Daily Mashriq

یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا

یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا

انتخابات کی دھاندلی سے لے کر پاناما لیکس تک ایک طویل داستان ہے ۔ اس کہانی کے کردار ہماری نگاہوں کے سامنے ہیں ۔ہمارے سامنے ہی ایک دوسرے سے اُلجھتے رہتے ہیں ۔ کوئی مسلسل جھوٹ بولتا ہے کیونکہ اس جھوٹ کے سوا انکے پاس اپنے گناہوں کے برہنہ جسموں پر ڈالنے کے لئے کوئی لبادہ ہی نہیں ۔ کوئی اس سارے منظر نامے میں شاید خود کو کھو دینے کے ڈر سے سچ کا ڈھنڈورا پیٹنے لگتا ہے ۔ وہ اس خوف میں مبتلا رہتا ہے کہ اگر وہ خاموش رہا تو شاید ان کے گناہوں کی تاریکی اسے بھی چاٹ جائیگی ۔ ایک عجب ہنگام بر پا ہے اور اس میں اس ملک کے عوام خاموش تماشائی ہیں ۔وہ جانتے ہیں کہ اس نقار خانے میں طوطی کی آواز کون سُنے گا ۔ مسلسل ایک طوفان بد تمیزی بھی برپا رہتا ہے ۔ میاں صاحب اور انکے حواریوں کی ہر ممکن کوشش ہے کہ عمران خان کسی طور پاناما لیکس کی بات چھوڑ دیں ۔ ادھر عمران خان یہ بات جان چکے ہیں کہ شریف برادران نامی دیو کی جان اسی طوطے میں ہے ۔اسی کی گردن مروڑیں گے تو ان کی حکومت کے جسم سے جان نکل جائیگی ۔ 

میاں صاحب نے عمران خان پر کئی جانب سے چڑھائی کر رکھی ہے ۔ ایک بد تمیزی پینل تشکیل دے رکھا ہے ۔ جو مقدو ر بھر بد تمیزی کرتے ہیں اور انہیں روکنے والا کوئی نہیں ۔ ایک طرف میاں صاحب کا یہ بد تمیزی چینل ہے اور دوسری جانب آصف زرداری ملک واپس لوٹ چکے ہیں ۔ وہ اور بلاول بھی میاں صاحب کو بچانے کے لئے اسمبلی میں آنے کا ارادہ رکھتے ہیں ۔ جناب جاوید ہاشمی بھی اچانک منظر پر دکھائی دیتے ہیں ۔اگر چہ وہ میرے والد کے دیرینہ دوستوں میں سے ہیں اور میں انہیں اپنا چچا کی طرح سمجھتی ہوں لیکن اس وقت عمران خان کے حوالے سے ان کے تمام تر انکشافات میاں نوازشریف کے لئے بے حد فائدہ مند ثابت ہو سکتے ہیں ۔ لوگوں کا خیال ہے کہ سیاسی بے نامی کی زندگی نے انہیں ، اس وقت یہ سب باتیں کرنے پر اس لیے مجبور کر دیا ہے کیونکہ وہ اس گمنا می سے بھی نکلنا چاہتے ہیں ۔اور واپس مسلم لیگ (ن )کے حلقے میں شامل ہونا چاہتے ہیں ۔

میں ان کے بارے میں ایسی کسی غلط فہمی کا شکار نہیں ہو سکتی ۔ کیو نکہ میں انہیں جانتی ہوں ۔ جو باتیں کر رہے ہیں ان میں کچھ نہ کچھ سچائی تو موجود ہوگی ، یہ الگ بات ہے کہ اپنے اپنے مفادات کی دھن میںمیڈیا بھی ان کی باتوں کی حقیقت کوسمجھتے اور جانچنے کی کوشش نہیں کر رہا بلکہ اس سے اپنی مرضی کے نتائج اخذ کرنا چاہتا ہے اور کسی بھی نتیجے سے پہنچنے سے زیادہ اس کے لئے اہم ہے کہ معاملوں کو بارہ مسالے کی ایسی چاٹ بنا دیا جائے جس کے بعد اس کے پروگراموں کی ریٹنگ سنبھالے نہ سنبھلے۔ جناب جاوید ہاشمی کی باتوں میں ان کی موجود ہ سیاسی کیفیت یا کسی پنہا ں خواہش کے تانے بانے تو تلاش کیے جا رہے ہیں لیکن یہ دیکھنے کی کوشش قطی نہیں کی جا رہی کہ یہ وہی جاوید ہاشمی ہیں جن کے سیاسی قد سے خوفزدہ میاں صاحبان نے انہیں مسلم لیگ ن میں ہی اس قدر خاموش کروا دیا تھا کہ انہیں سانس لینے کے لیے پاکستان تحریک انصاف کے پلیٹ فارم کا سہارا لینا پڑا اور یہ ساتھ بہت دیر تک چل نہ سکا تھا ۔ جاوید ہاشمی اس وقت جو سزا بھگت رہے ہیں وہ شریف برادران کی غیر موجودگی میں ان سے وفاداری نبھانے کی سزا ہے ۔ اس وفاداری میں جو قید اور صعوبت جاوید ہاشمی صاحب نے کاٹی اور جس طور پر ویز مشرف کے عقاب کا نشانہ بنے ان کا سیاسی قد اس میں بہت بڑھ گیا ۔

