Daily Mashriq


کاش یہ کام ہو جائے

کاش یہ کام ہو جائے

چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا کی محکمہ ہائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ اور بلدیات و دیہی ترقی کے سیکرٹریوں کو آبنوشی کے زنگ آلود پائپ تبدیل کرنے اور پانی کے ذخائر کو کلورین سے صاف کرنے کی ہدایت پر عملدرآمد کے حوالے سے تحفظات کا اظہار مناسب نہیں۔ تہکال میں ڈینگی کی وباء کے دنوں میں بھی اس طرح کی ہدایت کی گئی تھی۔ اس تازہ ہدایت سے اس امر کا اظہار ہوتا ہے کہ شاید اس ہدایت پر عملدرآمد نہ ہوا ہوگا جبکہ ز نگ آلود پائپوں کی تبدیلی کی نوید گزشتہ دو ادوار حکومت سے دی جا رہی ہے لیکن گزشتہ دور اور موجودہ دور حکومت میں اس کی نوبت نہ آسکی۔ پشاور میں صاف پانی کا مسئلہ خاص طور پر سنگین ہے جبکہ اضلاع میں بھی کوئی حوصلہ افزاء صورتحال نہیں۔ پانی کے ذخائر کی صفائی تعمیر کے وقت سے لے کر اس کی ٹوٹ پھوٹ کاشکار ہونے یا کسی بڑی وباء کے پھوٹ جانے تک نہیں ہو پاتی تہکال میں پانی کی ٹینکی کی تین دہائیوں تک صفائی نہیں ہوسکی تھی جہاں ڈینگی کے لاروے پائے گئے۔ یہ صرف سرکاری سطح پر ہی نہیں ہو رہا ہے بلکہ شہری خود بھی اپنے گھروں میں زیر زمین اور چھت پر واقع ذخیرہ آب کے ذریعوں کی صفائی پر چنداں توجہ نہیں دیتے۔ آلودہ پانی سرکاری ذخیرہ آب سے زنگ آلود پائپوں کے ذریعے شہریوں کے گھروں تک آتا ہے جہاں اس کے ذخیرے کے انتظامات بھی حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق نہیں ہوتے۔ اس طرح کی صورتحال میں بیماریاں وبا کی صورت میں پھیلنا فطری امر ہے۔ ہمارے تئیں چیف سیکرٹری کی ان ہدایات پر نہ صرف حرف بحرف عمل ہونا چاہئے بلکہ چیف سیکرٹری کو اپنے حکمنامے پر عملدرآمد میں بھی سنجیدگی اختیار کرنی چاہئے۔ علاوہ ازیں شہریوں کو بھی ان کی ذمہ داریوں بارے شعور و آگہی کی فراہمی کی بھی سنجیدہ کوشش ہونی چاہئے۔

متعلقہ خبریں