Daily Mashriq

تاریکی میں اُمید کی کرن

تاریکی میں اُمید کی کرن

گزشتہ کئی دہائیوں کی طرح پچھلاسال بھی خاص حوالوں سے پاکستان کے لئے ایک مشکل سال تھا۔ ہمیں اس میں کئی طرح کے مسائل درپیش رہے۔اب جب کہ ہم سال 2019 ء میں داخل ہو چکے ہیں،ہم میں سے کئی لوگ پاکستان میں گزرنے والی آخری آمریت کے شاہد ہیں۔ کچھ کے اذہان پر جنرل ضیا کے دور کی تلخ و تاریک یادیں اب تک کندہ ہیںاور چند ایک نے ایوب خان کی ڈکٹیٹر شپ کا دور بھی آنکھوں سے دیکھ رکھا ہے۔ موجودہ دور کے حالات نے اس سوال کو جنم دیا ہے کہ کیا وجہ ہے کہ وہ خوف جو آمریت کے ادوار میں ہمیں لاحق رہتا ہے اب جمہوری دور میں بھی واضح طور پر محسوس کیا جانے لگا ہے؟ عمران خان کی حکومت کو عوام نے منتخب کیا مگر کیا اسی عوام کو اپنی چنیدہ جمہوری حکومت سے ہمدردانہ رویے کی توقع نہیں رکھنی چاہیے؟ گو کہ وزیراعظم کی جانب سے پشاور اسلام آباد لاہور میں بے گھر افراد کے لیے شیلٹر ہوم کے قیام جیسا اقدام اور آئندہ دنوں میںاسے دوسرے شہروں میں بھی شروع کرنے کا اعلان ایک عوام دوست رویے کی جھلک ہے ۔ ایوان وزیراعظم کو ایک تحقیقاتی جامعہ میں تبدیل کر دینا بظاہر تو ایک شعبدہ معلوم ہوتا ہے البتہ اس اقدام سے یہ حکومت ایک مثبت پیغام دینے میں بہرحال کامیاب رہی ہے۔ ایک تصویر جس میں عمران خان کو ایک ایسی قمیض پہنے دیکھا جا سکتا ہے جس کے دامن پر چھید ہیںکا آج کل پی ٹی آئی کی جانب سے اپنے راہنما کی سادگی ثابت کرنے کے لیے زور و شور کے ساتھ چرچا کیا جا رہا ہے ۔ بلاشبہ پاکستان جیسا ملک جہاں ایک تہائی آبادی خط غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے اور جہاں کے حکمران اپنی دولت اور عشرت کی نمائش کرتے نہیں تھکتے، ایسے ملک میں ایک راہنما کی سادگی اپنانا خوش آئند ہے۔ البتہ اب اس سادگی کا اظہار ایک پھٹی قمیض سے کیا جاناکچھ زیادتی ہے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ لباس سے انسان کی پہچان نہیں ہوتی البتہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہم اپنے حکمرانوں کودنیا کے سامنے ایک مہذب او ربا وقار لباس میں اپنی مؤثر نمائندگی کرتا دیکھنا چاہتے ہیں۔ سال2019میں قومی سطح پر اس سوال نے جنم لیا ہے کہ اس جمہوریت سے ہمارے تعلق کی کیا نوعیت ہوگی؟حکومت کی جانب سے، وز یرا علیٰ سندھ سمیت 172 افراد کا نام ای۔سی۔ایل پر ڈال دینے کے فیصلے نے کئی سوالوں کو جنم دیا ہے اور سپریم کورٹ نے بھی اس فیصلے پر حکومت سے وضاحت طلب کی گئی ہے۔اس سال کا آغاز اس لیے بھی اُمید افزاہے کہ حکومت کی جانب سے وی آئی پی کلچر کے خاتمے اور عوام کے لیے شیلٹر ہومز جیسے ہمدردانہ اقدامات دیکھنے کومل رہے ہیں البتہ ہم اُمید کرتے ہیں ایسے اقدامات کی جن کی نوعیت زیادہ تر نمائشی ہی ہے کے ساتھ ساتھ ایسے اقدامات بھی کیے جائیں گے جو سچ میں عام آدمی کی زندگی بہتر بنانے میں کارگر ثابت ہوں۔