Daily Mashriq


بہت نکلے میرے ارماں لیکن پھر بھی کم نکلے

بہت نکلے میرے ارماں لیکن پھر بھی کم نکلے

کہانی اپنے اندر ایک خاص قسم کی کشش اور جاذبیت رکھتی ہے اس لیے سننے والے پر اثر بھی کرتی ہے اور یاد بھی رہ جاتی ہے۔اس وقت ہمارے ذہن میں چند حکایتوں نے کھلبلی مچا رکھی ہے سوچا آپ کے گوش گزار کرتے چلیں کچھ دوستوں کا یقینا بھلا ہوجائے گا۔کہتے ہیں پرانے زمانے میں کسی جگہ دو دوست رہتے تھے دونوں میں بلا کی دوستی تھی ہر وقت اکٹھے رہتے یوں کہیے کہ یک جان دو قالب تھے۔ لوگ ان کی دوستی کی مثالیں دیا کرتے تھے پھر ایسا ہوا کہ ایک دن ایک دوست غائب ہوگیا دوسرا دوست بڑا پریشان ہوا اسے بہت ڈھونڈا ہر جگہ تلا ش کیا لیکن اس کا کہیں بھی سراغ نہ ملا۔ایک دن خدا کا کرنا کیا ہوا کہ اسے اپنا کھویا ہوا دوست راستے میں مل گیا۔ اب تو اس کی خوشیوں کا کوئی ٹھکانا ہی نہیں تھا یہ اپنے بچھڑے ہوئے دوست کو بڑی محبت سے ملا اور اس سے کہنے لگا کہ بے مروتی کی بھی ایک حد ہوتی ہے تم کہاں چلے گئے تھے مجھے بتا کر بھی نہیں گئے تم نہیں جانتے میں نے تمہیں کتنا یاد کیا ہے۔ دوست اس کی باتیں سن کر کہنے لگا بھائی ناراض کیوں ہوتے ہو پہلے میری بات تو سن لو۔ بات دراصل یہ ہے کہ میں دیوتا بن چکا ہوں اس لیے اب تمہارے ساتھ میر ی ملاقات نہیں ہوتی۔پہلا دوست حیران ہو کر کہنے لگا کہ زرا مجھے بھی تو بتائو کہ تم دیوتا کیسے بن گئے۔ اس نے کہا کہ یہ باتیں تمہاری سمجھ میں آنے والی نہیں ہیں چھوڑو ان باتوں کو ۔ تم یو ںکرو کہ وہ سامنے گلی میں جو اینٹ پڑی ہوئی ہے مجھے اٹھا کر دو۔ دوست نے اپنے دیوتا دوست کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اسے اینٹ اٹھا کر دی۔ دیوتا نے جیسے ہی اینٹ کو اپنی انگلی سے چھوا تو وہ خالص سونے میں تبدیل ہوگئی۔ اب تو وہ بہت خوش ہوا اور جلدی جلدی اپنے پاس موجود سب چیزیں دیوتا کے سامنے کر دیں وہ جس چیز کو اپنی انگلی سے چھوتا وہ خالص سونے میں تبدیل ہوجاتی ۔ اس نے اپنے دوست کو چند لمحوں میں کروڑوں روپے کا مالک کردیا۔ جب دیوتا رخصت ہونے لگا تو اسے اپنے دوست کے چہرے پر پریشانی کی جھلک دکھائی دی تو وہ سمجھ گیا کہ ابھی اس کی تسلی نہیں ہوئی اور یہ مزید سونا چاہتا ہے اس نے گلی میں پڑے ہوئے ایک بہت بڑے پتھر کو چھوا تو وہ بھی خا لص سونے میں تبدیل ہوگیا۔ اب دیوتا رخصت ہونے لگا تو اس کا دوست اب بھی اداس تھا۔ اس نے جانے سے پہلے پوچھا کہ بندہ خدا اب کیا ہے اور کیا چاہتے ہو ۔ اس وقت جتنا سونا تمہارے پاس ہے یہ تمہاری سات پشتوں کے لیے کا فی ہے لیکن میں دیکھ رہا ہوں کہ تم اب بھی خوش نظر نہیں آرہے۔ تو اس کا دوست اسے بڑی حسرت سے کہنے لگا کہ اپنی انگلی مجھے دے دو مجھے تمہاری انگلی چاہیے۔غالب نے انسانی نفسیات کی کتنی صحیح تصویر کشی کی ہے۔ 

