Daily Mashriq

جیسے بوسیدہ کتابیں ہوں حوالوں کیلئے

جیسے بوسیدہ کتابیں ہوں حوالوں کیلئے

ایسا بھی ہوتا ہے کہ بعض تحریریں نامکمل رہ جاتی ہیں۔ وجوہات ایک سے زیادہ بھی ہوسکتی ہیں۔ یہی کچھ گزشتہ کالم کیساتھ ہوا یعنی وہ جو کتب بینی کے حوالے سے چند گزارشات کی تھیں' خود مجھے بھی تشفی نہیں ہوئی تھی اور میں بھی محسوس کر رہا تھا کہ کچھ نہ کچھ کمی رہ گئی ہے اور بات کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ اوپر سے جب وہ کالم میں نے فیس بک اور ٹویٹر پر ڈالا تو اس پر بہت سے دوستوں نے اپنے تبصروں میں ہل من مزید کے مطالبات کئے۔ ریڈیو کے دور کے میرے سینئر اور ڈرامے کے شعبے میں میرے اساتذہ میں سے ایک جناب میثاق حسین زیدی نے لکھا کہ ''اس موضوع پر مزید اور مسلسل کالموں کی ضرورت ہے' اپنا کرب کیسے بیان کروں' آپ نے خود بھی دیکھا ہوگا کہ یورپ وامریکہ کی لائبریریاں کتنی معیاری ہیں۔ کراچی کی سب سے بڑی لائبریری لیاقت نیشنل لائبریری برے حال میں ہے۔ میں چھوٹا تولیہ اور صابن لیکر جاتا تھا' دوستوں سے کہیں لکھیں' کوئی تو سنے گا''۔ میثاق صاحب ریڈیو سے ریٹائرڈ ہونے کے بعد بیرون ملک چلے گئے اور اب وہ امریکہ کے اُردو اخبارات میں خود بھی کالم لکھتے ہیں۔ اسی طرح امریکہ سے ہمارے ایک کرم فرما ڈاکٹر شفیق جو امریکہ میں مرحوم احمد فراز کے مستقل میزبان رہے انہوں نے اگرچہ اشفاق احمد والے تبصرے پر اپنی رائے دی ہے تاہم وہ ہمیشہ نہ صرف میرے کالموں پر تبصرہ کرتے ہیں' اچھی رائے دیتے ہیں بلکہ خود بھی امریکی اخبارات میں کالم لکھتے ہیں۔ اچھے شاعر ہیں اور ان کے ایک مجموعہ کلام کو اباسین آرٹس کونسل نے بہترین کتاب کا ایوارڈ بھی دیا ہے۔ اسلام آباد سے نامور اہل قلم اقبال حسین افکار نے نیشنل بک فاؤنڈیشن کی جانب سے پشتو زبان کی ہر مصنف سے فہمیدہ ریاض کے دور میں دو دوسو نسخے صرف 15فیصد رعایتی نرخوں پر خریدنے کی طرح ڈالی تھی۔ تاہم افکار صاحب نے یہ نہیں بتایا کہ اب یہ سلسلہ جاری ہے یا بند ہوچکا ہے اور اسی سے مجھے ایک اور ادارہ یاد آگیا جو اسلام آباد کے بازار مارکیٹ کے علاقے میں ایک بنگلے میں کام کرتا تھا، اب نہیں معلوم وہیں موجود ہے یا کہیں اور شفٹ ہوچکا ہے۔ یہ ادارہ پاکستان بھر کے بلدیاتی اداروں کو کتب کی سرکاری سطح پر فراہمی کا اہتمام کرتا تھا البتہ وہ مصنفین سے (غالباً) 40فیصد پر کتابیں خریدتا تھا۔ میری ایک کتاب ''ہنگری کی لوک کہانیاں'' کی کئی بار اسی ادارے کو فراہمی جبکہ مانسہرہ کے ایک کتب فروش کو بھی 5سو کی تعداد میں سپلائی کی وجہ سے محولہ کتاب کے پانچ ایڈیشن شائع ہوئے۔ البتہ افسانوں کے مجموعے بیانیہ کے بھی لاہور کے ایک اشاعتی ادارے نے چند نسخے طلب کرکے موقع پر ہی ادائیگی کر دی تھی۔ میری ایک اور کتاب ''عجیب وغریب معلومات'' اگرچہ لاہور کے ایک اشاعتی ادارے نے شائع کی مگر اس زمانے میں رائلٹی کے صرف سات سو روپے ملے اور اس کتاب کی افادیت کے حوالے سے بعد میں پبلشر نے کتنی بار کتاب چھاپی' کچھ پتہ نہیں' نہ ہی مجھے رائلٹی ملی کیونکہ ہمارے ہاں اشاعتی اداروں کا ایک طریقہ واردات یہ بھی ہے کہ کتاب پہلے تو خود سے چھاپتے نہیں اور لکھاری کو خود اپنے پلے سے اخراجات برداشت کرنا پڑتے ہیں۔ ہمارے پشاور کے کئی اچھے ادباء وشعراء کیساتھ یہی ہوا ہے کہ وہ نہ صرف لاہور' فیصل آباد وغیرہ کے بڑے اشاعتی اداروں کی وساطت سے اپنے ہی خرچے پر کتاب چھاپنے کے باوجود زیادہ سے زیادہ سو دوسو نسخے ہی حاصل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں' باقی کے ادارے کا مالک صرف اس لالچ پر ہتھیا لیتا ہے کہ وہ اسے ملک بھر میں سپلائی کرے گا تاہم نہ صرف رقم خود ہی رکھ لیتا ہے بلکہ اگر ڈیمانڈ آجائے تو دوبارہ کتاب چھاپ کر بھی قلمکار کو کچھ نہیں دیتا۔ اس حوالے سے مرحوم ڈاکٹر ظہور احمد اعوان نے اپنی کئی کتب مفت تقسیم کیں یا پھر پشاور کے ایک کتب فروش کے پاس رکھوا لیتے تھے اور نوپرافٹ نولاس کے اصول کے تحت انتہائی سستے داموں کتب بینی کے شوقینوں کو فراہم کر کے مسرت واطمینان کا اظہار کرتے تھے' یہاں تک کہ انہوں نے اپنے پی ایچ ڈی کے مقالے اور بعض دوسری کتابوں کی رائلٹی بھی معاف کرکے جس پبلشر کا دل چاہے چھاپ دے کے اصول کے تحت اجازت نامہ عام کر دیا تھا' ان کے مقالے کی چونکہ اردو ادب کے تحقیق نگاروں کیلئے بہت اہمیت ہے اسلئے لاہور کا ایک پبلشنگ ادارہ ان کی اس فراخدلی سے بھرپور فائدہ اُٹھا رہا ہے' البتہ نہایت افسوس کیساتھ عرض کرنا پڑتا ہے کہ ان کی خودنوشت سوانح عمری کی زیادہ پذیرائی نہ ہو سکی اور بعض دوستوں نے یہ کتاب لاہور کے فٹ پاتھوں پر پڑی دیکھی' اس سے آپ ملک کے اندر لکھاریوں اور کتابوں کی وقعت کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ اسی طرح محترم میثاق حسین زیدی نے لیاقت نیشنل لائبریری کی جس بدحالی کا تذکرہ کرتے ہوئے وہاں چھوٹا تولیہ اور صابن ساتھ لیکر جانے کی بات کی ہے تو ان کا مطلب یہ ہے کہ لائبریری کی حالت اتنی دگرگوں ہے کہ کتابیں گرد سے اٹی ہوئی ہیں' کوئی ان کی فکر نہیں کرتا اسلئے جب کوئی ''پاگل'' شوق کتب بینی میں وہاں جاتا ہے تو مطلوبہ کتابیں تلاش کرتے اس کی جو ہیئت کذائی بن سکتی ہے اس کے بعد صابن کیساتھ منہ ہاتھ دھونے اور تولئے سے خشک کرنے کے بنا کیا چارہ رہ جاتا ہے۔ فارغ بخاری نے اسی لئے تو کہا تھا

یاد آئیں گے زمانے کو مثالوں کیلئے

جیسے بوسیدہ کتابیں ہوں حوالوں کیلئے

متعلقہ خبریں