Daily Mashriq


کانٹوں سے گزر جائو تو گلزار ملیں گے

کانٹوں سے گزر جائو تو گلزار ملیں گے

ٹرمپ انتظامیہ نے بالآخر دل کی بات زبان پر لا کر پاکستان کی امداد معطل کرنے کی اصل وجہ بتا دی ہے جو پاکستان کی ایٹمی صلاحیت اور جوہری تنصیبات سے متعلق ہے گو کہ امداد کی معطلی کی ایک وجہ حافظ سعید کا معاملہ بھی ہے لیکن اصل معاملہ پاکستان کی ایٹمی صلاحیت ہی کا امریکہ کو کھٹکنا ہے۔ امریکہ نے پاکستان کو ایٹمی دھماکہ کرکے خود کو ایٹمی صلاحیت کا ملک ثابت کرنے سے روکنے پر بھی امداد منجمد کردی تھی۔ ایک مرتبہ پھر ٹرمپ انتظامیہ کو پاکستان کی یہ صلاحیت بری طرح کھٹکنے لگی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کو 1.1 بلین ڈالر سیکورٹی امداد حافظ سعید جیسے دہشتگردوں کیخلاف کارروائی نہ کرنے پر معطل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان ہیتھر ناورت نے صحافیوں کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے ممبئی حملوں کے ماسٹر مائنڈ حافظ سعید کے متعلق کئی بار اپنے خدشات کا اظہار کیا تاہم پاکستان نے کوئی کارروائی نہ کی۔ انہوں نے کہا کہ حافظ سعید کی نظربندی پر پاکستان کو دس ملین ڈالر دیئے گئے تاہم بعد میں اسے رہا کر دیا گیا۔ جس پر ہم نے پاکستان کے ساتھ اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کیا ۔ انہوں نے کہا کہ کشیدہ حالات کے باوجود پاکستان کیساتھ نہ صرف حقانی نیٹ ورک اور طالبان بلکہ لشکر طیبہ اور جیش محمد جیسے دہشتگرد گروپوں کے معاملے پر بھی بات چیت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں پاکستان کے ساتھ تعلقات معمول پر نہیں رہ سکتے۔ انہوں نے مزید کہاکہ پاکستان کے جوہری اثاثوں پر بھی ہمارے تحفظات ہیں اور یہی وجہ ہے کہ موجودہ انتظامیہ نے کچھ اقدامات پر غور کیا ہے ۔جہاں تک امریکہ کے تئیں دہشت گرد گروپوں کے خلاف کارروائی کا سوال ہے پاکستان ان معاملات میں امریکی ناراضگی نہ مول لینے کی اکثر کوششیں کرتا رہا ہے۔ اس وقت بھی پاکستان نے جماعت الدعوة کا مرکز پنجاب حکومت کے قبضے میں لینے کا قدم اٹھایا ہے جبکہ ایک طویل فہرست جاری کرکے عوام کو ان تمام چھوٹی بڑی معروف وغیر معروف بلکہ گمنام تنظیموں تک سے کسی قسم کا تعاون نہ کرنے اور چندہ دینے سے باز رہنے کا کہا ہے اور اس ہدایت کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کابھی انتباہ کیاگیا ہے۔ ہمارے تئیں ان تنظیموں کے خلاف اس حد تک کی کارروائی عوامی سطح پر کافی ہے کیونکہ پاکستان کے عوام کسی تنظیم کی مالی امداد اور صدقات دینے کے معاملے پر پہلے ہی سے محتاط ہیں۔ ہمارے دین کا بھی درس یہی ہے کہ اپنے صدقات حقدار لوگوں کو پہنچائے جائیں گو یہ ان کی امانت ہے ا س میں غفلت اور عدم احتیاط سے صدقات و خیرات کی قبولیت اور حصول ثواب کے متاثرہونے کاخدشہ ہے۔ ناموں کی اس طویل فہرست کی اشاعت کے بعد اس امر کا امکان باقی نہیں رہا کہ لوگ رقم بھی خرچ کریں اور قانون کی مخالفت بھی مول لیں۔ اگر معاملہ واقعی یہیں تک تھا تو ہمارے تئیں اس قابل قبول اور قابل اطمینان کارروائی کے بعد امریکی تحفظات کو دور ہوجانا چاہئے جبکہ حقانی نیٹ ورک اور افغان طالبان کے معاملات پیچیدہ اور غیر مرئی ہونے کے سبب اس پر دونوں ممالک ثبوت اور شواہد کو سامنے رکھ کر ہی بات کرسکتے ہیں جس کی پیشکش پاکستان وقتاً فوقتاً کرتاآیا ہے مگر امریکہ ٹھوس شواہد اور قابل اعتماد انٹیلی جنس شیئرنگ کی بجائے دبائو کی پالیسی ہی کو ترجیح دیتا آیا ہے جس کے باعث معاملات آگے نہیں بڑھ پاتے اور غلط فہمیاں باقی رہ کر نمو پاتی ہیں۔ ہمارے تئیں ثانی الذکر معاملے پر بھی بات چیت کے ذریعے راستہ نکالا جاسکتا ہے مگر اس امریکی مفروضے کا کوئی حل ممکن نہیں کہ خدانخواستہ پاکستان کی ایٹمی صلاحیت کسی انتہا پسند تنظیم کی دسترس میں آسکتی ہے۔ اس خارج ازامکان عمل کی حقیقت سے خود امریکہ بھی لا علم نہ ہوگا۔ ان سے بہتر کسے معلوم ہوگا کہ پاکستان کے جوہری اثاثوں کی حفاظت کا کیا انتظام موجود ہے۔ دراصل امریکہ کو پاکستان کے ایٹمی اثاثوں پر کسی قبضے کا خوف نہیں کھٹکتا اس کو پاکستان کی ایٹمی صلاحیت کھٹکتی ہے۔ ہمیں اس موقع پر من حیث القوم اتحاد و اتفاق کے مظاہرے اور اپنے ہر قسم کے تزویراتی اثاثوں کی حفاظت کے لئے کمربستہ ہونے کی ضرورت ہے۔ اگر امریکی نقطہ نظر کو اس کے اپنے قول و فعل کے تناظر میں دیکھا جائے تو خود امریکہ بلوچستان میں انتشار کے عمل کی سرپرستی کر رہا ہے۔ امریکہ میں آزاد بلوچستان کے بینر لگے ہوئے ہیں۔ ان کی تو مکمل سرپرستی ہو رہی ہے جبکہ پاکستان سے کہا جا رہا ہے کہ چونکہ آپ کے ہاں کی چند شخصیات اور تنظیموں کے بارے میں ہمیں تحفظات ہیں لہٰذا ان کے خلاف کارروائی کی جائے اور ہم ان کے خلاف کارروائی کر بھی رہے ہیں اس کے باوجود پاکستان کو دبائو میں لانے کے حربے استعمال کئے جا رہے ہیں۔ اگر دیکھا جائے تو ایک نہ ایک دن یہ وقت آنا ہی تھا ۔ امریکہ کو جتنا بھی خوش کرنے کی کوشش کی جاتی رہے گی اس کی فرمائشوں میں اسی طرح اضافہ ہی ہوتا جائے گا اور بالآخر اس کی تان ایٹمی صلاحیت ہی پر ٹوٹے گی۔ امریکہ کو یہ سمجھ آجانی چاہئے کہ جو ملک دو لخت ہونے' سیاسی انتشار اور سخت مسائل کاشکار اور قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہونے کے باوجود دنیا کی مخالفت مول کر ایٹمی صلاحیت حاصل کرسکتا ہے۔ اس ملک کو اس قابل ہونے میں شک و شبہ نہیں ہونا چاہئے کہ وہ اس کی حفاظت کرنا بھی جانتا ہے۔ امریکہ کی جانب سے دبائو کے اس ہتھیار کو پاکستان کو امریکی اثر و رسوخ سے نکلنے اور آزاد و خود مختار اور پر وقار ملک کے طور پر ابھرنے کے موقع کے طور پر استعمال کرنا چاہئے۔ ایسا کرنے کے لئے وقت اور حالات اور خطے میں دوست ممالک کا تعاون بھی ساز گار فضا کی فراہمی کے لئے کافی ہیں۔ امریکہ کو ان سارے عوامل کا بخوبی ادراک ہے۔ اس موقع پر بلا شبہ ہمیں ٹکرائو کی پالیسی اختیار نہیں کرنی چاہئے لیکن اس مشکل وقت کو خود تبدیل کرنے کا ذریعہ بنانا بھی ایک بہتر راستہ اور ہمارا حق ہے۔

متعلقہ خبریں