Daily Mashriq

آسیہ اگر پاکستان میں رہتی ہیں تو تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے: شاہ محمود قریشی

آسیہ اگر پاکستان میں رہتی ہیں تو تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے: شاہ محمود قریشی

پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ آسیہ بی بی کی بریت کے خلاف دائر کی گئی نظر ثانی کی اپیل مسترد ہونے کے بعد ان کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے ۔

بی بی سی ورلڈ سروس کی مشال حسین کو لندن میں انٹرویو دیتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ بریت کے بعد آسیہ بی بی ملک میں رہتی ہیں یا باہر جاتی ہیں ، یہ ان کا ذاتی فیصلہ ہو گا۔

خیال رہے کہ آسیہ بی بی کیس میں نظر ثانی کی اپیل مسترد ہونے کے بعد مسلسل ان کی پاکستان سے روانگی اور کینیڈا میں پناہ لینے کی خبریں گردش میں رہی ہیں ، تاہم ابھی تک نہ آسیہ بی بی نے اس بارے میں کوئی بیان جاری کیا ہے اور نہ ہی ان کے ترجمان یا وکیل نے ان کی پاکستان سے روانگی کی تصدیق کی ہے ۔

تاہم آسیہ بی بی کی دونوں بیٹیاں اور ان کے ترجمان اپنے اہل خانہ سمیت کینیڈا منتقل ہو چکے ہیں جہاں انھیں سیاسی پناہ دے دی گئی ہے ۔

آسیہ بی بی کے خلاف مقدمے بات کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ’ پاکستان میں بہت سے لوگ ہیں جو عدم تحفظ کا شکار رہے ہیں اور ان میں کئی مسلمان بھی شامل ہیں جنھیں تحفظ فراہم کیا گیا اور دیگر غیر مسلم فریق بھی ہیں جن کو تحفظ دیا گیا۔ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ انھیں تحفظ دیا جائے اور آسیہ بی بی کو بھی دیں گے۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پوری دنیا کو پاکستانی عدالتی نظام پر اعتماد کرنا چاہیے۔

’ایک نظام کے تحت کیس چلا اور آپ کو اندازہ ہوگا کہ کتنا دباؤ تھا ان عدالتوں پر۔ اس کے باوجود انھوں نے قانون اور شواہد کو سامنے رکھتے ہوئے آسیہ بی بی کو معصوم تصور کیا اور انھیں بری کر دیا۔‘

مسئلہ کشمیر

کشمیر کے معاملے پر بات کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں صورت حال تیزی سے بگڑتی جا رہی ہے جس پر انھیں تشویش ہے ۔

شاہ محمود قریشی کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ انڈیا سے بہتر تعلقات چاہتے ہیں ۔ ' میں خطے میں امن چاہتا ہوں کیونکہ ہمارے ایجنڈے کو امن کی ضرورت ہے ۔‘

ان کے بقول 'ہمارے ایجنڈے کا فوکس بدعنوانی کے خلاف عہدہ برا ہونا اور پاکستان کے لوگوں کو گُڈ گورننس دینا ہے ،جس کے لیے ہمسائے میں امن ہونا چاہیے۔ تاہم جس طرح انڈیا کے زیر اہتمام کشمیر میں صورت حال بدل رہی ہے ، وہاں کچھ بھی ہو سکتا ہے اور مجھے اس پر تشویش ہے کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ انڈیا اپنی جانب سے حالات کو صحیح طرح سے کنٹرول نہیں کر رہا ہے ۔'

افغانستان میں امن اور طالبان

امریکہ کا کہنا ہے کہ اس کے اور افغانستان کے درمیان امن معاہدے کے مسودے پر اتفاق ہو گیا ہے تاکہ افغانستان میں جاری 17 سالہ لڑائی کو ختم کیا جا سکے اس حوالے سے پاکستان کا کیا کردار رہا ہے ؟

