Daily Mashriq

انہونی کو ہونی کردے ہونی کو انہونی

انہونی کو ہونی کردے ہونی کو انہونی

کیا وقت واقعی بدل رہا ہے؟ آثار تو ایسے ہی نظر آتے ہیں اور اس بات کا ثبوت گزشتہ روز مختلف ٹی وی چینلز پر چلنے والی وہ رپورٹ ہے جس میں بتایا گیا کہ کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے افغانستان کی خواتین نے بھی ریلی نکالی۔ رپورٹ میں جو فوٹیج شامل تھی اس میں اگرچہ کم تعداد میں ہی سہی شٹل کاک برقعہ اور چادریں اوڑھے ہوئی افغان خواتین مظلوم کشمیریوں کے حق میں ہاتھوں میں بینر اٹھائے ہوئے مظاہرہ کرتی نظر آرہی تھیں۔ یہ ایک بہت بڑا پیغام ہے جو افغانستان جیسے ملک کے اندر سے کشمیریوں کے حق میں سامنے آیا۔ بات تعداد کی نہیں بلکہ اس جذبے کی ہے جو افغان معاشرے کے اندر سرایت کر رہا ہے اور اس کی اہمیت کا اندازہ ان لوگوں نے ضرور لگایا ہوگا جو افغانستان کی خارجہ پالیسیوں کے ذمہ دار ہیں کیونکہ افغان خارجہ پالیسی ہندوستان دوستی اور بھارتی حکمرانوں کی ہر قیمت پر خوشنودی حاصل کرنے سے عبارت ہے وہاں بھارتی جارحیت پر انگلی اٹھانے کے بارے میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا۔ چہ جائیکہ بھارتی افواج کے مظالم پر احتجاج کرکے عالمی سطح پر پیغام بھیجا جائے۔ شاید ایسی ہی صورتحال پر مرحوم سجاد بابر نے یوں تبصرہ کیا تھا

کرن اترنے کی آہٹ سنائی دیتی ہے

میں کیا کروں مجھے خوشبو دکھائی دیتی ہے

یوم یکجہتی کشمیر پر پوری دنیا میں مظاہرے بھی ہوتے ہیں‘ ریلیاں نکالی جاتی ہیں‘ تقاریب کا انعقاد کیا جاتا ہے تاکہ اقوام متحدہ جاگ جائے جو ستر سال پہلے کشمیر پر کچھ قراردادیں منظور کرکے خواب خرگوش کے مزے لے رہی ہے۔ اس دوران کبھی کبھی جاگ جاتی ہے مگر تب جب اسے بڑی طاقتوں کی جانب سے اشارے موصول ہوتے ہیں اور اسے کچھ ایسے فیصلے کرنے ہوں جن کے نتیجے میں مسلمان دنیا کو زک پہنچانا مقصود ہو۔ چند برس پہلے مشرقی تیمور کا مسئلہ اٹھ کھڑا ہوا تو امریکی آشیر باد پر اس نے فوری اقدامات کرتے ہوئے اسے علیحدگی کا سرٹیفیکیٹ بھی تھما دیا اور عملی طور پر علیحدہ کرکے بھی دکھا دیا۔ عراق‘ لیبیاء کے خلاف اقدامات اٹھانا تھے تو امریکی قیادت میں نیٹو ممالک کو وہاں کھل کھیلنے کی آزادی دی گئی اور ان ممالک پر جارحیت مسلط کرکے انہیں تہس نہس کردیا گیا۔ اس سے پہلے یہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل ہی تھی جس نے ان دونوں ممالک میں وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی تلاشی کے لئے اسلحہ ماہرین بھیجے جن کی جھوٹی رپورٹوں پر دنوں ممالک کے اسلحے کو تلف کرکے انہیں بے دست و پا کیاگیا اور ان کی حیثیت بھیڑئیے کے آگے بکری والی بنا دی۔ اس کے بعد امریکی قیادت میں افواج بھوکے بھیڑیوں کی مانند ان د ونوں ملکوں پر ٹوٹ پڑیں اور ان کی تکہ بوٹی کرکے رکھ دی۔ مگر جب بھارتی افواج گزشتہ کئی برس سے مقبوضہ کشمیر میں بے گناہوں اور نہتے بوڑھوں‘ خواتین اور بچوں کو بربریت کا نشانہ بنا رہی ہیں‘ غلیل چلانے اور پتھر پھینکنے والوں کو بھی دہشت گرد قرار دینے کے بھارتی مسلح افواج کے کمانڈر ان چیف کے بیانات پر خاموشی اختیار کی جا رہی ہے‘ پیلٹ گنز سے امن پسند شہریوں کو نشانہ بنا کر معذور اوراندھا کر رہی ہیں تو ان پر کوئی آواز اٹھ رہی ہے نہ ہی بھارتی جارحیت کو روکنے کے لئے کوئی آگے آرہا ہے۔ مگر اب کابل جیسے بھارت دوست شہر سے کشمیریوں کے لئے حق خود ارادیت کی آواز اٹھنا بذات خود کسی معجزے سے کم ہر گز نہیں ہے۔ اس سے بھارت کس قدر سیخ پا ہو کر تلملا رہا ہوگا یقینا اس پر بھارت میں بھی تبصرے ہو رہے ہوں گے اور بھارتی میڈیا نے آسمان سر پر اٹھا لیا ہوگا۔ بھارتی حکمرانوں کو اب نوشتہ دیوار پڑھ لینی چاہئے جہاں یہ لکھا ہوا ہے کہ

