Daily Mashriq

پائیدار ترقی کے حصول کے اہداف

پائیدار ترقی کے حصول کے اہداف

سال 2015 میں منعقدہ اقوام متحدہ کے سربراہی اجلاس میں پائیدار ترقی کے حوالے سے طے پائے جانے والے سترہ اہداف اب تک عالمی برادری کی جانب سے منظور کردہ انسانی ترقی کا سب سے اُمید افزا اور شاندارایجنڈا ہے۔ البتہ ان اہداف کے حصول کے لیے یہ ضروری ہے کہ معاشی ترقی کے ساتھ ساتھ سماجی اشتراک و شمولیت اور ماحولیاتی استحکام وتحفظ کے لیے بھی بیک وقت سرگرم عمل رہا جائے۔

یہ سترہ اہداف اس بات کے متقاضی ہیں کہ انہیں قومی ترقیاتی پروگراموں کاباقاعدہ حصہ بنایا جائے اور ان پروگراموں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ضروری اہلیت پیدا کرنے کے ساتھ درکار سرمائے کا بھی بندوبست کیا جائے۔ پائیدار ترقی کے ان اہداف کو حاصل کرنے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ درکار سرمائے کا نہ ہونا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ان اہداف کے حصول کے لیے سرکاری اور نجی اشتراک کے تحت توانائی، زراعت،صحت، تعلیم اور دیگر شعبوں میں سالانہ تیس کھرب ڈالر کی اضافی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ اس سرمایہ کاری کا تقریباً ستر فیصد حصہ ترقی پذیر ممالک میں لگنا چاہیے کیونکہ سرمایہ کاری کے لیے یہ ممالک موزوں ترین ہیں کہ یہاں ریٹرن آن انویسٹمنٹ یعنی سرمایہ کاری پر منافع ترقی یافتہ ممالک سے کئی گنا زیادہ ملنے کی توقع ہوتی ہے۔

اگر ہم اس تین ٹریلین ڈالر کی رقم کا موازنہ عالمی جی ڈی پی سے کریںجو اس وقت تین فیصد کی سالانہ نمو کے ساتھ ایک سو بیس ٹریلین ڈالر ہے تو یہ رقم کچھ بہت زیادہ معلوم نہیں ہوتی۔اس کے علاوہ دنیا بھر میںسٹاک اثاثوں کی مالیت پانچ فیصد سالانہ نمو کے ساتھ تین سو ٹریلین ڈالر ہے ۔ان رقوم کا بڑا حصہ ان اہداف میں سرمایہ کاری کے لیے استعمال ہو سکتا ہے۔

سال 2016کی ایک رپورٹ کے مطابق پائیدار ترقی کے ان اہداف کے حصول کے لیے سرمایہ کاری کا موزوں ترین شعبہ انفراسٹرکچر ہے جس میں توانائی،مواصلات،ٹرانسپورٹ،پانی کے ذخائر اور فضلہ ٹھکانے لگانے کے منصوبے شامل ہیں۔ پائیدار اور دیرپا ترقی کے حصول کے لیے تعمیراتی انفراسٹرکچر کے ساتھ ساتھ انسانی اور سماجی انفراسٹرکچر پر بھی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے کہ اس سے یہ اہداف حاصل کرنے کے ساتھ ان کے سماجی اشتراک و شمولیت اور آلودگی سے بچاؤ کے مقاصد بھی پورے ہوں گے۔

