Daily Mashriq

انسانی اسمگلروں کے خلاف بھر پور مہم کی ضرورت

انسانی اسمگلروں کے خلاف بھر پور مہم کی ضرورت

نوجوانوں کا سہانے مستقبل کی تلا ش میں انسانی اسمگلروں کے ہتھے چڑھ کر منزل مراد پانے کی جگہ نامرلاادٹھہرناہی معمول نہیں بلکہ ان سفاک عناصرکے ہاتھوں جان سے بھی ہاتھ دھونے کے واقعات کوئی پوشیدہ امرنہیں اس کے باوجود کہ بعض ممالک خاص طور پر آسٹریلیا کی جانب سے ہر انٹر پول ایجنسی میں غیر قانونی طور پر آسٹریلیا میں داخل ہونے کو ناممکن گردان کر اور انسانی سمگلروں کے جھانسے میں نہ آنے کے بورڈ آویزاں ہے مستزاد کچھ عرصہ قبل آسٹریلیا کی حکومت کی طرف سے اخبارات میں بھی اس نوع کے اشتہارات شائع کرائے گئے۔ لیکن اس کے باوجود ایران اور ترکی کے رستے غیر قانونی آمد ورفت میں کمی نہیں آتی اس کے باوجود کہ بعض اوقات سرحدی گارڈ ز سے مقابلے میں نوجوان جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں مگر غیر قانونی طور پر بیرونی ملک جانے کارجحان کم نہیں ہوتا۔ اس ساری صورتحال کی روک تھام میں ناکامی بلکہ انسانی اسمگلروں سے ایف آئی اے کی ملی بھگت کوئی راز کی بات نہیں ۔ تازہ پیشرفت انسانی اسمگلروں کی جانب سے نوجوانوں کی یر غمال بنا کر ان کے گھروالوں سے حصول تاوان کی واردات ہے۔ اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں مغویوں پر بد ترین تشد د کے واقعات افسوسناک ہیں اس طرح کے حالیہ واقعہ میں مغیو ں کی بحفاظت رہائی کو خوش قسمتی ہی قرار دی جا سکتی ہے اصل سوال یہ ہے کہ نوجوان دیوانہ وار ملک سے باہر جانے ہی کو کیوں ترجیح دیتے ہیں۔ ہمارے تئیں اس کی بڑ ی وجہ صرف بیروزگاری نہیں بلکہ حصول روز گار میں نوجوانوں سے ہونے والی بد ترین نا انصافی اور رشوت وسفارش کے بغیر روزگار کے حق کے حصول کا عنقا ہونا ہے۔ بیروزگاری اپنی جگہ سنگین مسئلہ ضرور ہے لیکن یہاں کسی آسامی کی درخواست دہندہ پر جو گزرتا ہے اس سے مذکورہ نوجوان اس کے دوستوں اور احباب کی واقفیت کے بعد اس نظام سے ہی دل اچاٹ ہوجا تا ہے اور حصول روزگار اور ترقی کے منصفانہ مواقع کی تلاش میں نوجوان یہ سوچے بغیر غیر قانونی طور پر ہی نکل پڑتے ہیں کہ یہ راستہ آسان نہیںہوگا۔ وزارت داخلہ کو اس طرح کی سر گرمیوں کی روک تھام کیلئے جہاں انسانی اسمگلروں کے خلاف سخت اقدامات کی ضرورت ہے وہاں حکومت کو نوجوانوں کو بلا امتیاز روز گار کی فراہمی اور کاروبار کے مزید مواقع پید ا کرنے پر توجہ کی ضرورت ہے ۔

بلاک شناختی کارڈوں کا معاملہ

وزارت داخلہ کی جانب سے عوام کو بے پناہ مشکلات کا شکار بنائے رکھنے کے کافی دیر بعد بلاک شناختی کارڈز کی بحالی کیلئے پارلیمانی کمیٹی کے قیام کی تشکیل کا خیال آنا دیر آید درست آید کے مصداق ہی گردانا جائے گا ۔ سترہ رکنی کمیٹی میں مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندے شامل ہیں۔ سیاسی جماعتوں کی طرف سے شناختی کارڈ وں کی باجواز اور بلا جواز بندش پر سخت تحفظات کا اظہار اور احتجاج وقتاً فوقتاً ہوتے رہے ہیں۔ مشکوک عناصر کے شناختی کارڈوں اور دھوکہ دہی کا مظاہر ہ کرنے والوں کے شناختی کارڈوں کی بندش بارے دوسری رائے نہیں لیکن مختلف وجوہات کی بنا ء پر بند کئے گئے شناختی کارڈوں کی بحالی کے عمل کو نا درا حکام نے جس طرح تو ہین آمیز پیچید ہ اور صبر آزما بنایا ہوا ہے اس کا کوئی جواز نہیں۔ حیرت اس بات پر ہے کہ نادرا میں فارم ب میں بچے کے اندر اج کا طریقہ کار ہی اس قدر پیچیدہ ہے کہ غلط اندراج ممکن نہیں۔ دس سال سے زیادہ عمر کے بچوں کا اندراج اور شناختی کارڈ بنا نا عوام کے لئے تو جو ئے شیر لانے کے مترادف ہے مگر ملی بھگت اور بد عنوانی کرنے والوں کو مواقع ملتے ہیں بہر حال مشکوک شناختی کارڈوں کو بلاک کر کے ملک کی ایک خاصی آبادی اور شہر یوں کو جن بھول بھلیوں میں الجھا دیا گیا ہے اس کا کوئی جواز نہیں۔ اس ضمن میں پارلیمانی کمیٹی کو جلد سے جلد ایسا طریقہ کار وضع کرنے اور نادرا کو پابند بنانے کی ضرورت ہے کہ مشکوک عناصر اپنی شہریت کی مستند گواہی اور شواہد دے کر شناختی کارڈز بحال کرواسکیں نیز اس کا طریقہ کار سہل اور تیز بنا یا جائے ۔

آئی جی نوٹس لیں

عدالتی بیلف کا تھانہ حیات آباد کی پولیس چوکی پر چھاپہ مار کر نوجوان سوزوکی ڈرائیور کی بازیابی اور تھانہ پہاڑی پورہ کے حوالات میں گندگی و غلاظت اور بد بو کے باعث گرفتار تاجروں کی الٹیا ں کر کے حالت غیر ہونے کے معاملات صوبے میں پولیس کی اصلاح کی سراسر نفی ہے ۔ نوجوان کو حبس بے جا میں رکھنے کی کوئی بھی قانونی توجیہہ پیش نہیں کی جا سکتی اور نہ ہی حوالات کے بد ترین ماحول کی کوئی تو جیہہ ممکن ہے اس سے ا س امر کا اظہار ہوتا ہے کہ خیبر پختونخوا میں پولیس آج بھی شتر بے مہا ر اور محافظین قانون ہونے کی بجائے قانون شکنی میں ملوث ہیں ۔ ان دونوں واقعات کا آئی جی خیبر پختونخوا کو سنجید گی سے نوٹس لینا چاہیے۔

متعلقہ خبریں