لمحے لمحے ہے آواز شکست

میری تاریخ ندامت کی ہے

پاکستان شروع ہی سے اس مسئلے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کا خواہشمند ہے مگر یہ بھارت ہے جو نہ تو مذاکرات کے لئے تیار ہوتا ہے نہ ہی کشمیری عوام کو سلامتی کونسل کی قرار دادوں کے مطابق استصواب رائے کا حق دیتا ہے بلکہ طاقت کے بل پر کشمیری عوام کو غلامی کی زنجیروں میں جکڑ کر رکھنا چاہتا ہے۔ پاکستان کشمیریوں کی سیاسی‘ اخلاقی اور سفارتی سطح پر حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس سلسلے میں ہر سال 5 فروری کو یوم یکجہتی کشمیر جبکہ 27اکتوبر کو کشمیریوں کے ساتھ بھارتی مظالم کے خلاف یوم سیاہ منا کر عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کے لئے تقاریب‘ ریلیوں اور انسانی زنجیر بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ان دونوں دنوں یعنی 5فروری اور 27اکتوبر کو پورے ملک میں تقاریب سرکاری سطح پر بھی منعقد ہوتی ہیں جبکہ عوامی سطح پر بھی مختلف تنظیمیں مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کے لئے تقاریب کا اہتمام کرتی ہیں۔ پشاور میں محکمہ ثقافت ان دونوں مواقع پر بڑے بھرپور انداز میں ریلیوں کا انعقاد کرتا ہے اور شہر کے سب سے بڑے ثقافتی مرکز نشتر ہال میں تقاریب بھی منعقد کرکے نوجوان نسل کو اس مسئلے کی حقیقت سے آگہی دلوانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ان تقاریب میں ممتاز دانشوروں‘ ماہرین سیاسیات‘ اساتذہ کرام اور ادباء و شعراء کو دعوت دے کر بلایا جاتا ہے جو نوجوان نسل کو اس مسئلے کے بارے میں اپنی تقریروں‘ خطابات اور رشحات قلم کے ذریعے آگہی دیتے ہیں تاکہ ان ذہنوں میں اس مسئلے کو زندہ رکھا جائے۔(باقی صفحہ7)

متعلقہ خبریں