Daily Mashriq

دین کے مطالعے کا مخالفین پر اثر‘ ہم محروم؟

دین کے مطالعے کا مخالفین پر اثر‘ ہم محروم؟

ہالینڈ کے اسلام مخالف کتاب لکھنے والے اور گستاخانہ خاکوں کے مقابلے کا اعلان کرنے والے ملعون کی پارٹی کے رکن کاد وران تصنیف اسلام کا مطالعہ کرتے ہوئے اسلام کی حقانیت کا قائل ہو کر قبول اسلام دین اسلام کا معجزہ اور اس کی حقانیت کی دلیل ہے۔ ایک بد ترین اسلام مخالف شخص کا قبول اسلام ہم جملہ مسلمانوں کے لئے باعث اطمینان اور باعث مسرت لمحہ بھی ہے لیکن اگر ہم ٹھنڈے دل سے جائزہ لیں تو یہ حقیقت ہم پر کھل کر آشکارہ ہوگی کہ مخالفین تو اسلام کی روشن حقیقت کے قائل ہو رہے ہیں مگر ہم کلمہ گو عمل کے نہیں بس زبانی کلامی ہی مسلمان رہ گئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارا عقیدہ روز بروز کمزور پڑتا جا رہا ہے اور ہم انحطاط کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ کیا یہ ہم جملہ مسلمانوں کے لئے ضروری نہیں کہ ہم قرآن و سنت کا مطالعہ کسی فرقے اور کوئی خاص ذہنیت اور نقطہ نظر بنا کر نہ کریں بلکہ مکمل طور پر غیر جانبداری اور حصول رشد و ہدایت کے نقطہ نظر سے کریں۔ اس کے بعد ہی ہم عملی اور حقیقی طور پر کردار و عمل کے مسلمان بن سکیں گے۔ اسلام کا حقیقی مطالعہ اور دین اسلام کو سمجھنا ہر عاقل بالغ مسلمان کا بنیادی فریضہ ہے اور خاص طورپر عصری تعلیم یافتہ اور با شعور طبقے کو چاہئے کہ وہ اسلام کے مطالعے کو معمول بنائیں اور من حیث المجموع یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم جتنا دین مسجد مکتب مدرسہ سکول ‘کالج اور اپنے مطالعے سے سیکھیں اس پر عمل کرنے کی پوری سعی کریں۔ اسلام کا مطالعہ جب مخالفین اور اغیار کے ذہن و قلوب میں تبدیلی کا باعث بنتا ہے تو ہمارے کردار و عمل پر اثر انداز کیوں نہ ہوگا اور ہم حقیقی مسلمان کیوں کر نہ بن پائیں؟

شوق دا مل کوئی نہ

امریکی شہری کا 1 لاکھ 10 ہزار ڈالر پرمٹ فیس ادا کرکے مارخور کا شکارشوق دا مل کوئی نہ کے زمرے میں آتا ہے۔ بہر حال برائن کنسل پاکستان میں رواں برس نایاب قومی جانور کا شکار کرنے والے تیسرے امریکی شہری ہیں۔ 21 جنوری کو ایک اور امریکی شہری نے 1 لاکھ 5 ہزار ڈالر پرمٹ فیس کے عوض مارخور کا شکار کیا تھا۔علاوہ ازیں 16 جنوری کو بھی امریکہ ہی کے شہری نے ایک مارخور کا شکار کیا تھا جس کے لیے اس نے حکومت کو 1 لاکھ ڈالر پرمٹ فیس ادا کی تھی۔ واضح رہے کہ گلگت بلتستان میں ایک سال کے دوران شکار کے لیے موزوں موسم میں غیر ملکی شکاریوں کی جانب سے 50 مارخور کا شکار کیا گیا۔اسی طرح چترال میں بھی بھاری رقم کے عوض مار خور کا شکارہوتا ہے اس رقم میں کمیونٹی کو بھی حصہ ملتا ہے۔ اگرچہ بعض عناصر مار خور کے وجودکو خطرہ درپیش ہونے کا تاثر دیتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ اب اس جانور کی چترال سے لے کر گلگت بلتستان تک خاصی تعداد ہوچکی ہے جس کے شکار کے اجازت نامے سے خاصازر مبادلہ کمایا جاتا ہے۔ ٹرافی ہنٹنگ سے تو اس قومی جانور کے وجود کو کوئی خطرہ لاحق نہیں البتہ اس کے غیر قانونی شکار سے اس جانور کی نسل کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں جس کے تدارک پر مزید توجہ کی ضرورت ہے۔ مار خور کا شکار ایک بین الاقوامی شوق ہے اس کا تحفظ کرکے اور غیر ملکیوں کو قانونی شکار کے مواقع دے کر شکار کا شوق رکھنے والوں کے علاوہ سیاحت کے شوقین حضرات کو بھی متوجہ کیا جاسکتا ہے جس سے آمدنی و روزگار کے مواقع میں اضافہ ہوگا۔

قبر کی بے حرمتی کا افسوسناک واقعہ

کوہاٹ کے علاقہ کوٹ بادو زیارت میں نامعلوم افراد کاصدیوںپرانی ولی اللہ کی قبر کی بے حرمتی کا مقصد جو بھی ہو المیہ یہ ہے کہ اب ہمارے معاشرے میں مقابر کی بھی حرمت کا خیال نہیں رکھا جاتا۔ہم سمجھتے ہیں کہ قبروں پر حاضری دینے اور اس حوالے سے نظریات میں فرق کی گنجائش ہے لیکن کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ قبریں کھود کر اینٹیں اکھاڑ کر اس کی بے حرمتی کرے۔ اس قسم کے واقعات کے پس پردہ دولت اور نوادرات کی تلاش بھی ایک عنصر ہے۔ بہر حال کوہاٹ کا واقعہ اسلامی روایات اور علاقائی روایات دونوں کی خلاف ورزی ہے جس کے مرتکب افراد کو گرفتار کرکے سزا دینی چاہئے۔ اس ضمن میں حکام کو اپنا فرض ادا کرنے میں پوری ذمہ داری کامظاہرہ کرنا چاہئے۔معاشرے میں اس قسم کی حرکتوں سے جو بے چینی اور نفرت پھیلتی ہے اس طرح کے واقعات کے پس پردہ اس قسم کی سوچ اور اس کے پس پردہ کار فرما عناصر کا کھوج لگانا بھی ضروری ہے۔ اس قسم کے واقعات کا حاصل توکچھ نہیں ہوتا سوائے اس کے کہ اس سے بے چینی ‘ بے زاری اور نفرت پھیلے۔ بہر حال اس واقعہ کے پس پردہ کیا عوامل کارفرما تھے اس کا علم اس واقعہ کے ذمہ دار افراد کی گرفتاری کے بعد ہی درست طور پر ہوسکے گا۔ توقع کی جانی چاہئے کہ اس واقعہ کے ذمہ دار افرادجلد کٹہرے میں نظر آئیں گے۔

متعلقہ خبریں