Daily Mashriq

یرقان زدہ دلیل ۔۔

یرقان زدہ دلیل ۔۔

مکالمہ کسی بھی سماج کے تہذیبی بقاء اور ارتقاء میں آکسیجن کا کام دیتا ہے ۔یہی وہ سماجی ٹول ہے کہ جس کی بدولت سماجی رویوں ، نئے رجحانات، تبدیلیوں،مسائل اور سماج کو درپیش چیلنجز پر بات کرکے ان کی ماہیئت کو سمجھا جاسکتاہے اور سمجھ لینے کے بعد تعین کیا جاتا ہے کہ اس نئی چیز کو جاری رکھا جائے تو کس سمت اوراگر روکنامقصود ہو تو اسے کیونکر روکا جائے۔ یہی مکالمہ دانشورانہ سطح پر بھی ہوتا ہے ، عوامی سطح پر بھی اورایوانِ اقتدارکی سطح پر بھی ہوتا ہے ۔ تینوں سطح پر مکالمہ اپنے منطقی انجام تک پہنچتے پہنچتے فکری سطح پر بہت کچھ عطا کرجاتا ہے ۔مکالمہ نہ ہونے کی صورت میں سماج میںتشکیک کا عمل شروع ہوجاتا ہے جو تعصبات کو جنم دیتا ہے اور قوم دھڑوں میں تقسیم ہوجاتی ہے ۔مکالمہ بنیادی طور پر دلیل کی بنیاد پرکیا جاتا ہے ۔دلیل ہی بحث کے ضابطے متعین کرتی ہے ۔ کسی بھی سماج میں دلیل کا مرجانا یا مستعمل نہ ہونا کسی شدید بحران سے کم نہیں ہے ۔ ہمارا مسئلہ یہ نہیں ہے کہ ہم بحث نہیں کرتے یا مکالمہ کی قوت ہم میں نہیں رہی ۔ اجتماعی طور پر ہم شایدسب سے زیادہ بحث کرنے والوں میں سے ہیں ۔ آپ کسی دفتر ، کسی دکان یا کسی ہوٹل میں چلے جائیں تو آپ کو لوگ بحث کرتے ہی نظر آئیں گے ۔ ہمارا ٹی وی بحث و مباحث کا سب سے بڑا مرکز ہے ۔ سوشل میڈیا بحث کی سب سے بڑی فیکٹری ہے ۔ لیکن ہمارے بحث کے تما م مراکزمیں کج بحثی مکالمے کی حد تک نہیں پہنچ پاتی اور ذاتی پسند نا پسند کے آئینے میں ہی چیزوں کو دیکھا جاتا ہے ۔ ایسے میں اگر دلیل سے بات کی بھی جائے تودوسری جانب سے Ad-hominem انداز کا جواب آجائے گا ۔Ad-hominem بحث کا وہ انداز ہے جس میں دلیل کی بجائے ذاتی احساس کی بنیاد پر کسی کو جواب دیا جائے۔ جیسے بیوی شوہر سے کہے کہ بیٹی کے جہیزمیں سپلٹ اے سی دیناہے تو شوہر جواب میںکوئی دلیل دینے کی بجائے کہے کہ تمہارے باپ نے تمہیں جہیز میں کتنے سپلٹ اے سی دیے تھے ؟۔عوامی سطح کو تو چھوڑیئے یہ انداز آپ کو ہرحکومتی ترجمان کے یہاں بھی دکھائی دے گا ۔ جب ان کی کسی پالیسی پر تنقید کی جائے تو وہ پلٹ کر پچھلی حکومتوں کاذکر کردیں گے کہ فلاں کی حکومت نے اس ضمن میں کیا کیا تھا ۔ آپ کو ہمارا سارا معاشرہ اسی ایڈہامنن طرز کے مکالمے میں گرفتار نظر آئے گا ۔ جس کی وجہ سے ہمارے فکری مباحثے اپنی ابتداء سے آگے بڑھتے دکھائی نہیں دیتے ۔ آپ ٹی وی پر کوئی بھی ٹاک شو دیکھ لیں ۔ ایک ایک گھنٹے کی بحث کا کوئی نتیجہ نہ نکلنے پر آپ کو عجیب سی کوفت ہوگی ۔ اور موضوع یا مسئلے پر مزید تشکیک بڑھ جائے گی ۔ عام طور پر ہم دو طرح کے فکری رجحانات رکھتے ہیں ۔ ایک حقیقی یا ریشنل فکری رجحان ،جسے آپ عالمی فکری رجحان بھی کہہ سکتے ہیںاور دوسراہمارا ثقافتی فکری رجحان ہوتا ہے ۔ ہم عام طور پر اسی ثقافتی فکری رجحان کے تحت ہی زندگی گزارتے ہیں جبکہ بہت کم ہم ریشنل یا حقیقی رجحان کی طرف رجوع کرتے ہیں ۔ مسئلہ اس وقت بنتا ہے جب بحث میں ہمیں ثقافتی فکری رجحان سے حقیقی فکری رجحان کی جانب سوئچ اوور ہونا ہوتا ہے تو یہاں دقت پیش آتی ہے اور ہم فیصلہ نہیں کرپاتے کیونکہ ہر فکری رجحان کی اپنی دلیل ہوتی ہے سو ایک عجیب سی کنفیوژن میں بحث ایک بے نتیجہ انجام تک پہنچ جاتی ہے ۔ جس طرح آج کل تھری ڈی ٹیکنالوجی آئی ہے۔ آپ خاص چشمے لگا کر ہی تھری ڈی ویژن دیکھ پاتے ہیں ۔ بغیر مخصوص چشموں کے تھری ڈی ویژن دیکھا نہیں جاسکتا ۔ دراصل تھری ڈی چشمے آپ کی ویژن کی پرسیپشن یا مدرکات کو تبدیل کردیتے ہیں ۔ہمارے سماجی سسٹم میں فکری مدرکات کو تبدیل کرنے کا کوئی تھری ڈی چشمہ میسرنہیں ہے اسی لیے ہم محض اپنی معروضی پرسیپشن سے ہی چیزوں کو دیکھ پاتے ہیں،جس کا ظاہری اور فطری نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ ہم اس بحث کا غلط نتیجہ ہی نکالنے پر مجبور ہوتے ہیں ۔ پرسیپشن یا مدرکات میںوسعت لانے سے ہی ہم کسی وژن کی تھری ڈی تفہیم کرسکتے ہیں ۔ افسوس اس بات کا ہے کہ ہمارا تعلیمی نظام رٹا لگانے پر اتنا فوکس کرچکا ہے کہ کسی قسم کی تخلیقی صلاحیت کے پیدا ہونے کے امکانات محدود ہوکر رہ چکے ہیں ۔ اب تخلیقی صلاحیت ہی نہ ہوگی تو کسی کو کیا پڑی ہے کہ نئی بات سوچے سو ہمارا نظام تعلیم لکیر کے فقیر پیدا کرنے میں مشغول ہے ۔ نہ ہی ہمارے تعلیمی نظام میں کسی نے منطق اور جمالیات پڑھانے کی کوشش کی ۔ جب قوم لاجک اور استھیٹک کو ہی نہیں سمجھے گی وہ بھلا دلیل کو کیسے سمجھے گی اور مادیت سے ماوراء احساس کو کیسے جان پائے گی ۔آپ پڑتال کرلیں اور اپنے تعلیمی نظام کے ٹاپ تھری طبقے الگ کرلیں اور ان کی اخلاقیات کو پرکھ لیںجواب سامنے آجائے گا ۔ہمارے یہاں تعلیمی نظام میں ڈاکٹر ، انجنیئر اور سی ایس ایس وغیرہ ہماری اولین ترجیحات ہیں اور ہمارے سماج کے اعلیٰ اذہان ہی ان شعبوں میں کامیاب ہوتے ہیں۔ آپ کسی دن صرف جائزے کے لیے ڈبگری گارڈن جیسی جگہ چلے جائیں وہ جگہ آپ کو انتہائی کوالیفائیڈ ڈاکٹروںکی لگائی ہوئی ایک منڈی دکھے گی جہاں دکھی انسانیت کو موت تک دکھی کیا جارہا ہوتا ہے ۔ پیسہ پیسہ اور بس پیسہ کمانا مطمح نظر ہے اور اخلاقیات کی گنجائش معدوم،وہاں جیب میں پیسے نہ ہوں تو کوئی سردرد کا علاج بھی نہیں کرواسکتا ۔ دوسرے دو طبقوں کے لوگوں کوآپ نیب کی کرپٹ لوگوں کی فہرست میںباآسانی تلاش کرسکتے ہیں۔(باقی صفحہ 7)

متعلقہ خبریں