Daily Mashriq

مقبوضہ کشمیر‘ عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کی ضرورت

مقبوضہ کشمیر‘ عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کی ضرورت

یوم یک جہتی کشمیر پر جس طرح ملک کے کونے کونے سے کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے لیے آواز بلند ہوئی ہے اس کی نظیر گزشتہ کئی برسوں کے دوران نہیں ملتی۔ طالب علموں ‘ تاجروں‘ نوجوانوں‘ مردوں اور عورتوں کے جوش و جذبہ کا اظہار نہایت توانا اور زوردار تھا اور اسی توانا موقف کا اظہار سیاسی اور سماجی قیادت اور سول سوسائٹی کی طرف سے ہوا۔ بنیادی طور پر یہ خود کشمیریوں کے عزم و استقلال اور روزانہ کی بنیاد پر بیش بہا جانی قربانیوں اور اپنے جائز مؤقف پر خلوص اور شجاعت کے ساتھ قائم رہنے والی جدوجہد کا نتیجہ ہے جس کے باعث یہ فضا محسوس ہورہی ہے کہ اب تنازع کشمیر کا حل زیادہ دور نہیں ہے۔ یہ کشمیریوں کی دلیری ‘ حوصلہ مندی اور استقلال کا نتیجہ ہے کہ کشمیر اور پاکستان سے باہر بھی ان کی جدوجہد کے ساتھ یک جہتی کا مؤثر اظہار ہوا ہے جس کی ایک مثال برطانوی پارلیمنٹ میں اس موقع پر تمام پارٹیوں کے ارکان پارلیمنٹ پر مشتمل کمیٹی کے زیر اہتمام اجلاس ہے۔ اس اجلاس کا اہتمام برطانوی پارلیمنٹ کی کشمیر کمیٹی نے کیا جو سبھی پارٹیوں کے ارکان پر مشتمل ہے۔ اس میں نہ صرف پارلیمانی پارٹیوں کے ارکان نے شرکت کی بلکہ ناروے کے سابق وزیر اعظم بھی شریک ہوئے۔ برطانوی ارکان پارلیمنٹ کے علاوہ ہاؤس آف لارڈز کے ارکان ‘ کونسلر اور میئر بھی شریک ہوئے۔ پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے صدر آزاد کشمیر مسعود خان‘ آزاد کشمیر کے سابق وزرائے اعظم ‘ برطانوی پاکستانی کمیونٹی کے نمایاں ارکان ‘ پاکستان کے ہائی کمشنر برائے برطانیہ اور دانشوروں اور سول سوسائٹی کے رہنماؤں نے بھی اس اجلاس میں شرکت کی۔ اس تقریب کا مقصد عالمی کمیونٹی پر کشمیریوںکی جدوجہد کی حقانیت واضح کرنا تھا اور اس اجلاس کو کشمیریوں کی جدوجہد کا ایک سنگ میل قرار دیا جا سکتا ہے کیونکہ کشمیر اور پاکستان کے بعد یہ بین الاقوامی سطح پر تنازع کشمیر کی جدوجہد کو اجاگر کرنے کی طرف ایک اہم قدم ہے۔ کشمیریوں کے حق میںایک اور نمایاں احتجاج کابل میں خواتین نے کیا۔ کابل انتظامیہ بھارت کی ہمنوا سمجھی جاتی ہے اس لیے کابل میں یہ احتجاج جو محض خواتین پرمشتمل تھا اپنی جگہ خصوصی اہمیت رکھتا ہے اور اس میں محض خواتین کی شرکت سمجھ میں آتی ہے جو یقینا اپنے اہل خانہ اور تمام افغانوں کی نمائندگی کر رہی تھیں۔ مقبوضہ کشمیر میں مکمل ہڑتال تھی۔ بھارتی فوج نے کرفیو بھی لگایا ہوا تھا جو بھارت کی بہیمانہ پالیسی کا حصہ ہے لیکن پاکستان میںکشمیریوں کے حق میں بھرپور احتجاج کے علاوہ برطانیہ اور افغانستان میں بھارت کی وحشت اور بہیمیت کے خلاف احتجاج ایک اہم پیش رفت ہے۔ یہ اس کے باوجود ہوا کہ بھارت غیر ملکی صحافیوںکو مقبوضہ کشمیر میں داخل ہونے کی اجازت نہیںدیتا۔ آئے دن مقبوضہ کشمیر میں انٹرنیٹ بند کر دیتا ہے اور اس کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ کشمیریوں کی آواز دنیا میں نہ سنی جا سکے ۔ تاہم سوشل میڈیا کے دور میں کسی نہ کسی طرح کسی نہ کسی حد تک کشمیریوں کی جدوجہد کی خبریں دنیامیں پہنچتی رہتی ہیں۔ برطانوی پارلیمان میں یوم یک جہتی کشمیر کے اجلاس سے خطاب کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ یورپی پارلیمنٹ میں بھی ایسی ہی تقریب کا عنقریب اہتمام کیا جائے گا۔ برطانوی پارلیمان کے اجلاس کے اعلامیہ میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے ہاتھوں بے گناہ انسانی جانوں کے ضیاع اور انسانی حقوق کی پامالی کی بھرپور مذمت کی گئی ہے۔ وزیر خارجہ نے یہ بھی بتایا ہے کہ بھارت نے برطانوی پارلیمنٹ میں ہونے والے اجلاس کو روکنے کی بہت کوشش کی لیکن پارلیمنٹ کے ارکان نے یہ کوشش کامیاب نہ ہونے دی۔ افغانستان میں یوم یک جہتی کشمیر پر بھارت کے خلاف محض خواتین کا احتجاج ‘ برطانوی پارلیمنٹ میں آل پارٹیز کشمیر گروپ کے زیر اہتمام اجلاس اور اس کو روکنے کی بھارتی کوشش اور مقبوضہ کشمیر میں آئے دن بھارت کی طرف سے انٹرنیٹ پر پابندی یہ آشکار کرتی ہے کہ بھارت چاہتا ہے کہ کشمیریوں پر اس کے مظالم عالمی کمیونٹی کو نظر نہ آئیں۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں فوج گردی کے ذریعے مسلسل خوف و ہراس کی کیفیت رکھنے کی پالیسی پر گامزن ہے۔ آئے دن چند کشمیری نوجوانوں کی شہادت اور خواتین کے ساتھ بدسلوکی بھی یہی گواہی دیتی ہے کہ بھارت کشمیریوں کا حوصلہ توڑنے اور انہیں بے بسی اور لاچارگی میں مبتلا کرنا چاہتا ہے ۔ اس پالیسی کا ثبوت وہ لائن آف کنٹرول پر آئے روز فائرنگ کے ذریعے بھی دے رہا ہے۔ لائن آف کنٹرول پر فائرنگ کے لیے وہ پاکستان کو ذمہ دار قرار دیتا ہے اور مقبوضہ کشمیر میںمظالم کو وہ عالمی کمیونٹی سے اخفا میں رکھنے کی حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہے۔ پاکستان جو کشمیریوں کی اخلاقی‘ سیاسی اور سفارتی امداد کے وعدے کا پاسدار ہے اس کا فرض ہے کہ وہ کشمیریوں کے ابتلا کو دنیا پر واضح کرے ‘ کشمیریوں کے مؤقف کو دنیا پر آشکار کرے اور عالمی کمیونٹی کو مقبوضہ کشمیر میں غیر انسانی مظالم سے آگاہ کرے۔ پاکستان کے سفارت خانوں کے لیے ضروری ہونا چاہیے کہ دنیا میں جہاں بھی کشمیری موجود ہیں بھارت کا بہیمانہ چہرہ ان ملکوں کے عوام پر آشکار کرنے میں ان کی مدد کی جائے۔ عالمی کمیونٹی پر بھارت کے مظالم آشکار ہوں گے تو دنیا کی سیاسی قیادت پر دباؤ بڑھے گا کہ وہ بھارت کو تنازع کشمیر کے حل کی طرف لانے کی کوشش کرے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے مظالم آشکار ہو ں گے تو دنیا کو ’’سب سے بڑی جمہوریت‘‘ کا اصلی گھناؤنا چہرہ نظر آئے گا۔ بھارت کی جمہوریت کے فریب کا پردہ دنیا کے سامنے چاک ہونا چاہیے اور اس کوشش میں پاکستان کے سفارت خانوں کو دنیا کے مختلف ممالک میں مقیم کشمیریوں کی سیاسی‘ اخلاقی اور سفارتی مدد فراہم کرنے کی بھرپور کوشش کرنی چاہیے۔ عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کی ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں