یخ بستہ دہلیزپر پھیلی کہانیاں

یخ بستہ دہلیزپر پھیلی کہانیاں

جب بھی کوئی کتاب موصول ہوتی ہے اسے پہلی فرصت میں ہی پڑھ لیتا ہوں ۔ لکھتا اسی کتاب پر ہوں کہ جو واقعی قابل مطالعہ ہوں ۔ وجہ صاف اور ظاہر سی ہے کہ میرے لکھنے پر کوئی کتاب تلاش کرکے پڑھ لے اور اس کے پلے کچھ نہ پڑے تو یقینا یہ ادبی بددیانتی ہی ہوگی ۔ یوں بھی کتاب لکھنا کوئی آسان کام نہیں اور آج کے اس دور میں کہ کتاب کوئی پڑھتا نہیں ، کتاب لکھنا اور لکھ کر بانٹنا دیوانگی ہی سمجھی جاسکتی ہے ۔ گزشتہ دنوں دو بہت اچھی کتابیں ملیں ۔ دوسری پر تو بعد میں بات ہوگی۔''یخ بستہ دہلیز''سید زبیر شاہ کے افسانوں کا مجموعہ ہے ۔ پرنٹرز پشاور نے اسے چھاپا ہے ۔ کتاب میں ناصر علی سید اورحمید شاید کے فلیپ جبکہ راقم الحروف اور یوسف عزیززاہد کے مضامین کے سنگ انیس افسانے ہیں ۔ایک سے ایک اچھا اور دلچسپی سے بھرا ہوا افسانہ ۔یہ سید زبیر شاہ کا دوسرا افسانوی مجموعہ ہے ۔اس سے پہلے ''خوف کے کتبے '' کچھ برس ادھر پذیرائی سمیٹ چکا ہے ۔ ذیل کی سطور میں کتاب مذکورہ پرراقم کا لکھا ہوا تبصرہ پیش کیا جاتا ہے ۔سید زبیر شاہ کا شمار اپنی نسل کے ان قلم کاروں میں ہوتا ہے کہ جو اپنی محنت سے اپنی عزت کماتے ہیں ۔ زبیر کا ادبی سفر میرے سامنے ہی شروع ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے زبیر نے عملی و ادبی حلقوں میں اپنی شناخت بنالی ۔ زبیر یوں تونصابی سطح کے محقق بھی اور شعر بھی کہہ لیتے ہیں لیکن ان کا اصل میدان بہرحال افسانہ ہی ہے ۔سید زبیر شاہ کے افسانوںکا پہلا مجموعہ ''خوف کے کتبے ''جب چھپا تو اس کتاب نے سچ مچ قاری کو چونکا دیاتھا ۔اُس مجموعے میں زبیر نے علامت کا سہارا لے کر قومی اور بین الاقوامی منظر نامے کو افسانے کا روپ دیا تھا ۔ اُس کتاب کا اگر مجموعی موضوع تلاش کیا جائے تو اس میںعالمگیریت سے جنم لینے والے ایک نئے سماج کی تشکیل کو موضوع بنایا گیا تھا ۔''یخ بستہ دہلیز ''بقول مرشدی ناصر علی سید، زبیر کی ''کہانی کا دوسرا پڑاؤ ''ہے ۔مجھے اس دوسرے مجموعے میں زبیر اپنے ارتقائی سفر کی اگلی سیڑھی پر کھڑے دکھائی دیتے ہیں ۔اس مجموعے کے چند ایک افسانوں میں ''خوف کے کتبے ''کی بازگشت تو سنائی دیتی ہے، لیکن بیشترا فسانوں میں موضوعاتی سطح پر عالمگیریت کا وہ پھیلاؤ نہیں دکھائی دیتاجو پہلے افسانوی مجموعے میں موجود تھا ۔ زبیر کا ''خوف کے کتبے'' کا آدرش یہاں تبدیل ہوتا نظر آتا ہے،عالمگیریت سے مقامیت موضوع کی سطح پر نمایا ں دکھائی دیتی ہے ۔''