Daily Mashriq

پشاور میں پھر دہشت گردی

پشاور میں پھر دہشت گردی

پشاور صدر کے علاقے کالی باڑی میں گزشتہ روز ہونے والے کار بم دھماکے نے سیکورٹی صورتحال پر ایک بار پھر سوال اٹھا دیئے ہیں، اگرچہ کچھ مدت سے صوبے میں بالعموم اور صوبائی دارالحکومت پشاور میں بالخصوص سیکورٹی صورتحال کی بہتری کے آثار اس بات کی گواہی دے رہے تھے کہ ہمارے سیکورٹی اداروں کی بہترین کارکردگی نے امن وامان کی صورتحال بہتر کرنے میں مدد دی ہے، تاہم اچانک گزشتہ روز ایک بار پھر کار بم دھماکے نے عوام کو خوف وہراس میں مبتلا کر دیا ہے، حوصلہ افزاء امر بہرحال یہ بھی ہے کہ سیکورٹی اداروں نے فرض شناسی سے کام لیتے ہوئے چند گھنٹے کے اندر ہی تباہ شدہ گاڑی کے مالک کو گرفتارکر کے تفتیش کیلئے خفیہ مقام پر منتقل کر دیا ہے جبکہ سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے دہشت پھیلانے والے کار ڈرائیور کی واضح تصویر حاصل کرنے کے بعد امید ہے کہ اسے بھی جلد ہی قانون کی گرفت میں لے آیا جائیگا۔ اس موقع پر ایک سوال بہرحال عوام کے ذہنوں میں پیدا ہو رہا ہے کہ کنٹونمنٹ کے علاقے میں جابجا سخت سیکورٹی چیک اور جگہ جگہ ناکوں کے باوجود بارود سے بھری گاڑی کیونکر اتنی آسانی سے لاکر کھڑی کر دی گئی اور دھماکے سے اتنی بڑی تباہی ہوئی، اللہ کا لاکھ لاکھ کرم ہے کہ واردات میں کسی کی جان نہیں گئی بلکہ 6افراد بشمول دوخواتین کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں جو اپنی جگہ قابل افسوس ضرور ہے اور امید ہے کہ زخمی ہونے والوں کے علاج معالجے پر بھرپور توجہ دی جائے گی۔ اس واقعے کو اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے جبکہ صوبائی وزیراطلاعات نے اسے خوف وہراس پھیلانے کی کارکردگی سے تشبیہہ دیکر سیکورٹی معاملات کو مزید بہتر کرنے کی بات کی ہے، اس لئے سیکورٹی معاملات کا جائزہ لیتے ہوئے اس بات پر بھی غور کیا جانا چاہئے کہ دھماکے کا ہدف کیا یہی جگہ تھی یا پھر سخت سیکورٹی کی وجہ سے دہشتگرد اپنے اصل ہدف تک پہنچنے میں کامیاب نہ ہوسکا اور پھر جان چھڑانے کیلئے ایک نسبتاً کم رش والی جگہ پر گاڑی پارک کرنے پر مجبور ہوا، کیونکہ ایسی وارداتوں کیلئے عام طور پر ایسی گلیوں کا انتخاب کیا جاتا ہے جہاں معمول سے زیادہ رش ہو تاکہ زیادہ سے زیادہ جانی ومالی نقصان سے عوام میں خوف وہراس پیدا کر کے اپنے مذموم مقاصد حاصل کئے جاسکیں۔

یو اے ای سے ممکنہ امداد

وزیراعظم عمران خان اور متحدہ عرب امارات کے ولی عہد شیخ محمد بن زید النہیان کے مابین ملاقات میں پاکستان کو3ارب20کروڑ ڈالر مالیت کا تیل دینے کے حوالے سے خبریں ذرائع ابلاغ میں گردش کررہی ہیں، یہ سہولت ان 3ارب ڈالر سے الگ ہے جو سٹیٹ بنک کو دیئے جائیں گے تاکہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کی وقعت میں اضافہ کیا جا سکے۔ خبروں کے مطابق ادھار پر تیل سپلائی کے معاملات کو حتمی شکل دی جا چکی ہے اور ان سطور کے شائع ہونے تک اس حوالے سے اعلامیہ سامنے آچکا ہوگا، جس سے پاکستان پر ادائیگیوں کا بوجھ کم ہوسکے گا۔ متحدہ عرب امارات کیساتھ موجودہ سربراہ سے پہلے سابق سربراہ مرحوم شیخ زید بن سلطان النہیان کے دور سے ہی برادرانہ تعلقات ہیں اور دیگر اہم عرب ریاستوں کی طرح متحدہ عرب امارات بھی ہر مشکل وقت میں پاکستان کی دادرسی میں آگے آگے رہے ہیں، دونوں ملکوں کو اپنی دوستی پر یقیناً فخر ہے اور یہ تعلقات مزید بہتر ہوں گے۔

رشکئی اکنامک زون سے توقعات

وزیراعلیٰ محمود خان نے گزشتہ روز ایک اہم اجلاس کے دوران جو رشکئی اکنامک زون کے حوالے سے منعقد ہوا تھا، کہا ہے کہ اس منصوبے سے مقامی لوگوں کیلئے روزگار کے مواقع بڑھنے اور لگ بھگ 50ہزار ملازمتوں کی امیدیں روشن ہیں۔ امر واقعہ یہ ہے کہ رشکئی اکنامک زون کا منصوبہ سی پیک کا حصہ ہے جس کے تحت مختلف صنعتوں کا قیام عمل میں آئے گا، ان صنعتوں میں براہ راست ملازمتوں کی تعداد کا اندازہ 50ہزار لگایا گیا ہے جو مختلف شعبوں میں مستقل ملازمت حاصل کر سکیں گے جبکہ اسی زون سے بلاواسطہ تعلق کی بناء پر یعنی ان صنعتوں کیلئے خدمات کی فراہمی میں لاکھوں افراد بھی روزگار حاصل کر سکیں گے اور یوں صوبے میں بیروزگاری کو ختم کرنے میں مدد ملے گی۔ یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان کا وژن بھی ملک کے مختلف حصوں میں بیروزگار لوگوں کو 50لاکھ نوکریوں کی فراہمی ہے اور رشکئی اکنامک منصوبے سے خیبر پختونخوا میں 50ہزار ملازمتوں کے مواقع ابھریں گے جبکہ یہاں قائم ہونے والی صنعتوں کی پیداوار کو ملک کے کونے کونے تک پہنچانے کیلئے دیگر شعبوں میں لاکھوں افراد روزگار سے وابستہ ہو سکیں گے اور بیروزگاری کے خاتمے کا ہدف حاصل کیا جاسکے گا۔

متعلقہ خبریں