Daily Mashriq

امریکہ کے بعد دنیا کی سپر طاقت کون؟

امریکہ کے بعد دنیا کی سپر طاقت کون؟

اس وقت دنیا میں5 ایسی طاقتیں ہیں جنکو دنیا کی متوقع سُپر پاور یعنی آنے والے دور کی بڑی طاقتیں کہا جا سکتا ہے ۔ ان میں چین، روس، بھارت، برازیل ،اور جرمنی شاملہیں۔ سوویت یونین یعنی متحدہ روس کے ٹکڑے ہونے سے پہلے دنیا میں دو بڑی طاقتیں تھیں یعنی امریکہ اور سوویت یونین ۔ مگر امریکہ کے پاکستان اور افغانستان کے ہاتھوں شکست کھانے کے بعد اب اس کو سُپرپاور نہیں کہا جا سکتا۔ حال ہی میں طالبان اور امریکہ کے درمیان ایک معاہدہ ہواہے ۔ اس کی رو سے امریکہ اور نیٹو کی افواج 18 مہینوں میں افغانستان سے انخلا کریں گی۔اگر ہم غور کریں تو کسی ملک کی آبادی ، رقبہ ،فی کس آمدنی ، اقتصادی ترقی کی شرح، مسلح افواج کی تعداد اور دفاع پر خرچہ اور سائنس اور ٹیکنالوجی ایسے عوامل ہیں جن کو ہم کسی ملک کی ترقی اور کامرانی کا زینہ سمجھ سکتے ہیں اور کسی ملک یا ریاست کے سپر پاور بننے کی بات کر سکتے ہیں۔ اگر ہم ان متوقع سُپر پاور کے مختلف طریقوں یعنی سوشل انڈیکیٹر کے لحا ظ سے موازنہ کریں تو ان چھ ممالک کے معاشی، سماجی ، اقتصادی اور ملٹری کے مختلف فیکٹرز میں تھوڑا بہت فرق ہے۔ کسی کو اقتصادی لحا ظ سے ووسرے پر فو قیت حا صل ہے اور کسی ملک کو ملٹر ی کے لحا ظ سے دوسرے ملک پر بر تری حا صل ہے ۔اگر ہم غو ر کریں تو چین کی آبادی ایک ارب 42 کروڑ، بھارت کی ایک ارب 30 کروڑ، امریکہ کی آبادی 33کروڑ، برازیل کی 22 کروڑ، روس کی آبادی 16 کروڑ اور جرمنی کی آبادی 9 کروڑ ہے۔ کسی ایک ملک کی آبادی جتنی زیادہ ہوگی تو اسی طرح وہ دنیا کے لئے مارکیٹ تصور ہوگا ۔ اور دنیا اس کی ما رکیٹ سے مستفید ہوگی۔ اسی طرح بھارت کی اقتصادی ترقی کی شرح سب سے زیادہ7.5 فی صد،چین کی اقتصادی ترقی کی شرح 6.7فی صد،امریکہ کی اقتصادی ترقی کی شرح 3.6فی صد، روس کی اقتصادی ترقی کی شرح 1.8فی صد,، جرمنی کی اقتصادی ترقی کی شرح 0.3فی صد ہے اور برازیل کی 0.2 فی صد ۔اگر ان ممالک کی فی کس آمدنی کی شرح سے موازنہ کریں تو امریکہ کی فی کس آمدنی63 ہزار ڈالر، جرمنی کی 51ہزار ڈالر ہے چین کی 17000ڈالر،برازیل کی 15000ڈالر روس کی 10ہزار ڈالر اوربھارت کی فی کس آمدنی7200 ڈالر ہے ۔اگر مسلح افواج اور پیرا ملٹری افواج کے حساب سے ان ممالک کا موازنہ کریں تو امریکہ کی مسلح افواج کی تعداد 33 لاکھ اور دفا ع پر ا مریکہ کا خرچہ 660ارب ڈالر ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ پو ری دنیا کے سالانہ دفاعی اخراجات 1700 ارب ڈالر ہیں چین کی مسلح افواج کی تعداد34لاکھ اور مسلح افواج پر سالانہ خرچ 180 ارب ڈالر، روس کی مسلح افواج کی تعداد 34لاکھ اورسالانہ دفاعی اخراجات67 ارب ڈالر، بھار ت کی مسلح افواج کی تعدا 50 لاکھ اور دفاعی اخراجات63ارب ڈالر، برازیل کی مسلح افواج کی تعداد 2 لاکھ اور دفاعی اخراجات 30 ارب ڈالر، جرمنی کی مسلح افواج کی تعداد 3 لاکھ اور دفاعی اخراجات 44 ارب ڈالر ہیں۔ اگر ہم مندرجہ بالا ممالک کے جُغرافیائی محل و قوع اور ان ممالک کے رقبے پر نظر ڈالیں تو ان ممالک میں روس 1 کروڑ 81لاکھ مربع کلومیٹر کے لحا ظ سے پہلے نمبر پر ہے ۔ چین کا رقبہ 98 لاکھ مربع کلومیٹر ، امریکہ کا93 لاکھ مربع کلومیٹر ، برازیل 86لاکھ مربع کلومیٹر ، بھارت 34لاکھ مربع کلومیٹر اور جرمنی کا رقبہ 4 لاکھ مربع کلومیٹر ہے۔اگر ہم مندرجہ بالا عوامل کو دیکھیں تو اس میں بعض ممالک ایک لحا ظ سے توانا اور طاقت ور ہیں جبکہ دوسری طر ف ان میں کچھ ایسے ممالک ہیں جو دوسرے عوامل کے لحا ظ سے ۔بہر حال افغانستان کے ہاتھوں امریکہ اور اس کے اتحا دیوں کی شکست کے بعد امریکہ کی سپر پاورکا بھرم ٹوٹ گیا اور اب نئے ممالک جیسے چین ، روس اور بھارت سپر پاور بننے کی کو شش کریں گے۔اگر ہم تجزیہ کریں تو امریکہ ، روس اوربھارت کی شہرت اچھی نہیں ہے امریکہ ، روس ، بھارت دوسرے ممالک اور پڑو سیوں پر حملہ آور ہوئے اور قابض رہے ہیں، جبکہ اسکے بر عکس چین ایک ایسا ملک ہے جو کسی سے پنگاہ لینے کی کوشش نہیں کرتا اور اپنے کام سے کام رکھتا ہے۔امریکہ کی پے درپے شکست کے بعد اب یہ بات زیادہ قابل توجہ ہے کہ امریکہ کے جانشینوں یعنی کسی سپر پاورکو مستقل قریب میں سپر پاور بننے کی صورت میں پیار و محبت کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ کیونکہ امریکہ نے دنیا میں مختلف ممالک خا ص طور پر عراق، لیبیا، شام، ایران اور دوسرے کئی ممالک پر طاقت کے بل بوتے پر قابض ہو چکے ہیں ۔ اسی طرح روس افغانستان پر حملہ آور ہوا تھا اور بھارت مقبو ضہ جموں کشمیر پہ ظلم ڈھارہا ہے ۔ تو اب ضرورت اس امر کی ہے کہ دنیا کا اگلا سُپر پاور ایسا ہونا چاہئے جو دنیا کے معاملات کو صحیح رکھنے میں کردار ادا کرے اور غریب اور کمزور ممالک کو اپنی جا رحیت کا نشانہ نہ بنائے۔ امریکہ کی وجہ سے پو ری دنیا میں ابتری ہے ۔ ہمیں امریکہ والی سوچ کو تبدیل کرنا ہوگا اور دنیا کو امن محبت کا گہوارہ بنانا ہوگا۔ تباہی اور بر بادی والی چیزیں ختم کرنی ہوں گی۔ اور جو خطیر رقم ہم ایک دوسرے کے خلاف دفاع پر خرچ کر رہے ہیں وہ ہر لحا ظ سے کم کرنا ہوں گی۔ اور یہ تمام تب ہوسکے گا جب دنیا کی متوقع سپر پاور ظالم نہ ہو۔ اور وہ انصاف اور عدل سے کام لے۔

متعلقہ خبریں