Daily Mashriq

افغانستان میں امن کا 3ارب لوگوں کو فائدہ

افغانستان میں امن کا 3ارب لوگوں کو فائدہ

افغانستان کے جغرافئے پر نظر ڈالیں تو اس کے جنوب مشرق میں پاکستان، مغرب میں ایران، شمال میں ترکمانستان، اُزبکستان، تاجکستان اور شمال مشرق میں چین واقع ہے۔ افغانستان میں پختون 47فیصد، تاجک 26فیصد، ہزارہ اور اُزبک 9فیصد، اجنک 4فیصد، ترکمن 3فیصد اور بلوچ 2فیصد ہیں۔ افغانستان میں پختون اکثریت میں ہیں، افغانستان میں صوبوں کی تعداد 34 ہے۔ افغانستان کے تجزیہ نگاروں کے مطابق افغانستان کے 60سے65 فیصد علاقے پر طالبان کا قبضہ ہے۔ اس وقت امریکہ کی سربراہی میں نیٹو کے 29ممالک افغانستان پر قبضہ جمائے ہوئے ہیں۔ اب جبکہ امریکہ اور نیٹو افواج افغانستان میں طا لبان کے ہاتھوں شکست سے دوچار ہیں تو امریکہ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ طالبان کیساتھ بات چیت کرنا اور افواج کا انخلاء چاہتا ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس سے پہلے افغانی ماضی اور ماضی قریب میں برطانیہ اور روس کو بھی شکست دے چکے تھے۔ امریکہ کے مطابق افغانستان میں نائن الیون کے بعد اس جنگ سے اس کا 2400ارب ڈالر نقصان ہوا اور نیٹو اور امریکہ کے ہزاروں فوجی جنگ کی وجہ سے لقمۂ اجل بن گئے۔ اب جبکہ امریکہ کو افغانستان میں کامیابی کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے ہیں تو سیاسی مبصرین اور تجزیہ نگاروں کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ افغانستان سے فوج کا انخلا چاہتے ہیں مگر بعض تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ امریکہ افغانستان سے کبھی بھی اپنی فوجوں کا مکمل انخلا نہیں کرے گا اور اس کی کوشش ہوگی کہ افغانستان میں اس کی کچھ فوجیں موجود رہیں۔ اب سوال یہ ہے کیا امریکہ افغانستان کو اس طرح چھوڑے گا جس طرح روس نے جنگ اور صلح کے بعد چھوڑا تھا۔ کیا بین الاقوامی برادری افغانستان میں تعمیرنو کیلئے کوئی حکمت عملی بنائے گی اور ان کی اس وقت تک مددکرتی رہے گی جب تک افغانی اپنے پاؤں پر کھڑے نہ ہوں۔ بین الاقوامی تعلقات عامہ کے ماہرین کا خیال ہے کہ جب تک افغانستان میں امن قائم نہیں ہوگا اس وقت تک دنیا اور بالخصوص اس خطے میں امن قائم نہیں ہوسکتا۔ اگر ہم مزید تجزیہ کریں تو دنیا کے اس خطے میں جہاں افغانستان واقع ہے تقریباً 3ارب سے زیادہ لوگ رہ رہے ہیں۔ افغانستان اور اس کے پڑوسی نہ صرف تجارتی لحاظ سے انتہائی اہمیت رکھتے ہیں بلکہ ان کا جغرافیہ اور اس علاقے میں جتنے قدرتی وسائل ہیں وہ انتہائی اہم ہیں اور ہر دور میں دنیا کی ہر سپرطاقت کی یہ خواہش رہی کہ اس خطے اور بالخصوص افغانستان پر قبضہ جمایا جائے۔ اگر ہم مزید غور کریں تو سعودی عرب، ایران اور خلیجی ممالک میں تیل کی مقدار میںکمی واقع ہو رہی ہے۔ اب امریکہ اور اتحادی نئے تیل کے ذخائر کی تلاش میں ہیں۔ اس لحاظ سے یہ خطہ جس میں افغانستان اور وسطی ایشیائی ریاستیں واقع ہیں کو اللہ تعالیٰ نے تیل اور دوسرے بے تحاشا قدرتی وسائل سے مالامال فرمایا ہے اور امریکہ اور اتحادیوں نے اس مقصد کیلئے افغانستان پر ناکام قبضے کی کوشش کی۔ امریکہ نے نائن الیون کا بہانہ بنا کر اس علاقے پر قبضہ کرنے کی کوشش کی۔ اگر ہم تجزیہ کریں تو ایران، سعودی عرب، عمان، چین، وسطی ایشیائی ریاستیں، پاکستان اور بھارت کسی حد تک اس حق میں ہیں کہ افغانستان میں اس وقت تک پائیدار اور مستقل امن قائم نہیں ہو سکتا جب تک اس خطے کے ممالک اور بڑی طاقتیں افغانستان میں مداخلت نہ چھوڑیں۔ میرے اندازے کے مطابق اس وقت تمام طاقتیں اور ممالک افغانستان میں مداخلت نہ کرنے کی پالیسی کو اپنانے کی کوشش کریں گے مگر بعض تجزیہ نگاروں کا یہ بھی خیال ہے کہ امریکہ افغانستان میں اُن مخالف دھڑوں کو پاکستان کیخلاف استعمال کرے گا ۔ امریکہ، اسرائیل اور بھارت پاکستان میں کبھی بھی امن نہیں چاہے گا کیونکہ امریکہ، اسرائیل اور بھارت پاکستان کے جوہری اور میزائیل پروگرام کو اپنے لئے ایک خطرہ سمجھتے ہیں۔ ماضی میں بھارت اور اسرائیل نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر حملہ کرنے کی کوشش بھی کی تھی۔ اب سوال یہ ہے کہ پاکستان نے ان ممکنہ حالات سے نمٹنے کیلئے کیا حکمت عملی بنائی ہوئی ہے؟۔ پاکستان کس طرح ان حالات سے نمٹے گا۔ ماضی قریب میں مطلق العنان پرویز مشرف نے امریکہ کی خوشنودی کیلئے پاکستان کے تمام پڑوسیوں اور بالخصوص افغانستان کیساتھ تعلقات خراب کئے تھے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اس خطے کے مندرجہ بالا تمام چھوٹے اور بڑے ممالک کو ٹھنڈے دماغ سے سوچنا ہوگا کیونکہ اس وقت تک اس خطے کے 3ارب انسانوں کیلئے امن قائم نہیں ہوسکتا جب تک بڑی طاقتیں اور بالخصوص اس خطے کے پڑوسی افغانستان میں امن اور ترقی کیلئے کوشاں نہ ہوں۔ سارے ممالک بشمول امریکہ، روس، چین بھارت، پاکستان اور افغانستان کے دیگر پڑوسیوں کو ماضی کو بھولنا ہوگا اور اس خطے میں پائیدار اور مستقل امن اور افغانستان کے تعمیرنو کیلئے کام کرنا ہوگا۔ ریاست اور ملک خواہ چھوٹا ہے یا بڑا ان کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے گریز کرنا ہوگا۔ زیادہ تر تجزیہ نگاروں کا یہ بھی خیال ہے کہ بعض بڑی طاقتیں اور بالخصوص امریکہ اور بھارت افغانستان کو لسانی بنیادوں پر تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔ افغان اور پختون بھائیوںکو چاہئے کہ وہ اپنی صفوں میں اتحاد اور اتفاق کا مظاہرہ کریں اور کسی کے آلہ کار نہ بنیں کیونکہ جن ممالک اور ان کے لوگوں میں اتحاد اور اتفاق نہیں ہوتا وہ مٹ جاتے ہیں۔

متعلقہ خبریں