Daily Mashriq

جمہوریت میں کوئی'' ظلِ سبحان'' نہیں ہوتا

جمہوریت میں کوئی'' ظلِ سبحان'' نہیں ہوتا

عربوں کی سرزمین پرتاریخ اور طاقت کے جبر کی بنیاد پر معرض ِ وجود میں آنے والی ریاست اسرائیل سے بہت دلچسپ خبر سننے کو ملی ہے ۔جس کے مطابق اسرائیلی پولیس کرپشن کے الزامات کی تحقیق کے لئے وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو کی سرکاری رہائش گاہ پہنچی اور ان سے تین گھنٹے تک سوال وجواب کئے۔اسرائیلی وزار ت انصاف کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم سے کاروباری شخصیات سے فوائد لینے کے الزامات کے حوالے سے سوال پوچھے گئے ۔اسرائیلی وزیر اعظم پر کاروباری شخصیات سے عنایات یا بڑے پیمانے پر تحائف وصول کرنے کے الزامات ہیں ۔اپنی رہائش گاہ پر پولیس کی آمد اور سوال وجواب کے باوجود اسرائیلی وزیر اعظم نے اپوزیشن کو کہا کہ فی الحال وہ اپنا جشن روک کر رکھیں کیونکہ ایسا کچھ نہیں جو وہ سمجھ رہے ہیں۔بن یامین نیتن یاہو نے اپوزیشن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپ غباروں میں ہوا بھرتے رہیں گے اور ہم ملک چلاتے رہیں گے۔جمہوریت جہاں بھی ہو جیسی بھی ہو وہ اسرائیل کی ہو کہ جس کی ہوا بھی فلسطینیوں کو نہیں لگتی یا بھارت کی کہ جو کشمیر کی حدود پار ہی نہ کرے مگر اپنی حدود اور دائرے میں اسے جوابدہی اور کچھ پابندیوں کا بوجھ اُٹھانا ہی پڑتا ہے۔بھارت کی جمہوریت کے بہت سے اثرات اور ثمرات شاید بہت سی آبادیوں تک نہیں پہنچتے مگر بطور نظام اپنے دائرے اور حدود کے اندر جمہوریت کو جوابدہ ہونا ہی پڑتا ہے ۔اسرائیل کی جمہوریت سے فلسطینی کبھی بھی مستفید نہ ہو سکے مگر جب اسرائیل نے جمہوریت کو بطور نظام اپنالیا تو پھر عربوں میں جگ ہنسائی ،قیادت بے توقیر ہوجانے سمیت کو ئی عذر اپنانے کی بجائے پولیس پوچھ گچھ کے لئے اسرائیل کے وزیر اعظم کی رہائش گاہ کی دہلیز پارکرنے کا حق رکھتی ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر نظام ایک پورے کلچر کا نمائندہ اور امین ہوتا ہے ۔آدھا تیر آدھا بٹیر کا نظام کبھی مثبت نتائج نہیں لاتا۔زمانہ قدیم میں انسانوں میں قبیلائی نظام لاگو تھا تو یہ اپنا ایک کلچر رکھتا تھا ۔رفتہ رفتہ انسان متمدن زندگی کی طرف چلتا چلا گیا تو بادشاہت جیسا ادارہ وجود میں آیا تو اس کا اپنا کلچر تھا ۔انسانی معاشرے کو منظم اور منضبط کرنے کے لئے حکمران کو دیومالائی کردار اور معاشرے کا بہترین انسا ن بنا کر پیش کرناضروری سمجھا گیا ۔اسے اوتا ر اور ظل سبحان یعنی خدا کا سایہ جیسے القابات اور خطابات کے پر تقدس جامہ پہناکر عام انسانوں سے ممتاز نمایاں اور برتر رکھا جاتا تھا ۔بادشاہوں کا اپنا کلچر ، اپنی دنیا اور دائرہ ہوتا تھا ۔بادشاہ کا کہا ہوا حرف آخر ہوتا تھا اور اس سے سرتابی موت کے قریب لے جاتی تھی۔