Daily Mashriq

ٹرمپ کی خواہشِ ملاقات

ٹرمپ کی خواہشِ ملاقات

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واشنگٹن ڈی سی میںکابینہ کے اجلاس کے بعدصحافیوں سے گفتگو میںپاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ پاکستان کی نئی قیادت کے ساتھ جلد ملاقات کے خواہش مند ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہم پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں مگروہ دشمن کو اپنے گھر میں پناہ دیتے ہیں یہ سب ہم برداشت نہیں کر سکتے ۔ڈونلڈ ٹرمپ نے جہاں پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات کی خواہش کا اظہا ر کیا وہیں انہوں نے بھارت کے افغانستان میں کردار کو بھی تنقید ہی نہیں طنز واستہزا کا نشانہ بھی بنایا۔ٹرمپ کا کہنا تھا کہ مودی نے کئی بارمجھ سے افغانستان میں لائبریری بنانے کی بات کی آخر جنگ زدہ ملک میں یہ کس کام آئے گی۔بھارت آخر طالبان کے خلاف افغان حکومت کی عملی مدد کیوں نہیں کرتا۔ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ چاہتے ہیںکہ بھارت سمیت روس اور پاکستان افغانستان میں طالبان کے خلاف لڑنے میں اپنا کر دار ادا کریں۔وزیر اطلاعات فواد چوہدری کی طرف سے صدر ٹرمپ کی پاکستانی قیادت سے ملاقات کی خواہش کا خیرمقدم کیا گیا ہے ۔امریکی صدر ٹرمپ کے اس بدلے ہوئے لہجے میں اس کی افغانستان میں درپیش مشکلات ہیں ۔ابھی صدر ٹرمپ کی ملاقات کی خواہش محض ایک خواہش ہے اور امریکہ کی طرف سے اس کا باضابطہ اعلان ہی صورت حال کو واضح کرے گا مگر اس خواہش سے پہلے امریکہ اور پاکستان کے درمیان تلخ اور تیز جملوں کا ایک پورا دور اور مقابلہ گزر چکا ہے ۔ٹرمپ نے صدر بننے کے بعد ایک ٹویٹ میں پاکستان کے خلاف سخت زبان استعمال کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان نے امداد کے بدلے جھوٹ اور دھوکے کے سوا کچھ نہیں دیا ۔اس وقت پاکستان کی طرف سے اس الزام کا نرم لہجے میں ہی جواب دیاگیا تھا مگر اس کے بعد بھی دونوں ملکوں میں شکوہ اور جواب شکوہ چلتا رہا ۔یہاں تک کہ ٹرمپ کی طرف سے ایک امریکی نیوز چینل کو دئیے گئے انٹرویو میں پاکستان پر لگائے گئے الزامات کا وزیر اعظم عمران خان نے بہت سخت انداز اور الفاظ میں جواب دیا ۔جس پر سیاسی مبصرین نے حیر ت کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ کو بھی پاکستان کے اس بدلے ہوئے لہجے پر حیرت ضرور ہو ئی ہوگی ۔امریکہ نے اس تلخی کے اثرات محسو س کرکے زخموںپر پھاہا رکھنے کی کوشش بھی کی تھی۔ اب ٹرمپ نے اچانک اپنی پاکستان پالیسی میں یوٹرن لیتے ہوئے پاکستان کی قیادت سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا ۔اس سے پہلے ڈونلڈ ٹرمپ شمالی کوریا کے معاملے میں بھی ایک بڑا یوٹرن لیتے ہوئے کورین لیڈر سے ہاتھ ملا چکے ہیں۔واضح رہے کہ پاکستان اور شمالی کوریا دونوں خطے میں چین کے قریبی اور با اعتماد دوست ہیں۔چند روز قبل ٹرمپ نے چین کے ساتھ بھی محصولات کے تنازعے کو خوش اسلوبی سے حل ہونے کی بات کی تھی۔پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات کی خواہش کے ساتھ ہی افغانستان میں بھارت کے کردار پر تنقید خاصی حیرت کا باعث ہے ۔نائن الیون کے بعد امریکہ نے افغانستان پر فوج کشی کر کے جس ملک کے لئے افغانستان کے دروازے کھول دئیے وہ بھارت تھا ۔امریکہ کا خیال تھا کہ پاکستان اس مسئلے میں ایک درد سر جبکہ بھارت مسئلے کا حل ثابت ہوگا مگر پنڈت چانکیہ کے اصولوں کا پیروکار بھارت افغانوں سے براہ راست لڑائی مول لینے کی جرات نہ کر سکا ۔بھارت نے افغانستان میں اپنے لئے ایک پوشیدہ رول پسند کیا جس کا مقصد بھی صرف افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنا تھا ۔بھارت نے امریکہ ،نیٹو اور ایساف کے ساتھ اپنی فوج کو بھیجنے سے انکار کیا اور متعدد مواقع پر کہا وہ کبھی بھی زمین پر لڑنے کے لیئے اپنی فوج افغانستان نہیں بھیجے گا ۔اس کے باوجود امریکی افغانستان میں بھارت کے کردار کے معترف رہے ۔سڑکیں اور عمارتیں تعمیر کرنے سے زیادہ ضروری امن تھا ۔اب بھارت کے اسی رول کو ٹرمپ نے بھی طنز کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ زدہ ملک میں لائبریری بنانے کی کیا ضرورت ہے؟۔ جس کے جواب میں بھارتی ذرائع نے افغانستان میں اپنی تعمیراتی خدمات اور میگا پراجیکٹس کی پوری تفصیل بیان کی ہے ۔یہ نہیں ہوسکتا کہ مسٹر ٹرمپ اپنے تزویراتی شراکت دار کی افغانستان میں ان خدمات سے بے خبر ہوں مگر وہ بھارت کے رول کو ناکافی قرار دینا اور اس پر عدم اطمینان کا اظہار کرنا چاہتے تھے ۔ٹرمپ اورعمران خان میں ملاقات کب ہوتی ہے ؟اس کے لئے وقت کا تعین ہونا باقی ہے۔جب بھی ہو پاکستان کو امریکہ کے ساتھ دوٹوک لب ولہجہ اختیار کرنا چاہئے ۔امریکہ نے کشمیرمیں اپنا کردار مثبت انداز میں ادا نہیں کیا ۔امریکہ نے بین الاقوامی فورمز پر بھارت کی ہاں میں ہاں ملا کر اس مسئلے کی سنجیدگی اور پیچیدگی کو بڑھایا ہے ۔اب اگر افغانستان میں اپنا اُلجھا دامن جنگ کے کانٹوں سے چھڑانے کے لئے امریکہ کو پاکستان کی ضرورت آن پڑی ہے تو پاکستان کو بھی امریکہ سے جواباََ مسئلہ کشمیر کے حل میں مثبت اور فعال کردار کا مطالبہ کرنا چاہئے ۔اس بار پاکستان کو مفت میں اپنا کندھا پیش نہیں کرنا چاہئے کیونکہ پاکستانی قیادت کو یہ سبق مل چکا ہے کہ بین الاقوامی تعلقات میں کچھ بھی مفت نہیں ہوتا اور مفت میں ملنے والوں کی قدر کچھ اس طرح ہوتی ہے کہ انہیں سو جوتے بھی کھانے پڑتے ہیں اور سو پیاز بھی ۔نائن الیون کے بعد سے پاکستان یہی سبق پڑھ رہا ہے۔پاکستان کی قربانیوں کا جو صلہ اسے دیا گیا ہے اس کے بعد تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ اب مفت میں دوسروں کے لیے خود کو مصائب ومشکلات میں مبتلا کرے ۔ تیزی سے بدلتے ہوئے حالات پاکستان کو اب اپنے کارڈز ہوش مندی کے ساتھ کھیلتے ہوئے صورتحال فائدہ اٹھاکر اپنا موقف مضبوط بنیادوںپر پیش کرنا ہوگا۔ کیونکہ اس وقت پاکستان مجبور اور ضرورت مندنہیں بلکہ امریکہ ہے۔

متعلقہ خبریں