Daily Mashriq

پھر انہی ویرانیوں میں گل کھلا دیتا ہے تو

پھر انہی ویرانیوں میں گل کھلا دیتا ہے تو

بالا خر رب رحیم و کریم کی رحمت کے دروازے واہوگئے اور باران رحمت نے ملک کے مختلف حصوں کو ڈھا نپتے ہوئے کہیں برفباری اور کہیں بارش سے پیاسی زمین کو بار آور کر ہی دیا ، کسان اور کاشتکار اپنی فصلوں کے لئے فکر مند تھے اور انہیں فصلوں کی بربادی کے خد شات نے پریشان کر رکھا تھا ، تو شہر وں میں پھوٹنے والی بیماریوں نے عام انسانوں کو مشکلات میں ڈال رکھا تھا ، خصوصا ً عمر رسید افراد اور چھوٹے بچے ناک گلے کے امراض کا شکارہو رہے تھے ، جبکہ پانی کے تمام ذخائر ڈیڈ لیول پر پہنچ جانے کی وجہ سے آئندہ فصلوں کے لئے پانی کی کمی اور آبنوشی کے لئے دستیاب وسائل متا ثر ہونے کے خدشات نے بھی صورتحال کو گھمبیر کر رکھا تھا ۔ مستزاد بھارتی حکمرانوں کی ممکنہ آبی دہشت گردی نے عوام وخواص کے اندر بے چینی کی جو کیفیت پید ا کی تھی اس سے دونوں ملکوں کے پہلے سے کشیدہ تعلقات میں مزید کشید گی پید ا ہو رہی تھی اور بعض حلقوں کی جانب سے ان خیالات کا بر ملا اظہار کیا جا رہا تھا کہ کہیں پانی کے مسئلے پر تصادم کی صورتحال پیدا نہ ہو جائے ، اس لئے کہ پانی کے بغیر تو انسان کی زندگی مشکلات کا شکار ہو سکتی ہے ۔ جبکہ بھارتی عاقبت اندیش حکمران پاکستان کو مسلسل پانی روکنے کی دھمکیاں دے رہا ہے ۔ اور پاکستان نے جب اقوام متحدہ سے سندھ طاس معاہدے پر اس کی روح کے مطابق عمل نہ کرنے اور بھارت کی جانب سے پاکستان کو پانی کی بوند بوند سے محروم کرنے کی ان دھمکیوں کو نوٹس لیتے ہوئے سندھ طاس معاہدے پر غیر جانبدار کمیشن بنانے کیلئے خط لکھا تو نہ صرف اقوام متحدہ کی جانب سے دونوں ملکوں کو آپس میں مذاکرات کی تلقین کی گئی ہے بلکہ امریکہ نے بھی اسی قسم کے خیالات کا اظہار کیا ہے ، گویا بقول فضل احمد خسرو 

فیصلوں میں فاصلے ٹھہر ے ہوئے ہیں ہر کہیں

پیاس بھی بستی میں ہے ، دریا بھی بہتا ہے یہیں

مرنے والوں کیلئے ماتم میں سب مصروف ہیں

ہاتھ ظالم کے گر یبان پر کسی کا بھی نہیں

لگتا کچھ ایسا ہے کہ نہ صرف اقوام متحدہ بلکہ امریکہ بہادر بھی (جو بھارتی محبت کا اسیر ہو چکا ہے ) بھارت کو یہ موقع فراہم کرنا چاہتا ہے کہ وہ مذاکرات کی آڑ میں وقت حاصل کر کے ان منصوبوں پر عمل در آمد میں کامیاب ہو جائے پاکستان کے تینوں دریائو ں کے پانی کا رخ تبدیل کرتے ہوئے ان سے اپنے علاقوں کیلئے نہریںنکالناہے۔ ان پر پانی ذخیرہ کرنے کیلئے منصو بوں کی تکمیل کر سکے اور اس کے بعد اگر یہ مذاکرات کامیاب ہو بھی جائیں تو پاکستان کے پانی پر بھارتی قبضہ مستحکم ہو چکا ہو ۔