اس کے لیے بہتر معاشی پالیسی ترتیب دینے اور غربت کے خاتمے جیسے اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔ ویسے تو پی ٹی آئی کی جانب سے لیے گئے ۔' 'یوٹرن'' بھی حالیہ دنوں میں شدید تنقید و تمسخر کا نشانہ رہے البتہ یہ بات سمجھنے کی ہے کہ بعض اوقات کوئی فیصلہ واپس لے لینے میں چنداں کوئی قباحت نہیں ہوتی۔ ہمیں یہ بات بھی سمجھنا ہوگی کہ اب ہم ایک مختلف سیاسی منظرنامے میں جی رہے ہیں جہاں ضیاء الحق کے مارشل لا کے بعد سے اب تک چلنے والا دوپارٹی سسٹم دم توڑ گیا ہے۔ یہ ایک مثبت بات ہے مگر اس کے ساتھ ہمیں ایسے راہنما درکار ہیں جو عوام کو باتوں اور وعدوں کی گھمن گھیریوں میں پھنسائے رکھنے کی بجائے عملی اقدامات کرنے کے لیے پرجوش اور حقیقی تبدیلی کے خواہاں ہوں نہ کہ اپنی سیاست دوسری پارٹیوں کی کرپشن اور انہیں دھمکانے ڈرانے کے بل بوتے پر چمکائیں۔ کرپشن کے ناسور سے نمٹنا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس نے ہمارے ملک کو شدید نقصان پہنچایا ہے اوراس میں ہماری حکومتوں میں براجمان اعلیٰ سطح کے افراد نے بھرپور ساتھ دیا ہے۔ جب تک اس ناسور کے ساتھ آہنی ہاتھوں نے نمٹا نہیں جاتا اور جب تک اسے اپنی جڑ سے اُکھاڑ پھینکا نہیں جاتا، حالات کی بہتری کی اُمید رکھنا بے معنی ہے۔اس نئے سال میں ہم کیا اہداف حاصل کر پائیں گے یہ ایک دلچسپ سوال ہے۔ معاشرے میں بہرحال کچھ مثبت اور امیدافزا چیزیں دیکھنے کو مل رہی ہیں جنہیں حکومت کی توجہ کی ضرورت ہے۔ اس کی ایک بڑی مثال کی طلباء کی جانب سے اپنی یونیورسٹی انتظامیہ کی کرپشن کے خلاف تحریک جس کی حمایت پی ٹی آئی کی جانب سے ایک شفاف اور انصاف پر مبنی سیاسی نظام تشکیل دینے کے وعدے کی تکمیل کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔ حکومت اور دیگر ریاستی اداروں کو میڈیا کے لئے بھی گھیرا تنگ کرنے سے پہلے یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ عوام کو معلومات تک رسائی اوراس کی بہتر ترسیل کرپشن سے نمٹنے کا اہم ذریعہ ثابت ہو سکتی ہے اور دوسری جانب میڈیا کو بھی اپنی ذمہ داری نبھاتے ہوئے حکومت کے ساتھ مل کر ہر برائی اور غیر قانونی اقدام کا مقابلہ کرنا چاہیے اور اس پر آواز اُٹھانا چاہیے کہ یہی اس کا اصل مقصد بھی ہے۔ یہ بات درست ہے کہ میڈیابھی اپنے راستے سے ہٹ کر سیاسی طرفداریوں اورکاروباری مفاد کے حصول کے لیے کئی دفعہ پٹری سے اُترا ہے مگر اس سب کو اس سال ختم ہونا ہوگاتا کہ ایک اچھے وقت کی اُمید کے ساتھ آئندہ سالوں کو بھی خوش آمدید کہا جا سکے۔

(بشکریہ: دی نیوز۔ترجمہ: خزیمہ سلیمان)

متعلقہ خبریں