Daily Mashriq

خیبر پختونخوا میں تمباکوکی شت پر پابندی کا بل

خیبر پختونخوا میں تمباکوکی شت پر پابندی کا بل

تمباکوکے کاشت کاروں اور زمین داروں نے خیبر پختونخوا حکومت کے سال2016 ء کے زیر غور اُس بل کو جس میں تمباکو نو شی اور تمباکو کی پیداوارپر پابندی اور سگریٹ نہ پینے والوں کو سگریٹ نوشی کے اثرات سے محفوظ رکھانا شامل ہے کومسترد کیا ہے۔کا شت کار کونسل کے رابطہ کار نے کہا کہ صوبائی حکومت نے حال ہی میں تمباکو نو شی اور تمباکو کی فصل پر پابندی لگانے کے لئے صوبائی اسمبلی میں جو بل پیش کیا ہے اس میں تمباکو کے کاشتکا روں کے نمائندوں سے کوئی مشورہ نہیں کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ اس طرح کی قانون سازی سے پہلے تمباکو کے کاشت کاروں کے ساتھ مشورہ کرنا چاہئے تھا۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ خیبر پختونخوا کے سات اضلاع میں 80 فی صد تمباکو پیدا ہوتا ہے۔ جس میں صوابی میں 38 فی صد،مردان میں 25 فی صد، چا ر سدہ 15 فی صد، بونیر میں 6 فی صد، مانسہرہ میں 3 فی صد اور باقی دوسرے اضلاع میں 11فی صد تمباکو پیدا ہوتا ہے۔ خیبر پختونخوامیں تمباکو کی فی ایکڑ پیداوار دنیا کے دیگر ممالک سے 14 فی صد اور وطن عزیز کے کئی علاقوں سے 22فی صد زیادہ ہے۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ خیبر پختونخوا میںتمباکو کی صنعت سے ایکسائز ڈیوٹی کی شکل میں 115 ارب روپے اور صوبائی سطح پر 77 ملین روپے محصول وصول کیا جاتاہے۔وفاقی وزیر غلام دستگیر کا بھی کہنا ہے کہ ملک میں تمباکو کی صنعت سے پاکستان کی معیشت کو 100ارب روپے کا سہارا ہے۔یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ خیبر پختونخوا میںتمباکو کی صنعت سے 50 ہزار لوگوں کو براہ راست اور لاکھوں لوگوں کو بلواسطہ روز گار ملا ہوا ہے۔

خیبر پختونخوا میں تقریباً 98لاکھ ایکڑ زمین پر تمباکو کی کاشت کی جاتی ہے۔ جس سے اعلیٰ قسم کا 95ہزار ٹن تمباکو پیدا ہوتا ہے۔خیبر پختونخوا کا ورجینا اور سفید پتے کا تمباکو پوری دنیا میں مشہور ہے اورجو پاکستان کے علاوہ دنیا کے کسی خطے میں پیدا نہیں ہوتا۔یہاں یہ بات اُڑتے اُڑتے سُنی ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت تمباکو خرید نے والے سنٹر جس میں 19پی ٹی سی کے ہیں بند کر نے کا سوچ رہی ہے۔ یہاں یہ بات بتا تا چلوں کہ پاکستان ٹوبیکو کمپنی خیبر پختونخوا کا 38 فی صد تمباکو خریدتی ہے جو تقریباً 35 ہزار ٹن بنتاہے۔ گزشتہ سال صرف پاکستان ٹوبیکو کمپنی یعنی پی ٹی سی نے ٹیکس کی شکل میں حکومت کے خزانے میں 45 ارب روپے اورصوبائی حکومت کو تمباکو کے محصول کی شکل میں 77 ملین روپے جمع کرائے۔ اس میں کسی کو کوئی شک اور شُبہ نہیں کہ تمباکو اور اس کی مصنوعات انتہائی مضر صحت ہیں اور اس سے کئی پیچیدہ بیماریاں جس میں کینسر بھی شامل ہے پیدا ہوتی ہیں۔ مگر یہاں یہ بات بھی مسلم ہے کہ اس فصل کی پیداوار سے بہت سے لوگوں کا روز گاروابستہ ہے اور اسکوکیش کراپ یعنی نقد آور فصل کہا جاتا ہے اور ہمارے کسان بھائی سال بھر اس فصل کی کمائی کے لئے سوچتے رہتے ہیں اور اس فصل کی کما ئی سے اپنا گھر بار چلاتے ہیں اپنے بچے بچیوں کی شادیاں کرتے ہیں ۔ علاج کرتے ہیں اپنے بچوں کے سکول اور کالج کی فیسیں دیتے ہیںعلاوہ ازیں تمباکو کی کمائی پر حج کے لئے جاتے ہیں۔ صوبائی اسمبلی میں قانون سازی سے پہلے حکومت کو چاہئے تھا کہ وہ ان کسانوں اور کا شتکاروں کے لئے متبادل روز گار کا بھی بندوبست کر لیں تی جو پہلے سے اس شعبے سے وابستہ ہیں ۔ کیونکہ جو لوگ اس شعبے سے وابستہ ہیں وہ تمباکو پر پابندی کے بعد کیا کریں گے اُسکا ذرائع آمدن کیا ہوگا۔ یہاں یہ بات اہم ہے کہ یا تو یہاں پر اُن کاشتکاروں کو قرضے فراہم کئے جائیں جو تمباکو کا متبادل تلاش کر سکیں۔یاان اضلاع میں صنعتی علاقے قائم کرنے چاہئیں تاکہ لوگ ان میں اپنے لئے روزگار تلاش کر سکیں۔ ماضی میں صوابی گدون اما زئی میں پوست کاشت کی جاتی تھی۔ حکومت نے اس فصل کو تلف کرنے کے لئے کا رروائی کی ۔ فصل کو تو تلف کیا گیا اور حکومتی وعدے کے مطابق یہاں پر گدون امازئی میں صنعتی علاقہ قائم کیا گیا۔ مگر کچھ عرصہ بعد مقامی ایڈمنسٹریشن کی ملی بھگت سے وہ صنعتی علاقے پھر پنجاب شفٹ کئے گئے اور مقامی لوگوں کے لئے روز گار کا جو انتظام کیا گیا تھا وہ ان سے دوبارہ چھینا گیا۔ اور اب گدون امازئی کے پو ست کے کسان در بدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ اگر موجودہ صوبائی حکومت ان سات اضلاع میں جہاں پر تمباکو کی فصل کا شت کی جاتی ہے وہاں کوئی انڈسٹری لگانا چاہتی ہے تو وہ انڈسٹریاں اور صنعتیں کچھ عرصہ کے لئے نہ ہوں بلکہ وہ صنعتیں ہمیشہ کے لئے ہوں اور مقامی تمباکو کے کاشتکاروں کے ساتھ حکومت کا معاہدہ ہونا چاہئے کہ کسی صورت ان صنعتوں اور سہولیات کو ان علاقوں سے واپس نہیںکیا جائے گا ۔ ابھی حکومت اور ٹوبیکو کے کسانوں اور کاشت کاروں کے درمیان ایک بد اعتمادی کی فضا ہے جسکو اعتماد میں تبدیل کرنا ہوگا۔صوبائی حکومت اس بل کے ساتھ متوازی وہ بل بھی منظور کرائے جس میں ان علاقوں میں صنعتی علاقوںکے قیام کا ذکر ہو۔

متعلقہ خبریں