Daily Mashriq


کیا کھانا چبانے کی آواز غصہ بڑھا دیتی ہے؟

کیا کھانا چبانے کی آواز غصہ بڑھا دیتی ہے؟

اگر تو کسی دوست کے ہاتھوں میں موجود بال پین کے بٹن کو بار بار دبانا طبعیت پر گراں گزرتا ہے یا کسی کے پرزور انداز سے کھانا چبانا غصہ دلا دیتا ہے تو آپ ایسے تنہا شخص نہیں بلکہ یہ کچھ افراد کا مشترکہ مسئلہ ہے۔مگر اس کی وجہ کیا ہے؟ اس کا راز آخرکار کھل گیا ہے۔

یہ دعویٰ برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔

نیوکیسل یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق کچھ لوگوں کے دماغ آوازوں کی حساسیت کے حوالے سے دیگر افراد سے مختلف ہوتے ہیں اور مخصوص آوازیں ان کے اندر غصہ یا دیگر جذبات کا باعث بنتی ہیں جو کہ ایک ذہنی عارضہ ہے۔

محققین نے اسے مسو فونیا ( misophonia) کا نام دیا یعنی آواز سے نفرت، جن میں لوگوں کو چبانے، بال پین کلک، پیروں کو فرش سے ٹکرانے یا کسی اور طرح کی آواز پر شدید کوفت اور منفی جذبات کا تجربہ ہوتا ہے۔

اس حوالے سے لوگ کافی عرصے سے شکایت کررہے ہیں اور جن لوگوں کو اس کا تجربہ نہیں ہوتا انہیں تو یہ چیز مضحکہ خیز لگتی ہے مگر ڈاکٹروں نے اب اس کا راز تلاش کرلیا ہے۔

اس تحقیق کے دوران چالیس سے زائد افراد پر تجربات کیے گئے جن میں سے بیس مسو فونیا کے شکار تھے اور انہیں مختلف آوازیں سنا کر ایم آر آئی ٹیسٹ کیے گئے۔

دونوں گروپس کے نتائج بہت مختلف تھے اور مسوفونیا کے شکار افراد کا آوازوں پر ردعمل ہٹ کر تھا۔

تحقیق کے مطابق ایسے افراد کے دماغ کے ان حصوں میں ابنارمل کنکشنز نظر آئے جو کہ معلومات اور جذبات کا تجزیہ کرتے ہیں، جبکہ ان کے دل کی دھڑکن بھی بڑھی اور پسینہ آنے لگا۔

محققین کا کہنا تھا کہ یہ واقعی ایک مرض ہے جسے پہلے طبی دنیا میں اہمیت نہیں دی جاتی تھی مگر ہماری تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ آوازیں کچھ افراد کے دماغ کو بدلتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایک بار جب معلوم ہوجائے کہ دماغ میں کس طرح کی آوازیں تحریک کا باعث بنتی ہیں تو انہیں علاج کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے تاہم اس حوالے سے ابھی مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں