Daily Mashriq


آپریشن ضرب قلم

آپریشن ضرب قلم

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کا کہنا ہے کہ آپریشن ضرب عضب نے دہشت گردوں کی کمر توڑ دی اب اہل علم و دانش کی سربراہی میں آپریشن ضربِ قلم' کی بھی شدید ضرورت ہے۔نواز شریف کا کہنا تھا کہ 'جب تک علم و ادب سے لگن رہی ، مسلمان سرخرو رہے،ادیب، شاعر، دانشور اور اہل قلم کسی بھی معاشرے کا قیمتی اثاثہ ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ امن کے فروغ کے لیے ادیبوں اور دانشوروں کا اہم کردار ہے، اہل قلم و دانشور محبتوں کے سفیر ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ یہ کانفرنس اس نکتے پر ضرور غور کرے گی کہ کس طرح علمی و ادبی سرگرمیوں کو فروغ دے کر انتہا پسندی اور عدم برداشت جیسے رویوں پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ آپریشن ضرب عضب کے ساتھ ساتھ آپریشن ضرب قلم کی بھی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال آپ کی توجہ چاہتی ہے کیوں کہ یہی رویے انتہا پسندی میں بدل جاتے ہیں اور انتہا پسندی معاشرے میں عدم برداشت اور دہشت گردی کا سبب بنتی ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ ایک حلقہ مایوسی اور ناامیدی پھیلانے کے لیے سرگرم ہے، ایسے عناصر کی کوششوں کو ناکام بنانے کے لیے تخلیقات کے ذریعے نئی نسل کے دلوں میں امید و یقین کی شمعیں روشن کرنی ہوں گی۔دہشت گرددوں کے خلاف آپریشن کتنا بھی مشکل اور طویل ہو اس کا اختتام کسی ایک نکتے پر ہونا طے ہے لیکن آپریشن ضرب قلم ایک ایسی سعی مسلسل ہے جسے نہ صرف جاری رہنا ہے بلکہ ہر گزرتے دن کے ساتھ اس میںوسعت جدت و ندرت آتی ہے اور حالیہ سالوں میں یہ اپنے عروج پر دکھائی دیتی ہے۔ ابلاغ کے ذرائع کی، سعت سے جہاں مثبت طرز فکر کو وسعت ملی وہا ں منفی معاملات کو بھی مہمیز مل رہا ہے اور یہ ایک ایسی سیلابی شکل اختیار کرتی جارہی ہے کہ اس سے معاشرے کو بچانے کے لیئے ہنگامی اور خصوصی اقدامات کی ضرورت ہے اس کے باوجود اس کے منفی اثرات سے بچائو کی صورت نظر نہیں آتی اس میں کمی کی سعی ممکن ہے ۔ وطن عزیز میں ابلا غیاتی بہائو اس قدر تیز ہے کہ روایتی زبان و ادب اس میں کہیں بہہ گئی ہے اسے ڈھونڈ نکالنے میں جو ادبی نسل بچی ہے وہ بھی ایک ایک ہو کے سفر رخصت پر ہیں۔ ملک میں ادب کا جو نیا سفر شروع ہونے جا رہا ہے اندازہ لگانا مشکل ہے کہ اگلی نسل زبان وادب کی تعریف کیا ٹھہرائے گی ۔اخبارات اور ٹیلی و یژن پر زبان و بیان کی تبدیلی و شکستگی اور بگاڑ کا جو عالم ہے اس کو اگر پیمانہ بنا دیا جائے تو نتیجہ مایوس کن ہے بجائے اس کے کہ ذرائع ابلاغ کے پھیلائو او روسعت کے باعث زبان و ادب کو فروغ ملتا اس کا معیار ہی بدل گیا ۔ ادیبو ں کی کانفرنس میں ان امور پر ضرور بحث ہوئی ہوگی جہاں تک خطے میں گزرے حالات کے تناظر میں آپریشن ضرب قلم کا سوال ہے یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ اہل قلم کی قربانیاں کسی بھی طبقے سے کم نہیں ۔ اہل قلم کو جس دوہرے دبائو اور دوہرے خطرات کا ان حالات میں سامنا رہا اس کی کیفیت بیان کرنا مشکل ہے ۔ان حالات میں اہل قلم ایک تنی ہوئی باریک رسی پر چلتے رہے کہ ذرا سی جنبش پر جان لے لیئے گئے کتنے صحافی پر اسرار انداز میں مارے گئے اور کتنے دہشت گردوں کا واضح نشانہ بنے ۔ کتنوں کو دھمکا یا گیا اور ہر اساں کیا گیا کتنے میڈیا ہاوسز پر حملے ہوئے اور کتنوں کو سنگین نوعیت کی دھمکیاں ملیں ۔ صحافت و ادب کے چولی دامن کا ساتھ ہے لیکن یہاں ادباء کے مقابلے میں اہل صحافت ضرب قلم کے سر خیل قرار پائے اور انہوں نے بدستور یہ علم تھامے رکھا ہے بہر حال یہاں امتیاز مقصود نہیں وزیر اعظم جس آپریشن ضرب قلم کی ضرورت آج اجا گر کر رہے ہیں اہل صحافت پہلے ہی دن سے اس جہاد میں مصروف ہیں ۔ اہل قلم میں تفریق اس لئے مناسب نہیں کہ تقریباً سبھی معروف ادیب و شاعر کالم نگاری کی صورت میں صحافت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں ان صائب الرائے افراد کا قلم مثبت رجحانات کے فروغ کی سعی میں ہے ۔ نوجوان نسل کو امید کی کرن دکھانے اور ان کو حوصلہ دینے میں اہل قلم کسی سے پیچھے نہیں۔ اس مقصد کے لئے ان کو کسی سرکاری سر پرستی کی بھی خاص ضرورت نہیں ایک طبقہ سرکار سے قربت کو ادبی دنیا میں اچھا نہیں سمجھتا جبکہ دوسراطبقہ سرکار کی سرپرستی تلے پنپنے کا عادی ہے اول الذکر طبقہ اب دھیرے دھیرے معدوم ہونے لگا ہے ۔اب سرکار سے قربت ادیبو ں کے لئے معیوب بات نہ رہی بلکہ اب اس دنیا میں کامیابی کے لئے اسے ضروری خیال کیا جانے لگا ہے۔ وزیر اعظم نے اہل قلم کے لئے انڈومنٹ فنڈ میں جو خطیر رقم دی ہے کچھ کو اس کی ضرورت نہیں مگر اس پر تصرف انہی کا ہونے کا خدشہ ہے اور وہی اس پر ہاتھ صاف کریں گے جبکہ جن بوریا نشینوں کو اس کی ضرورت ہے ان تک یہ رقم چل کے نہیں آئے گی اور وہ خود جھولی پھیلا کر آگے نہیں جائیں گے۔ اس لئے وزیر اعظم اگر سنجید ہ ہیں تو ان کو اس فنڈ کو ایسے افراد کے ہاتھوں میں دینا ہوگا جو درباری قسم کے نہ ہوں بلکہ حقیقی معنوں میں بر ادری کے غمخوار اور مخلص ہوں ۔ جہاں تک آپریشن ضرب قلم کا تعلق ہے یہ آشفتہ سروں کا شعبہ ہے اس کے لئے وسائل کی ضرورت نہیں ہوتی قلم کا غذ یا کی بورڈ درکار ہوتا ہے جو میسر ہے ۔

متعلقہ خبریں