غیر ذمہ دارانہ کردار پر گرفت ہونی چاہئے

غیر ذمہ دارانہ کردار پر گرفت ہونی چاہئے


ریسکیو 1122کال کرکے پیزا کی فرمائش اور بچے کو لوری سنانے کے خواہشمندوں کی حرکت پر افسوس کا اظہار ہی کیا جاسکتا ہے۔ قانون کی موجودگی کے باوجود جعلی کال کرنے والوں کے خلاف کارروائی سے احتراز کرنا بھی ہمارے نزدیک ناجائز رعایت برتنے کے زمرے میں آتا ہے۔ اس طرح کے عناصر سے لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے کے مصداق عمل ہونا چاہئے۔ بہر حال متعلقہ حکام ہی اس کا بہتر حل نکال سکتے ہیں لیکن ہمارے تئیں اس میں نرمی اختیار کرنا درست نہ ہوگا۔ نرمی اور اختیارات کے سخت استعمال میں تاخیر اپنی جگہ احسن عمل ہے لیکن اگر پانی سر سے اونچا ہو جائے اور سرکاری ادارے کی خدمات کو مذاق بنا دیا جائے تو ایسے عناصر سے کسی طور بھی رعایت نہیں ہونی چاہئے۔ اس طرح کے عناصر کو اگر قانون کے مطابق سزا دے کر اس کی سزا کو ذرائع ابلاغ کے ذریعے لوگوں تک پہنچا دیا جائے تو زیادہ بہتر ہوگا۔ جو لوگ اس قسم کا مذاق کرتے ہیں وہ اپنا اعتماد کھو دیتے ہیں اور ان کے نمبروں پر قدغن لگانے سے وہ آئندہ حقیقی ضرورت پڑنے پر بھی رابطہ نہیں کر پاتے اور اگر رابطہ ہو جائے تو ان کا اعتبار کون کرے گا۔ جیسا کہ ایک اس طرح کے کالر کے بھائی کو فوری مدد کی کال کو بھی مذاق سمجھا گیا اور اس کو بروقت مدد نہ مل سکی۔ یہ ہم سب کا اور پورے معاشرے کا فرض ہے کہ ہم ذمہ دارشہری کا کردار ادا کریں اور سرکاری امدادی اداروں سمیت کسی کو بھی اس طرح کے مذاق کا نشانہ نہ بنائیں جس سے اجتماعی و انفرادی مفاد متاثر ہو۔توقع کی جانی چاہئے کہ غلط کال کرنے والے شہریوں کو از خود اس امر کا احساس ہوگا کہ ان کی غلط حرکت سے کسی کی جان کا ضیاع بھی ہوسکتا ہے اور وہ اس طرح کی حرکتوں سے باز آئیں گے۔ اس ضمن میں شعور اجاگر کرنے اور اس طرح کی حرکت کے مرتکب افراد کو ان کی غلطی کا احساس دلانے کے لئے آگہی پر مبنی اقدامات کی بھی ضرورت ہے۔سکولوں اور کالجوں میں طالب علموں کو ٹیلی فون 'واٹس ایپ' فیس بک اور دیگر ذرائع ابلاغ کے ذمہ دارانہ استعمال کی تربیت اور ترغیب دینے کی بھی ضرورت ہے۔

اداریہ