Daily Mashriq


پاکستان پر امریکی دباؤ کے حربے

پاکستان پر امریکی دباؤ کے حربے

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے یکم جنوری کی ٹویٹ میں مضمر دھمکیوں کے آثار سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف تعاون کی مد میں پاکستان کو واجب الادا رقم روک دی گئی ہے۔ فوجی سازو سامان کی ترسیل بھی روک دی گئی ہے اور پاکستان کا نام مذہبی آزادی کے خلاف اقدامات کرنے والے ممالک کی واچ لسٹ میں شامل کر دیا گیا ہے۔ یہ تاثر دیا گیا ہے کہ اگر پاکستان حقانی نیٹ ورک اور طالبان کے خلاف امریکی کی تسلی کے مطابق کارروائی کرے گا تو یہ پابندیاں ختم کر دی جائیں گی ۔ لیکن اغلب خیال یہ ہے کہ پابندیاں اور تقاضے مزید بڑھیں گے۔ کیا امریکہ کے یہ الزامات صحیح ہیں کہ پاکستان حقانی نیٹ ورک اور افغان طالبان کو محفوظ ٹھکانے مہیا کیے ہوئے ہے؟ امریکی حکمران ان الزامات پر اصرار کرتے چلے آ رہے ہیں۔ کیا امریکیوں کے پاس کوئی ایسے شواہد ہیں کہ جن کی بنیاد پر وہ ان الزامات کو صحیح سمجھتے ہیں؟ شواہد ہیں یا نہیں ان کے پاس ایسے وسائل ضرور باور کیے جاتا ہے کہ ہیں جن سے وہ یہ اندازہ کر سکتے ہیں کہ پاکستان میں کہاں کہاں غیر ملکی گروہوں کے ٹھکانے ہیں۔ چند سال پہلے پاکستان میں کئی سو امریکیوں کو غیر معمولی ویزوں پر پاکستان آنے کی اجازت دی گئی تھی۔ یہاں تک کہ دفتر خارجہ سے بھی ان ویزوں کی منظوری نہیں لی جاتی تھی۔ ان امریکیوں کو اسلحہ اپنے ساتھ لانے کی بھی اجازت تھی۔ ان دنوں اسلام آباد میں کم ازکم دو ایسے واقعات ہوئے جب بعض امریکیوں کی گاڑیاں روکی گئیں تو نہایت اوپر کی سطح سے احکامات آئے اور پولیس والوں کو انہیں چھوڑنا پڑا۔ یوں بھی امریکی خفیہ ادارے دنیا کے نوے سے زیادہ ممالک میں اپنے نیٹ ورک رکھتے ہیں۔ پاکستان کو بھی ایسے نیٹ ورک سے خالی نہیں شمار کیا جا سکتا۔ امریکہ جب الزام لگاتا ہے کہ پاکستان میں حقانی نیٹ ورک کے اور افغان طالبان کے ٹھکانے ہیں تو باور کیا جانا چاہیے کہ انہی معلومات کی بنا پر لگاتا ہے۔ لیکن پچھلے دنوں جب امریکہ نے سخت رویہ اختیار کیا تو پاکستان کے وزیر خارجہ خواجہ آصف نے پیش کش کی کہ امریکہ پاکستان میں مطلوب دہشت گردوں کے ٹھکانوں کی نشاندہی کرے پاکستان کے سیکورٹی اہل کار ان پر کارروائی کریں گے۔ یہ پیش کش بڑی فراخدلانہ تھی۔ امریکہ' اگر اس کو یقین ہے کہ پاکستان میں حقانی نیٹ ورک کے یا افغان طالبان کی قیادت کے کوئی ٹھکانے ہیں' تو ان کی نشاندہی کر سکتا تھا لیکن کوئی ایسی خبر عام نہیں ہوئی کہ امریکہ نے دہشت گردوں کے کسی ٹھکانے کی نشاندہی کی ہو اور پاکستان نے اس کے خلاف کارروائی نہ کی ہو۔ اب سینہ بسینہ یہ بات چل رہی ہے کہ گزشتہ دنوں پاکستان نے جس امریکی کینیڈین جوڑے کو اغوا کاروں سے آزاد کرایا تھا اس کارروائی کے دوران اغواکاروں سے مقابلے میں ایک اغوا کار فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا تھا۔ امریکی اہل کار تقاضا کر رہے ہیں کہ اس مفرور کو پکڑ کر ان کے حوالے کیا جائے۔ اس کے پاس اہم معلومات ہو سکتا ہے کہ ہوں ۔ سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ اگر حقانی نیٹ ورک اور طالبان قیادت کے ٹھکانوں کی معلومات اسی ایک مفرور سے مل سکتی ہیں تو پاکستان میں امریکہ کے خفیہ نیٹ ورک کی معلومات کیا ہیں۔ اگر کوئی معلومات ہوتیں تو ان کی بنیاد پر مبینہ ٹھکانوں کی نشاندہی ہو جاتی اور پتہ چل جاتا کہ پاکستان کی سیکورٹی فورسز ان ٹھکانوں پر کارروائی کرتی ہیں یا نہیں۔ رہی اس مفرور اغوا کار کی بات تو پاکستان میں رجسٹرڈ اور غیر رجسٹرڈ تیس لاکھ افغان باشندے مقیم ہیں۔ ان تیس لاکھ باشندوں میں ایک اغوا کار تلاش کرنا جنگل میں سوئی تلاش کرنے کے مترادف ہے۔ اس لیے پاکستان کی طرف سے فراہم کردہ معلومات کی بنا پر کارروائی کرنے کی پیش کش کے بعد امریکہ کے اس دعوے میں کوئی حقیقت تسلیم نہیں کی جا سکتی کہ پاکستان میں دہشت گردوں کے کوئی محفوظ ٹھکانے ہیں۔ اس میں البتہ کوئی شک نہیں کہ آپریشن ضرب عضب کے بعد دہشت گردوں کے سہولت کاروں کے خلاف آپریشن ردالفساد کے تحت کارروائیاں جاری ہیں۔ اس کے باوجود امریکہ کا یہ اصرار کہ پاکستان دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خلاف کارروائی کرے حقیقت پر مبنی نہیں ہے اور اس کی بنا پر پاکستان کے خلاف جو کارروائی شروع کی گئی ہے اس کے پس پردہ مقاصد کچھ اور ہیں۔ امریکی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ افغانستان کے چالیس فیصد علاقے پر افغان طالبان کا کنٹرول ہے اور سترہ فیصد ایسے علاقے ہیں جہاں کسی کا کنٹرول نہیں۔ آپریشن ضرب عضب کے بعد جو دنیا کی گوریلا تنظیموں کے خلاف سب سے بڑی جنگ تھی پاکستان دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے لیے موزوں ہے یا افغانستان ؟ اس کا جواب کوئی عام آدمی بھی دے سکتا ہے۔ امریکی اور افغان فوجی افغانستان ہی میں حقانی نیٹ ورک اور طالبان کے ٹھکانے تلاش کر سکتے ہیں۔ یہ اور بات کہ وہ اپنے آپ کو اس لائق نہ سمجھتے ہوں۔ ان کے پاس جنگی وسائل کی کمی نہیں۔ خفیہ آلات کی بھی کمی نہیں ہے لیکن انہیں مقامی افغان آبادی کا تعاون حاصل نہیں کیونکہ سولہ سال تک موجود رہنے کے باوجود اور اس کے ساتھ افغان فوج نے افغان عوام میں اپنے لیے کوئی نیک نامی نہیں کمائی ، الٹا افغان عوام کو بدامنی اور جنگ کی صعوبتیں دی ہیں۔ اگر افغان طالبان کے ساتھ کوئی امن انتظام کیا جائے تو یہ ممکن ہو سکتا ہے لیکن اندریں حالات یہ سوال اہم ہو جاتا ہے کہ آیا امریکہ افغانستان میں امن چاہتا ہے؟ پاکستان کو مذہبی آزادی کے منافی اقدامات کرنے والے ممالک کی واچ لسٹ میں شامل کرنا بھی پاکستان پر دباؤ بڑھانے کا حربہ ہے۔ فرض کیجئے پاکستان اور امریکہ کے درمیان ، پاکستان کے افغانستان میں کارروائی نہ کرنے کے باوجود کوئی مفاہمت ہو جاتی ہے تو کیا پاکستان میں اقلیتوں کے ساتھ سلوک کے بارے میں الزام خود بخود ختم ہو جائے گا؟ ۔

متعلقہ خبریں