یخ بستہ دہلیز '' کا افسانہ ہمارے سماج کی کہانی ہے ، وہ کہانی جو ہماری دیہی اور شہری زندگیوں کی کوکھ سے جنم لیتی ہے ۔انسانی رویوں کو زبیر شاہ نہ صرف سمجھتا ہے بلکہ ان رویوں کی چبھن کی نوک سے کہانی کاتانا بانا بھی بن لیتا ہے ۔ مادہ پرستی ، کج سے کج تر ہوتے سماجی رویوں اور مٹتی ہوئی قدروں ، ناانصافیوں ، بے ایمانیوں اور بداعمالیوں کو زبیر نے اپنے افسانوں کا موضوع بنایا ہے ۔ آج کے ادیب کو موضوع کے چناؤ میں بہرحال ایک خوف ضرور لاحق ہے مبادہ کوئی ناراض نہ ہوجائے ۔ زبیر موضوعات کے چناؤ میں اس قسم کے خوف کا شکار دکھائی نہیں دیتا، اگرچہ زبیر کے افسانوں میں جنس کی ایک لہر ضرور محسوس ہوتی ہے لیکن وہ شاید ''جنس نگار''کہلوانے سے خائف ہے کہ جنس پر اس انداز سے کھل کر بات نہیں کرتا ۔کہانی میں کہیں جنسی حوالہ آبھی جائے تو وہ کسی شرمیلے نوجوان کی طرح آنکھیںزمین میںگاڑے اس منظر سے نکل جاتا ہے۔ بہرحال وہ اپنے مطلب کی بات کرنے کا ہنر ضرور جانتا ہے ۔ زبیر شاہ نے افسانہ کو واقعی ایک سنجیدہ سرگرمی کے طور نبھایا ہے ۔ وہ اپنے موضوع کے خمیرکو خوف میں گوندھتا ہے اور پھر بنت کے چاک پر دھرتا ہے ۔اس کے بعد جو کہانی کی پراڈکٹ سامنے آتی ہے تو لازماً بے داغ اور ہموار ہوتی ہے ۔زبیر شاہ کا افسانہ اپنی چست بنت کاری سے قاری کو Gripکرتا ہے ۔ زبیر شاہ کے افسانوں کی کہانی عموماً کہانی کی آخر لائنوںمیں ہی کھلتی ہے۔زبیر شاہ کہانی کے اختتام کے لیے کوئی نہ کوئی پھلجڑی سنبھال کررکھتے ہیں جسے وہ کہانی ختم ہونے پر قاری کو عنایت کردیتے ہیں ۔زبیر شاہ کا افسانہ اپنی تفہیم کے حوالے سے بہت آسان ہے ۔ سادہ سے اسلوب میں وہ کہنے کی ساری باتیں کرجاتے ہیں ۔اردو افسانہ میں علامت نگاری کا ایک عہدگزرا ہے ۔جدید افسانہ نے اگرچہ اس گہری علامت نگاری سے تو مراجعت کرلی ہے لیکن علامت بہرحال کسی نہ کسی روپ میں جدید افسانے کو ضرور متاثر کرتی ہے ۔''یخ بستہ دہلیز ''اپنے عنوان سے لے کر اندر کے افسانوں تک علامتیں لیے ہوئے ہے ۔ یہ علامتیں نہ تو گنجلک ہیںاور نہ ہی تفہیم سے عاری بلکہ افسانے کے اسلوب کی تزئین کرنے کے ساتھ یہ علامتیں افسانے کے پیڈسٹل کو بڑھاوادینے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں ۔ ''یخ بستہ دہلیز ''کے مسودے کو پڑھ کر میں بڑے یقین سے یہ بات کہہ سکتا ہوں کہ زبیر شاہ کا یہ افسانوی مجموعہ پہلے مجموعے سے زیادہ پذیرائی حاصل کرے گااور زبیر کی اس کاوش کو صاحب علم ضرور قدر کی نگاہ سے دیکھیں گے ۔

اداریہ