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے

بہت نکلے میرے ارماں لیکن پھر بھی کم نکلے

انسانی خواہشات کا نہ ختم ہونے والا ایک طویل سلسلہ ہے ۔یہ ہماری روزمرہ زندگی کا مشاہدہ ہے کہ لوگ اپنے بینک بیلنس میں رات دن اضافہ کرتے رہتے ہیں لیکن ان کی آنکھ نہیں بھرتی۔ مصر کا حسنی مبارک ابھی کل ہی کی بات ہے اسی طرح کرنل قذافی ، صدام حسین ہم سب کے سامنے کی مثالیں ہیں اسی طرح ان کے دوسرے لاتعداد بھائی یہ سب کچھ دیکھنے جاننے کے با وجود اپنے خزانوں میں اضافہ کرنے میں مصروف ہیں۔ وطن عزیز کے غریب عوام انتہائی کسمپرسی کے عالم میں زندگی کی گاڑی بڑی مشکل سے کھینچ رہے ہیں۔ لیکن مزے کی بات یہ ہے کہ جب اقتدار پاس ہو تو ان باتوں کی طرف دھیا ن کم ہی جاتا ہے غریب عوام صرف اور صرف اس وقت یاد آتے ہیں جب تخت شاہی چھن جاتا ہے اور پھر دوسری یا تیسری بار تخت شاہی پر براجمان ہونے کی خواہش انگڑائیاں لینے لگتی ہے تو عوام کو سبز باغ دکھانے کا عمل نئے سرے سے شروع ہو جاتا ہے۔ زرا یہ حکایت بھی پڑھ لیجیے تاکہ بات مزید واضح ہو جائے۔ ایک بابا جی کسی مرید کے گھر بطور مہمان گئے۔ مرید اور اس کا خاندان باباجی کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور بابا جی کی دل و جان سے خدمت کرنے لگے۔ بابا جی بھی مرید اور اس کے بال بچوں کی عقیدت سے بڑے خوش تھے اور ان کے لیے روزانہ ڈھیر ساری دعائیں مانگتے۔ ایک دن رات کے کھانے کے بعد بابا جی بڑی نصیحت آموز گفتگو فرما رہے تھے کہ دوران گفتگو مرید نے بابا جی کے ساتھ کسی بات پر بحث کی۔مرید کی یہ گستاخی بابا جی کو بہت بری لگی۔ مرید کو بھی احساس ہوگیا کہ انہوں نے بزرگ کی شان میں گستاخی کر ڈالی ہے اب وہ دل میں ڈر رہا تھا کہ خدا خیر کرے ۔اللہ کے نیک بندوں کو ناراض نہیں کیا کرتے۔ ابھی وہ معافی مانگنے کے لیے کو ئی مناسب الفاظ تلاش کر ہی رہا تھا کہ خدا کا کرنا کیا ہوا کہ مرید اور اس کے بیوی بچے سب اندھے ہو گئے۔ مرید کے دل میں خوف تو تھا ہی اب وہ یہ سمجھا کہ یہ اسی گستاخی کی سزا ہے اس نے رو رو کر آسمان سر پر اٹھا لیا۔ اور باباجی سے کہنے لگا کہ خدا کے لیے ہماری خطا سے درگزر کیجیے اور اللہ پاک سے دعا کیجیے کہ وہ ہماری بصارت پھر سے لوٹا دے۔ ہم سے بہت بڑی گستاخی ہو گئی بس ایک مرتبہ معاف کر دیجیے پھر ساری زندگی ایسی غلطی نہیں کریں گے۔ بابا جی کو مرید کے رونے دھونے اور آہ و زاری پر بڑا غصہ آیا اور انہوں نے جوتا اتار کر سب کو ایک ایک چپت لگائی اور غصے سے چیختے ہوئے کہنے لگے کہ بیوقوفو! ہوش کے ناخن لو تمہاری عقل کیا گھاس چرنے چلی گئی ہے ۔ تم اندھے نہیں ہوئے یہ تو لوڈ شیڈنگ ہے بجلی چلی گئی ہے!

متعلقہ خبریں