Daily Mashriq


پاک امریکا تعلقات کا نیا موڑ

پاک امریکا تعلقات کا نیا موڑ

امریکہ نے پاکستان سے سیکورٹی تعاون معطل کرتے ہوئے اسے چین ، ایران اور سعودیہ کے ساتھ خصوصی واچ لسٹ میں شامل کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان مذہبی رواداری کی خلاف ورزی کررہا ہے ۔ امریکی حکام مطالبہ کر رہے ہیں کہ مذہبی رواداری کے لئے عملی اقدامات کے ساتھ حقانی نیٹ ورک اور افغان طالبان کے پاکستانی نیٹ ورک دونوں کے خلاف کارروائی کی جائے ۔ اُدھر امریکی وزیر خارجہ نے پاکستان کو خصوصی واچ لسٹ میں شامل کئے جانے کے اقدامات کی تصدیق کردی ہے ۔ ایک امریکی اہلکار نے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ انتہا پسند تنظیموں کے دھرنے فوج سے مذاکرات کے بغیر ختم نہیں ہوئے ؟ ۔ بد قسمتی یہ ہے کہ امریکی صدر کی ٹویٹ اور پھر دیگر ذمہ داران کے بیانات اور ریاستی اقدامات کے جواب میں ہمارے یہاں زبانی جمع خرچ کے سوا کچھ نہیں ہو رہا ۔ اس پر ستم یہ ہے کہ چند کج فہم سستی حب الوطنی کے مظاہروں کو قومی غیرت قرار دے رہے ہیں ۔ ایک دلچسپ صورت یہ بھی ہے کہ عمران خان کہتے ہیں ''امریکہ کا غیر ضرور ی سفارتی عملہ نکال دیا جائے ''۔ مذہبی رہنماتو امریکی سفیر کو کان سے پکڑ کر سرحد پر چھوڑ آنے سے کم بات نہیں کر رہے ہیں ۔ اس سے بڑا المیہ اور کیا ہو سکتا ہے کہ اس بد نصیب ملک کے پاس آج ایک بھی ایسا رہنما نہیں جس کا عالمی سطح پر ایک مدبر ، دانش ور اور زیرک سیاستدان کا تعارف ہو اور دنیا اس کے خیالات کو نظر انداز نہ کر سکے ۔ ایسی بد حالی بھی مقدر میں لکھی تھی ۔ معاف کیجئے گا ہماری سیاست وعسکریت کے نوری نتوں نے ہمیں اس مقام پر لاکھڑا کیا ہے ۔ چند جگتیں ہیں اور کچھ وضاحتیں ۔ سوال یہ ہے کہ امریکہ سے یہ دریافت کرنے کی ہمت کیوں نہیں کی جارہی ہے کہ ہمیں حقانی نیٹ ورک اور افغان طالبان کے خلاف کارروائی کا کہہ رہے ہیں مگر خود آپ افغان طالبان سے مذاکرات فرماتے ہیں اور داعش کے درندوں کو افغانستان میں منظم کر رہے ہیں ؟ ۔ ہو سکتا ہے ہم سے غلطیاں سرزد ہوئی ہوں مگر دودھ کے دُھلے امریکی بھی نہیں۔ پوچھئے ان سے کہ ٹی ٹی پی فضل اللہ گروپ کا امیر فضل اللہ افغان صوبے نورستان کی جس عمارت میں مقیم ہے وہ عمارت کس کی ملکیت ہے ؟ ۔ رہا سوال 33ارب ڈالر کا تو اس میں سے 19ارب ڈالر امداد تھی اور 14ارب ڈالر لاجسٹک سپورٹ اور دوسری مدوں کے ۔ ساعت بھر کے لئے رُکیئے وضاحتیں کیوں ۔ کیوں نہ ہم اپنی پالیسیوں پرٹھنڈ ے دل سے ازسر نو غور کرنے کا حوصلہ کریں ۔ موجود ہ حالات میں حوصلے کی ہی اشد ضرورت ہے ۔ اصولی طور پر امریکہ سے بڑے مجرم وہ قائد ین ہیں جنہوں نے اس ملک کواپنے شخصی فوائد اور اقتدار کو طول دلوانے کے لئے امریکی کیمپ کا رکن بنوایا ۔ کیا اس ملک نے ایک ایسا حکمران نہیں دیکھا جو دس سال تک اقتدار پر قابض رہا اور سی آئی اے کے ریکارڈ کے مطابق امریکہ سے سالانہ وظیفہ بھی لیتا رہا ۔ کبھی کبھی جب وہ فوجی حکمران یاد آتا ہے تو اقامہ رکھنے والے سیاستدان معصوم لگتے ہیں ۔ خیر ہم اصل موضوع پر بات کرتے ہیں ۔ امریکی اقدامات شروع ہوئے ہیں یہ کہاں رُکیں گے ؟ طوطا فال نکلوا لیجئے کیونکہ اب اس ملک میں انتہا پسندی ۔ کاروبار ی سیاست ، اسٹیبلشمنٹ کی ہمنوائی کے ساتھ طوطا فال بھی اچھا کاروبار رہے گا ۔ان امور اور سوالوں پر بحث چھوڑ بھی دیں تو یہ سوال بہت اہم ہے کہ ایسی خارجہ و دفاعی پالیسیاں جنہیں سول قیادت نے تشکیل ہی نہ دیا ہو کی سزا عوام کیوں بھگتیں ؟ ۔ اب بھی وقت ہے کہ اس زعم سے جان چھڑائی جائے کہ ''ہمارے '' سوا کسی کو کچھ معلوم نہیں اور رہنمائی کی خاص صلاحیتیں اللہ نے 'ہمیں '' ہی عطا کی ہیں ۔ عین اس وقت جب سیاسی خلفشار کا طوفان اور دھند دونوں مل کر حد نگاہ زیرو بنائے ہوئے ہیں۔ امریکہ الزامات اور پابند یوں کے جنون کا شکار ہوگیا ہے ۔ آخر کیا وجہ ہے کہ ہم چاہتے ہیں کہ دنیا ہماری افغان پالیسی کو تقدس کا درجہ دے ۔ کیا مجبوری ہے ، افغانوں کو اپنے گھر میں خوش رہنے دیں ہمیں سیدھے سبھائو اپنے معاملات درست کرنا ہوں گے یہی بہت ضروری ہے۔ ہمارے اپنے مسائل بہت ہیں اور سب سے اہم مسئلہ انتہاپسندی اور دہشت گردی ہے۔ ان لمحوں میں جب سطور لکھی جارہی ہیں کوئٹہ سے دہشت گردی کے ایک واقعہ کی اطلاع ہے ۔ عرض کرنے کا مقصدیہ ہے کہ امریکی وزارت خارجہ کے ایک اہلکار کے اس سوال کا جواب کیا ہے کہ انتہاپسندوں کے دھرنے فوج سے مذاکرات کے بغیر ختم کیوں نہیں ہوتے ؟ ۔ ٹھنڈے دل سے اگر اس سوال یا سوال نما الزام پر غور کریں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارا ماضی کچھ ایسا شاندار ہر گز نہیں۔ جنرل ضیا ء الحق اور جنرل مشرف کی پالیسیوں اور دوہرے معیارات نے دنیا میں ہمار ے لئے بد اعتمادی پیدا کی ۔ یہ بد اعتمادی کیسے دور ہوگی ۔ ہمارا گھر مسائل سے پاک کیسے ہوگا یہ اہم نوعیت کا معاملہ ہے۔اس معاملے کو یکسر نظر انداز کرنا مزید مسائل پیدا کرے گا ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس سیاہ بخت ماضی سے جان چھڑانے کے لئے سنجیدہ اقدامات اٹھائے جائیں ۔ قانون کی بالادستی کو یقینی بنا کر ہر قسم کی انتہا پسندی کا خاتمہ ممکن ہے ۔ ضرب عضب کے برادر خور د ردالفساد پر لگی لپٹی کے بغیر عمل کیا جائے۔ بالخصوص پنجاب میں سہولت کاروں کے اڈوں اور ان شخصیات کے خلاف بلاتاخیر کارروائی جو کالعدم تنظیموں کی امداد و اعانت ہر دو معاملوں میں خاصے بد نام ہیں ۔ حرف آخر یہ ہے کہ کسی تاخیر کے بغیر پارلیمان کا مشترکہ اجلاس بلانے کے ساتھ دستیاب وزیر اعظم کو آل پارٹیز کانفرنس بھی بلانی چاہیئے اور بڑھکوں جگتوں سے اجتناب بھی لازم ہے ۔

متعلقہ خبریں