Daily Mashriq

پبلک پراپرٹی

پبلک پراپرٹی

کسی دانشور کا قول ہے کہ جب بھی کوئی شخص پبلک پراپرٹی کو نقصان پہنچاتا ہے تو وہ دراصل اپنے ہی معاشرے کو نقصان پہنچا رہا ہوتا ہے، کسی بھی مہذب معاشرے میں پبلک پراپرٹی کو اپنی ملکیت سمجھا جاتا ہے۔ یہ ایک رویہ ہے، سوچنے کا ایک انداز ہے۔ تہذیب یافتہ ممالک میں بڑی باقاعدگی کیساتھ اس شعور کو اُجاگر کیا جاتا ہے جس کے یقینا بہت سے دوررس نتائج حاصل ہوتے ہیں۔ ہمارے اردگرد موجود سب اشیاء ہماری یعنی عوام کی ملکیت ہیں۔ پاکستان ہمارا گھر ہے اور ہم نے ہی ان اشیاء کی حفاظت کرنی ہے۔ یہ کہتے ہوئے افسوس ہوتا ہے کہ ہم نے ابھی تک وطن عزیز کو اپنا گھر نہیں سمجھا، اس کی قدردانی نہیں کی، اس سے محبت کا حق ادا نہیں کیا، ہماری سڑکیں سکول، کالج، لائبریریاں، باغات، باغیچے، ہسپتال،کھیل کے میدان، بجلی، گیس، سرکاری دفاتر اور اسی طرح دوسری بہت سی اشیاء پبلک پراپرٹی ہیں۔ یوں کہئے ہم ان کے مالک ہیں ہم نے ان کی آرائش وزیبائش کا خیال رکھنا ہے، یہ سب کچھ ہمارے ہی پیسے سے تعمیر کیا جاتا ہے، یہ پیسہ حکومت ہم سے ٹیکس کی صورت میں وصول کرتی ہے۔ یہ حکومت کے فرائض میں شامل ہے کہ پبلک پراپرٹی کا خیال رکھے، قومی اثاثوں کو کسی بھی قسم کا نقصان نہ پہنچنے دے لیکن حکومت یہ سب کچھ عوام کے تعاون کے بغیر نہیں کر سکتی۔ ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم اس حوالے سے حکومت کیساتھ پورا پورا تعاون کریں مگر جب اپنے گریبان میں جھانکنے کا موقع ملتا ہے تو کوئی اچھی تصویر بنتی نظر نہیں آتی! ہم اپنے گھر میں بجلی اور گیس کے استعمال میں بڑی کفایت شعاری کا مظاہر ہ کرتے ہیں اگر گھر میں کوئی فالتو بلب یا ٹیوب لائٹ روشن ہو تو اسے فوراً آف کر دیا جاتا ہے۔ اسی طرح گیس کا بھی خیال رکھا جاتا ہے کہ وہ ضائع نہ ہونے پائے کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ ان کا بل بھی ہم نے ادا کرنا ہے لیکن ہم سرکاری دفاتر اور عمارتوں میں بے تحاشہ بجلی اور گیس ضائع کرتے ہیں، سرکاری دفاتر میں بڑی بیدردی کیساتھ بجلی کے ہیٹر استعمال کئے جاتے ہیں، اسی طرح گرمیوں میں کئی کئی گھنٹے اے۔سی چلتے رہتے ہیں، کسی کو ان کے بند کرنے کا خیال تک نہیں آتا۔ اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ ہم ان چیزوں کو اپنی ملکیت نہیں سمجھتے، ہمارے ذہن میں یہی بات ہوتی ہے کہ یہ تو سرکار کا مال ہے وہ جو کہتے ہیں مال مفت دل بے رحم! کسی بھی قسم کے عوامی احتجاج کے دوران ہم پبلک پراپرٹی کو بہت زیادہ نقصان پہنچاتے ہیں حالانکہ اس وقت ہم اپنا ہی نقصان کر رہے ہوتے ہیں۔ حکومت کا خسارہ ہمارا ہی خسارہ ہے جب سرکاری خزانے پر بوجھ پڑتا ہے تو ہم پر نت نئے ٹیکس لگا دئیے جاتے ہیں۔ بجلی اور گیس کی قیمتیں آئے دن بڑھتی رہتی ہیں، ہماری کرنسی روزبروز شوگر کے مریض کی طرح کمزور سے کمزور تر ہوتی چلی جارہی ہے۔ مہنگائی آسمان سے باتیں کر رہی ہے، سفید پوش طبقہ پریشان ہے! ہم اپنے ثقافتی ورثے کی قدر وقیمت سے بھی بے خبر ہیں۔ پشاور کے مشہور ومعروف شاہی باغ اور وزیر باغ جو مغلیہ دور کی یادگار ہیں اب صرف نام کے باغ رہ گئے ہیں۔ سبزہ وگل ناپید ہیں، دھول اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ وہاں سانس لینا مشکل ہو جاتا ہے، مالیوں کی فوج ظفرموج تو موجود ہے وہ کچھ نہ کچھ کرتے ہی رہتے ہیں، پودوں کا خیال بھی رکھتے ہیں مگر ان باغات میں تفریح کی غرض سے آنے والے لوگ پھول توڑ تے ہیں۔ سیدھا راستہ چھوڑ کر چمن میں سے گزرتے ہیں، پودوں کا خیال نہیں رکھتے، باغوں میں پڑے ہوئے کوڑے دان استعمال نہیں کرتے جو کچھ کھاتے پیتے ہیں ان کی باقیات باغ میں ہی گرا کر رخصت ہو جاتے ہیں۔ یوں لگتا ہے جیسے کسی کو ان باغوں کی قدر وقیمت کا احساس تک نہیں ہے! بچوں کیلئے کوئی ڈھنگ کے میدان نہیں ہیں اس لئے ان باغات میں ہر وقت کرکٹ میچ چلتے رہتے ہیں۔ چھوٹے چھوٹے باغیچوں میں چار پانچ ٹیمیں کھیل رہی ہوتی ہیں! کچھ اسی قسم کی صورتحال ہمارے ہسپتالوں کی بھی ہے، ہسپتالوں میں اردلی سویپر اپنا کام بڑی جانفشانی کیساتھ کرتے ہیں لیکن مریضوں کی عیادت کیلئے آنے والے لوگ ہسپتال میں بے تحاشہ گند ڈالتے رہتے ہیں۔ پشاور شہر کا اکلوتا سرکاری ہسپتال ہونے کی وجہ سے یہاں رش بہت زیادہ ہوتا ہے، لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ آتے جاتے رہتے ہیں، کیاریوں کو روند ڈالنا، باغیچوں میں گندگی پھیلاتے رہنا، ایک مریض کی خدمت کیلئے دس بارہ لوگ تو ضرور ہوتے ہیں جو وارڈ کے سامنے باغیچے میں دریاں بچھا کر بیٹھے رہتے ہیں۔ اتنے لوگوں کی کثرت سے یقینا بہت سے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ ہسپتال انتظامیہ کی بار بار کی ہدایات کے باوجود لوگ ٹس سے مس نہیں ہوتے، ان پر کوئی نصیحت اثر نہیں کرتی! کچھ لوگوں کی مجبوریاں ہوتی ہیں اور کچھ تہذیبی شعور نہ ہونے کی وجہ سے بھی مشکلات کا سبب بنتے ہیں! پشاور میں تجاوزات کیخلاف مکمل اور بھرپور آپریشن کیا گیا لیکن آہستہ آہستہ تجاوزات کا سلسلہ پھر سے شروع ہو رہا ہے۔ فقیرآباد کے پل کے نیچے پھر سے دکانیں سجا دی گئی ہیں، غیرقانونی طور پر بیٹھے ہوئے دکانداروں کیلئے کوئی متبادل بندوبست ہونا چاہئے تاکہ ان کیلئے روزگار کا مسئلہ بھی پیدا نہ ہو اور حکومت کی آمدنی کا بھی ایک قانونی ذریعہ پیدا ہو جائے!۔

متعلقہ خبریں