نفسیاتی اُلجھنوں اور کمتری کا شکار شریف برادران اس بات کو برداشت ہی نہ کر سکتے تھے ۔ چنانچہ جاوید ہاشمی کو خود ان کی ہی سیاسی جماعت میں ایک شیشے کے حصار میں قید کر دیا گیا ۔ وہ دکھائی دیتے تھے لیکن ان کی آواز سنائی نہ دیتی تھی ۔ یہ لوگ جاوید ہاشمی کے سیاسی قد سے اس قدر خوفزدہ تھے کہ یہ بھی بھول گئے کہ جاوید ہاشمی نے ان کی سیاست کو زندہ رکھنے کے لئے کیا قربانیاں دی ہیں ۔ اس ملک کے گلی کوچوں میں لگنے والے نعرے ایک بہادر آدمی جاوید ہاشمی،نے میاں صاحبان کی راتوں کی نیند اڑا دی تھی ۔ اوریہ ایسے ہی لوگ ہیں ، جاوید ہاشمی کا تحریک انصاف کے ساتھ وقت کتنی باتوں کی دلیل ہے اسکے بارے میں کوئی کیا کہے ہاں یہ ضرور ہے کہ مسلم لیگ ن کی فطرت میں شامل ہے یہ اپنے محسنوں کو بھول جاتے ہیں ۔ جاوید ہاشمی تب بھی ان کے محسن تھے ۔ آج بھی ارادی یا غیر ارادی طور پر ان کے محسن بن رہے ہیں مگر بات یہی ہے کہ اس سب کی قدر مسلم لیگ (ن) کو نہیں ۔ جہاں تک تحریک انصاف کے مئوقف اور پاناما لیکس کا سوال ہے تو باوجود اس کے کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان معاملات طے پا چکے ہیں ، وہ ایک دوسرے کی حفاظت کے لئے میدان میں بھی اتر چکی ہیں ، یہ بات واضح دکھائی دے رہی ہے کہ اس غبارے سے ہوا کبھی بھی نکل جائے گی ۔

عدالت عالیہ سے لوگوں کو جو توقعات ہیں ان کے پورا ہونے کا وقت بہت دور دکھائی نہیں دیتا ۔ عدالت عالیہ کا فیصلہ فوری نہ بھی آئے ، چند ماہ گزر بھی جائیں ایک علامتی سزا ہی بہت کافی ہے ۔ یہ علامتی سزا ئیں گناہ کرنے والوں کو خوفزدہ کر دیا کرتی ہیں کہ اگلی بار شاید جان بخشی مشکل ہو ، یہ علامتی سزا بھی ہوگئی تو زرداری صاحب اور ان جیسے کئی سیاست دان دوبارہ اپنی کمین گاہوں میں چھپنے کی کوشش کرینگے ۔ راحیل شریف کی ریٹائرمنٹ کا اس ملک کو بہت نقصان ہو ا لیکن عدالت عالیہ کی صورت میں ایک ایسا ادارہ اس ملک کو حاصل ہے جہاں ایک شخص کی موجود گی یا غیر موجودگی معاملات میں جان پھونکنے یا جان کھینچ لینے کا سبب نہیں بنتی ۔ صورتحال کیسی بھی ہو یہ امید قائم ہے اور قائم رہنی چاہیے ۔

متعلقہ خبریں