ترقی پذیر ممالک کو بھی انفراسٹرکچر کے حوالے سے اپنی ترجیحات بدلنا ہوں گی۔ امریکہ اور دیگر یورپی ممالک ہر سال اپنے جی ڈی پی کا دو فیصد انفراسڑکچر پر سرمایہ کاری میں خرچ کرتے ہیں جبکہ ترقی پذیر ممالک میں یہ شرح بہت کم ہے۔ ان ممالک کواپنے جی ڈی پی کا کم از کم چھ سے آٹھ فیصد حصہ اس مد میں لگانا چاہیے کہ اس سے ان کے سالانہ جی ڈی پی میں پانچ فیصد تک اضافہ متوقع ہے۔ دنیا بھر میں موجود ترقیاتی بنک ایسے ممالک میں مجموعی طور پر تقریباً چالیس ارب ڈالر کی سالانہ سرمایہ کاری کرتے ہیں جبکہ نجی شعبے کی جانب سے صرف پندرہ ارب ڈالر ہی اس مد میں لگائے جاتے ہیں۔ اس سرمایہ کاری میں بہتر منصوبہ بندی سے اضافہ ممکن ہے۔

ان منصوبوں پر مکمل عمل داری او رمعاشیاتی ڈھانچے اور نظم میں ضروری تبدیلیوں کے لیے اگلے پندرہ برسوں میں نوے ٹریلین ڈالر یعنی چھ ٹریلین ڈالر سالانہ درکار ہوں گے جبکہ اس میں ہر برس اوسطاً دو سے تین ٹریلین ڈالر کافرق سامنے آتا ہے۔ یہ فرق پورا کرنے کے لیے حکومتوں اور نجی شعبے، دونوں کو ہر برس ایک تا ڈیڑھ ٹریلین ڈالر جبکہ ترقیاتی بینکوں کو ڈیرھ سو بلین ڈالر دینا پڑیں گے۔

انفراسٹرکچر کی مد میں سرمایہ کاری کو مؤثر اور بہتر بنانے کے لیے ان پالیسیوں پر عمل ضروری ہے: ترقیاتی بینکوں کی ایسے منصوبوں کے حوالے سے طویل مدتی سرمایہ کاری کے لیے اہلیت میں اضافہ کیا جائے۔ ویلتھ فنڈز، پنشن فنڈز، انڈومنٹ فنڈز سے ملحق انشورنس سیکٹر کو اپنے تیس ٹریلین ڈالرکے سرمائے میں سے ایک بڑا حصہ اس مد میںسرمایہ کاری کے لیے خرچ کرنے پرآمادہ کیا جائے۔ترقی پذیر ممالک کی اپنی منڈیوں کے حجم کو بڑھایا جائے۔ کاروباری طبقے کو سہ ماہی بنیادوں پر منافع بٹورنے کی بجائے طویل المدتی منافع بخش پروگرام ترتیب دینے کی جانب راغب کیا جائے۔ چین کے ون بیلٹ ون روڈ جیسے منصوبوں کی طرح خطے میں جاری ایسے دوسرے منصوبوں میں شراکت داری کو یقینی بنایا جائے۔ سرمایہ کاری کے لیے مالی امور کو تیز رفتار اور سہل بنانے کے لیے بلاک چین اور ایسی دیگر ٹیکنالوجی کے استعمال کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ترقی پذیر ممالک کو ایسے منصوبوں کی تیاری کے لیے مدد و معاونت فراہم کی جائے۔ اس کے علاوہ ان ممالک میں ایک ایسے ’’سسٹین ایبل انفراسٹرکچر آرگنائزیشن‘‘ کے ادارے کا قیام بھی عمل میں لایا جا سکتا ہے جو ان امور میں کلی طور پر راہنمائی اور معاونت فراہم کرنے کے ساتھ سرمائے کو بہتر انداز میں مختص اور استعمال کرنے کی تجاویز دے سکے۔ جی ٹوئنٹی ممالک کی جانب سے ایک ایسے ادارے کی منظوری دی جا چکی ہے البتہ ترقی پذیر ممالک اس ادارے سے فی الوقت استفادہ نہیں کر سکیں گے مگر ضرورت اس امر کی ہے کہ اقوام متحدہ کی چھتری تلے یہ ادارہ تشکیل دیا جائے جو حکومتوں اوردیگر متعلقہ فریقین کے مابین روابط استوار رکھے اور ایسے اقدامات تجویز کرے جو ان اہداف کے حصول میں معاون ثابت ہو سکیں۔

متعلقہ خبریں