اسلام نے تاریخ انسانی میںپہلی بار ریاست اور حکمران کو پرتقدس ہالوں میں بند رکھ کے کوئی مافوق الفطرت کردار بنائے رکھنے کے منجمد اور صدیوں سے چلے آنے والے تصورات پر کاری ضرب لگائی ۔یہاں حکمرانی کے ادارے کو خلافت کہا گیا اور اس کی بنیاد شورائی نظام پر رکھی گئی ۔شورائیت عوام کو کسی حکومتی نظام میں شریک کرنے کا بہترین تجربہ تھا ۔ یہ عام آدمی کو مضبوط بنانے اور زبان دینے کا عمل تھا ۔آزادی اظہار کا بہترین نمونہ تھا ۔بعد کے وقتوں میں جمہوریت ایک ردعمل میں بتدریج سامنے آتی گئی ۔مغرب میں بادشاہوں اور چرچ کی ملی بھگت سے صدیوں سے قائم چلے آنے والے نظام کے ردعمل میں جدید مغربی جمہوریت کے تصورات کا پودا نمو پاتا رہا ۔جب جمہوریت ایک نظام کے طور پر قائم ہوئی تو یہ نظام بھی ایک کلچر کی نمائندہ اور علامت تھا۔یہ اس لحاظ سے ماضی سے مختلف تھا کہ یہاں طاقت کا سرچشمہ عوام کو قرار دیا گیا ۔اس میں بندوں کو تولنے کی بجائے گننے کا رواج غالب رہا۔وقت کے ساتھ ساتھ عوام کی طاقت کے اظہار کے لئے مختلف راستے اور طریقے اپنائے جاتے رہے ۔ خلافت کی طرح جمہوری نظام میں کوئی ظل سبحان اور اوتار نہیں ہوتا۔یہاں کوئی حکمران مصنوعی تقدس کے آئینہ خانے کا مکین نہیں ہوتا ۔یوںجمہوریت مطلق طاقت کا نام نہیں بلکہ مشروط طاقت کا نام ہے اور نہ ہی یہ ادارہ جاتی آمریت کا نام ہے ۔اسرائیل اپنی خو بو اور وضع قطع میں فاشسٹ رویوں کا حامل ملک ہے جو چہار سو دشمنوں میں ہی گھرا ہے مگر اس کے وزیر اعظم کو حالات سے مفر نہیں کیونکہ اس نے جمہوریت کو نظام حکومت کے طور پر چنا ہے تو پھر پولیس کو یہ حق بھی حاصل ہوگیا کہ وہ بدعنوانی کے الزامات کی تحقیقات کے لئے وزیر اعظم کے گھر کی دہلیز پار کرے خواہ اس سے اسرائیلی وزیر اعظم کی ذاتی عزت اور انا مجروح ہی کیوں نہ ہوتی ہے اس کے گرد قائم تقدس کے ہالے میں سوراخ ہی کیوں نہ ہورہا ہو۔ کہنے کو تو ہمارے ہاں بھی جمہوریت ہے مگر کوئی حساب مانگے توہم جمہوریت کی گاڑی کو ڈی ریل کرنے ،پس پردہ قوتوں کی سازش ،ترقی کا پہیہ جام کرنے کی کوشش،اقتدار کی ہوس ، سیاسی مقدمہ ،سیاسی عدالت ،شیروانی کی خواہش میں ہلکان ہونے کی تڑپ یا اپنے مرحومین کی قربانیوں کی ماتم گساری ان کی قربانیوں کے بلند آہنگی سے تذکرے،ان کی تصویروں کو روسٹرم پر سجا کر جذباتی مناظر تشکیل دینے سمیت اس جواب سے بچنے کی کون سی کون سی تدبیر اختیار نہیں کرتے ۔آج بھی جو کچھ ہورہا ہے کیا یہ جمہوریت کے حقیقی تصور اور کلچر سے لگا کھاتا ہے؟یہ دراصل جمہوری حکمران کو بادشاہت کی طرح ظل سبحان کے پرتقدس ہالے میں بند اور اوتار کی اعلیٰ ترین مسند پر براجمان کرنے کی خواہش کا آئینہ دار ہوتا ہے حالانکہ جمہوریت کا حسن ہی یہ ہے کہ یہاں کوئی ظل سبحان نہیں ہوتا ۔جو شخص جس کتاب کے تحت مسند نشین ہوتا ہے اس کی رخصتی کا انداز اور طریقہ بھی اسی کتاب میں درج ہوتا ہے۔

متعلقہ خبریں