا پر دعوے کئے جائیں اور عین وقت پر خفت اور ناکامی کا سامنا کرناپڑے اس صورتحال کا ایک مرتبہ پھر جائزہ لینے ‘ مشکلات کا حل تلاش کرنے اور انتظامات میں بہتری لانے کی ضرورت ہے۔ بہتر ہوگا کہ عوام کو وہی بات بتائی جائے اور وہ وعدہ کیاجائے جو ممکن ہو۔ جو مسائل و مشکلات ہوں اس سے عوام کو آگاہ کیا جائے اور کوئی ایسا دعویٰ نہ کیا جائے جو سابق وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کے چھ ماہ کے اندر بی آر ٹی کے منصوبے کی ریکارڈ تکمیل کے دعوے کے مماثل ہو اور اس کا حشر بھی اسی دعوے جیسا ہو۔ توقع کی جانی چاہئے کہ حکومت اور سرکاری ادارے اس ضمن میں سابقہ غلطیاں دہرانے کی بجائے ان غلطیوں کا ازالہ کرنے کی بھرپور سعی کرکے 23مارچ کو ادھورا اور سوفٹ ہی سہی بی آر ٹی کے پہلے مرحلے کا افتتاح یقینی بنائیں گے۔

متعلقہ خبریں