Daily Mashriq

اپوزیشن اتحاد کی کوششیں

اپوزیشن اتحاد کی کوششیں

اپوزیشن کی دو بڑی جماعتوں کے قائدین سابق صدر آصف علی زرداری اور مولانا فضل الرحمن نے اپوزیشن رہنماؤں بالخصوص پاکستان مسلم لیگ(ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کیخلاف ہونے والی کارروائیوں کو بدترین سیاسی انتقام قرار دیتے ہوئے تشویش کا اظہار کیا ہے اور اس بات پر اتفاق رائے کیا ہے کہ موجودہ صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ اپوزیشن کی تمام جماعتیں متفقہ طور پر حکومت کی جانب سے کئے جانے والے ایسے اقدامات کی پیش بندی کیلئے فعال کردار ادا کریں۔ گزشتہ روز اسلام آباد میں مولانا فضل الرحمن کی رہائش گاہ پر ہونے والی ملاقات کے دوران ایک بار پھر گرینڈ اپوزیشن کے قیام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں اپوزیشن کے تمام سیاستدانوں کو گلے شکوے ختم کر دینے چاہئیں۔ امر واقعہ یہ ہے کہ موجودہ اپوزیشن جماعتوں کے مابین اس بات پر اتفاق ہے کہ گزشتہ انتخابات میں مبینہ طور پر تاریخ کی بدترین دھاندلی ہوئی ہے۔ مولانا صاحب نے گزشتہ روز کی ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ الیکشن کے بعد ہم نے کہا تھا کہ حلف نہ اُٹھایا جائے لیکن اپوزیشن کی دیگر جماعتوں نے ہماری رائے سے اتفاق نہیں کیا اور اپوزیشن کے عدم اتفاق رائے سے سب متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے فیصلے ملک کو کمزوری کی طرف لے جا رہے ہیں۔ حکومت کی پالیسی کے نتیجے میں ڈالر کہاں پہنچ گیا' سٹاک ایکسچینج میں الو بول رہے ہیں' 24ارب سے زیادہ زرمبادلہ کے ذخائر اب آدھے سے کم رہ گئے ہیں' اقتصادی مضبوطی کسی بھی ملک کے استحکام کیلئے لازم ہے۔ ریاست مدینہ کے خدوخال اور تقاضوں سے حکومت واقف نہیں' حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے پاک چین دوستی خطرے میں ہے۔ 70سال پرانی دوستی میں دوری پیدا ہو رہی ہے۔ اپوزیشن کے پاس گرینڈ اپوزیشن کے علاوہ کوئی راستہ نہیں۔ سوال یہ ہے کہ پیپلز پارٹی اور لیگ (ن) کیوں اکٹھی نہیں ہو رہیں؟ کشمیر میں ظلم پر حکومتی خاموشی پر سوال نہیں اُٹھایا جا رہا۔ 2فروری کو کشمیر پر آل پارٹیز کانفرنس بلا رہا ہوں۔ جہاں تک جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ کا اپوزیشن جماعتوں کے گرینڈ الائنس بنانے کی خواہش کا تعلق ہے اس سے اختلاف تو اصولی طور پر نہیں کیا جاسکتا کیونکہ اگر ایسا ہو جائے تو یہ کوئی نئی بات نہیں ہوگی۔ گزشتہ 70 سالہ پارلیمانی تاریخ میں کئی بار مختلف حکومتوں کیخلاف اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد بنتے اور ختم ہوتے رہے ہیں تاہم ان کا مقصد ان حکومتوں کی جانب سے جمہوریت کیخلاف اقدامات ہوتے تھے جبکہ مولانا صاحب نے جن ''مسائل'' کی نشاندہی کی ہے ان میں بہت کم محولہ تعریف پر پورے اُترتے دکھائی دے رہے ہیں۔ اس وقت اگر لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی کیخلاف اقدامات اُٹھائے جا رہے ہیں تو ان میں زیادہ تر کا تعلق مبینہ کرپشن اور منی لانڈرنگ کیساتھ ہے جبکہ سیاسی سرگرمیوں پر کوئی قدغن نہیں ہے اس لئے حکومتی حلقے موجودہ صورتحال سے بھرپور سیاسی فائدہ اُٹھاتے ہوئے اگر دونوں بڑی جماعتوں کیخلاف پروپیگنڈہ کر رہے ہیں تو اس کو دوسرے نقطۂ نظر سے جانچنا ہوگا۔ ممکن ہے کہ ان الزامات میں زیادہ تر صرف الزامات ہی ہوں اور یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ الزامات غلط تھے یا صحیح کہ معاملات عدالتوں اور تفتیشی اداروں کے بیچ ہی زیرگردش ہیں جن کا حتمی نتیجہ سامنے آنے کے بعد ہی کوئی رائے قائم کی جاسکے گی۔ البتہ جہاں تک مولانا صاحب کے اس سوال کا تعلق ہے کہ دونوں بڑی جماعتیں اکٹھی کیوں نہیں ہو رہیں تو یہ کوئی پوشیدہ امر نہیں اور پورا ملک جانتا ہے کہ دونوں جماعتیں میثاق جمہوریت پر متفق ہونے کے باوجود موقع ملتے ہی ایک دوسری کو '' ہاتھ دکھانے'' سے باز نہیں آتی رہی ہیں اور اندر ہی اندر ایک دوسری کی ٹانگیں کھینچنے کا موقع ضائع نہیں کرتیں۔ گزشتہ انتخابات سے پہلے بلوچستان میں لیگی حکومت کا دھڑن تختہ کرنے' سینیٹ اور وزیراعظم کے انتخاب میں پی پی پی کا کردار بھی لیگ (ن) کے نقطہ نظر سے منفی قرار دیا جاتا ہے۔ ایسی صورت میں دونوں جماعتوں کے درمیان دوری کو کیونکر ختم کیا جا سکتا ہے یہ بہرحال ناممکن نہیں تو انتہائی مشکل ضرور ہے۔ گزشتہ انتخابات میں بدترین دھاندلی کے الزامات تقریباً سب جماعتیں لگا رہی ہیں تاہم اسے بھی آئین اور قانون کے تحت ہی حل کرنا ہوگا۔ جہاں تک کشمیر پر حکومت کی خاموشی کا تعلق ہے کہ سابق حکومتوں کا رویہ بھی کونسا بہتر تھا اور خود کشمیر کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے مولانا موصوف اگر اپنی ذمہ داریوں پر بھی نظر دوڑائیں تو اگلے مہینے کشمیر کانفرنس کے انعقاد کی ضرورت (؟) واضح ہو جاتی ہے۔ ان حقائق کے باوجود اپوزیشن جماعتوں کے گرینڈ الائنس کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کیونکہ حکومت کی کارکردگی پر جو سوال اٹھ رہے ہیں ان کا تقاضا ہے کہ حزب اختلاف متحد ہو کر حکومت کو ایسے اقدامات سے باز رکھنے میں اپنا پارلیمانی کردار ادا کرے جن سے ملک وقوم کے مفاد کو نقصان پہنچنے کا احتمال ہو۔

متعلقہ خبریں