شاہ محمود قریشی نے کہا ’ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان مسلسل کہتے آئے ہیں کہ افغانستان کے مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں ہے ۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے سیاسی بندوبست کی ضرورت ہے ۔ ٹرمپ انتظامیہ نے طالبان سے مذاکرات کی خواہش کا اظہار کیا، پاکستان نے سہولت کار کا کردار ادا کیا اور ہم سہولت کار کا کردار ادا کر رہے ہیں ۔اور جیسا کہ آپ نے کہا کہ ابوظہبی اور دوحا میں مذاکرات ہوئے تو وہ مذاکرات بہت مثبت اور تعمیری رہے اور آج میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ ہم افغانستان میں اس سے پہلے امن اور مصالحت کے لیے کبھی بھی اتنے پر امید نہیں تھے، تاہم اس لیے ابھی کافی وقت چاہیے۔‘

اس سوال پر کہ طالبان افغان حکومت کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے تیار نہیں تو کیا انھیں افغان حکومت کے ساتھ بات چیت کرنی چاہیے، شاہ محمود قریشی نے کہا 'میرے خیال سے طالبان کو افغان حکومت سے بات کرنی چاہیے کیونکہ افغانستان میں مذاکرات کے بغیر مصالحت نہیں ہو سکتی۔'

ایک دوسرے سوال کے جواب میں پاکستانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ’ہم طالبان کو قائل کر رہے ہیں کہ انھیں مذاکرات کرنے چاہیں۔‘

طالبان کی پیشگی شرائط کہ افغانسان سے غیر ملکی افواج کا انخلا ہو جائے، کے سوال پر شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ 'سب کچھ مذاکرات کی میز پر ہے اور کوئی پیشگی شرائط نہیں ہیں ۔'

جب ان سے دوبارہ پوچھا گیا کہ طالبان کی پیشگی شرائط میں سے ایک یہ ہے کہ وہ افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا تک افغان حکومت سے بات چیت نہیں کریں گے تو شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ’یہ ان کا مسلسل موقف رہا ہے اور یقیناً چیزوں کو آگے بڑھانے کے لیے اس مسئلے پر بات چیت ہونی چاہیے اور ہو رہی ہے کیونکہ افغانستان کا قابل ذکر حصہ ان کے کنٹرول میں نہیں ہے چنانچہ نئی حقیقیت سامنے آ رہی ہے اور زیادہ حقیقیت پسندانہ اپروچ کو اپنایا جا رہا ہے ۔‘

امریکی افواج کا انخلا

ایک سوال کہ اگر امریکی افواج افغانستان سے اپنا انخلا شروع کر دیتی ہیں تو کیا افغان کی سکیورٹی فورسنز ملک میں سکیورٹی فراہم کر سکتی ہیں ، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ یہ امریکی افواج کے افغانستان کے انخلا کے وقت پر منحصر ہے ۔

'بغیر کسی موزوں انڈرسٹینڈنگ اور انتظام کے اچانک انخلا خطرناک ہو سکتا ہے ۔ افغانستان میں کوئی بھی افراتفری، بدنظمی اور خانہ جنگی نہیں چاہتا ہے اور ہم نے ابھی تک 2.7 ملین افغان مہاجرین کو پاکستان میں پناہ دی ہوئی ہے اور ہم چاہتے کہ یہ مہاجرین باعزت طریقے سے اپنے ملک واپس چلے جائیں کیونکہ ہم ایک اور انفلکس نہیں چاہتے چنانچہ اس لیے بہت احتیاط کی ضرورت ہے ۔'

پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں بہتری آنے کے حوالے سے پوچھے جانے والے سوال پر وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ 'میرے خیال سے امریکہ اور پاکستان ایک صفحے پر ہیں ، میں جب واشنگٹن گیا تو میری امریکی سیکریٹری آف سٹیٹ پومپیو سے بہت مثبت ملاقات رہی اور جب وہ اسلام آباد کے دورے پر آئے تو اس وقت بھی ہماری ملاقات تعمیری رہی۔ میرے خیال سے امریکہ اور پاکستان اچھی سمت میں بڑھ رہے ہیں اور امریکی کو پاکستان کی موجودہ حکومت پر زیادہ اعتماد ہے ۔

متعلقہ خبریں