بات بارش اور برفباری کی ہورہی تھی ، اور وہ جو فارسی زبان میں کہا گیا ہے کہ تد بیر کند بندہ ، تقدیر کند خندہ'' تو بھارتی سازشوں کا توڑ رب کائنات نے کر دیا ہے اور جب ملک بھر میں لوگوں نے اپنے گناہوں کی معافی مانگ کر نمازاستقاء پڑھنے کے بعد اللہ رب العزت سے بارش کی دعا کی تو رب کریم نے اپنی رحمت کی گٹھائیں برسا کر اپنے بندوں کے مایوس چہروں پر خوشی کے آثار ہو یدا کر ہی دیئے ، پہاڑوں پر برف جمنے لگی ۔ رم جھم نے مسرتوں کی ادا فضا پر تان دی ، آبی ذخائر ڈیڈ لیول پر پہنچنے سے پہلے ہی اوپر کی سمت اٹھنے لگے اور انشا ء اللہ پانی میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا ۔ اور جب گرمی کا موسم آئے گا تو پہاڑوں پر جمنے والی برف ایک بار پھر پگھل کر دریائوں کو بھر دے گی اور زندگی خوشحال اور رواں دواں ہو جائے گی ۔ انشا ء اللہ ۔ بارش اور برفباری نے سردی کے حقیقی موسم کا آغاز کردیا ہے ، اب تک تو خشک سردی ضرور تھی مگر اس میں وہ شدت کم کم ہی تھی جو سردیوں کے موسم کا خاصا ہوتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ گرم کپڑوں اور اونی ملبوسات کا کاروبار کرنے والوں نے سردی پڑنے سے پہلے ہی سردی کا موسم گزرنے کے خوف کی وجہ سے ان ملبوسات کی قیمتوں میں خاصی کمی کردی تھی کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ اگر اس سیزن میں یہ ملبوسات فروخت نہ ہوئیں تو نہ صرف ان کا سرمایہ بند پڑا رہے گا بلکہ اگلے سال نئے ڈیزائن اور تراش خراش کے کپڑے مارکیٹ میں آنے کی وجہ سے انہیں نقصان بھی برداشت کرنا پڑے گا ۔ اور حد تو یہ ہے کہ بہت سے بڑے سٹور ز پر کلیئر نس سیل کے بینرز بھی آویزاں ہو گئے تھے ، کم از کم انہیں اپنا ہی سرمایہ واپس مل سکے اور پھر گرمی کے موسم کیلئے نئی ورائٹی منگو ا کر ان ہی میں منافع کما سکیں ۔ادھر پہاڑی علاقوں خصوصاً سوات ، مالم جبہ ، گلیات ، مری ، کاغان ، شوگران ، ناران وغیرہ میں برفباری ہونے کی وجہ سے برف کی دبیز چادر نے ان علاقوں کے حسن کو مزید نکھار دیا ہے اوربڑی تعداد میںان علاقوں کارخ کرنے کے بعد سیا ح نہ صرف موسم سے لطف اندوز ہو رہے ہیں بلکہ سیاحو ں کی تعداد میں اضافے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان علاقوں کے غریب عوام کی بھی سن لی ہے اور ہوٹلنگ کے کاروبار کے ساتھ آمد ورفت ،کھانے پینے کے چھوٹے ہوٹلوں اور کھو کھوں کے مالکان کا کاروبار بھی چمک اٹھا ہے اور مایوسی کی جگہ خوشی کی تاثرات نے ان کے چہروں پر گھر کر لیا ہے ۔ بقول منیر نیازی

ماند پڑجاتی ہے جب اشجار پر ہرروشنی

گھپ اندھیرے جنگلوں میں راستہ دیتا ہے تو

دیر تک رکھتا ہے تو ارض وسما کو منتظر

پھر انہی ویرانیوں میں گل کھلا دیتا ہے تو

اللہ تعالیٰ کی ان رحمتوں کا تقاضا یہ بھی تو ہے کہ ہم سر بسجود ہو کر اپنی لغزشوں کی معافی مانگیں کیونکہ ہمارا دین بھی ہمیں بتا تا ہے کہ جب رب ذولجلال اپنے بندوں سے ناراض ہو جاتا ہے تو بارشیں روک دیتا ہے یا بے وقت بارشوں سے مسائل میں اضافہ کر دیتا ہے ، اس لیئے ہمیں اپنی بندگی کے تقاضوں کا جائزہ لیکراپنے رب سے معافی مانگنے پر ضرور سوچنا چاہیئے ۔

متعلقہ خبریں