Daily Mashriq

آرمی ایکٹ ترمیمی بل آج قومی اسمبلی میں پیش کیا جائیگا

آرمی ایکٹ ترمیمی بل آج قومی اسمبلی میں پیش کیا جائیگا

آرمی ایکٹ ترمیمی بل کے حوالے سے قانون سازی حتمی مرحلے میں داخل ہوگئی، دفاعی کمیٹی نے بل کو متقفہ طور پرمنظور کرلیا، جس کے بعد بل کو منگل 7 جنوری قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا

اس سے قبل قائمہ کميٹی برائے دفاع نے تینوں بلز آرمی ایکٹ ترمیمی بل، ائیرفورس ایکٹ ترمیمی بل اور نیوی ایکٹ ترمیمی بل 2020 متفقہ طور پر منظور کیے۔ رکن اسمبلی رميش کمار کا کہنا تھا کہ کسی جماعت نے کوئی ترمیم تجویز نہيں کی۔

قائمہ کمیٹی سے منظوری کے بعد رولز کے مطابق تینوں مسلح افواج کے ترمیمی بل قومی اسمبلی میں آج پیش کیے جائیں گے، جہاں بھی منظور ہونے کی امید ہے۔ دوسری جانب حکومت نے ترامیم بل سے متعلق سپریم کورٹ میں دائر نظرثانی اپیل واپس نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

بلاول بھٹو اور آرمی ایکٹ

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو میں پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ آرمی ایکٹ کے معاملے پر پارلیمانی طریقہ کار اختیار کیا جائے۔ جمہوری طريقہ نہ اپنايا تو سوال اُٹھيں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پیپلزپارٹی ترميمی بل پر اپنی ترامیم پیش کرے گی۔

فضل الرحمان کا انکار

جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے بل سے متعلق حمایت دینے سے انکار کردیا۔ پارٹی کے مشاورتی اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں جے یو آئی ف کے سربراہ نے کہا تھا کہ حکومت کے اقدامات فوج کے ادارے اور قیادت کو متنازع بنا رہے ہیں۔ فوج ملک کا دفاعی ادارہ ہے، اس کے سربراہ غیر متنازع ہیں، اُنہیں متنازع نہیں بنانا چاہتے۔

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے مدت ملازمت میں توسیع پر سقم دور کرنے کا کہا تھا لیکن حکومت مزید سقم پیدا کر رہی ہے۔ ہمیں ایک جائز اور آئینی و قانونی جمہوری ماحول چاہیے، یہ لوگ نہ عوام کے نمائندے ہیں، نہ جمہوریت کی علامت ہیں۔

جماعت اسلامی

امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق بھی حکومتی بل کی حمایت سے انکار کرچکے ہیں۔

متعلقہ خبریں