Daily Mashriq

محمد حنیف کا ناول اردو میں شائع کرنے والے ناشر کے دفتر پر ’چھاپہ‘

محمد حنیف کا ناول اردو میں شائع کرنے والے ناشر کے دفتر پر ’چھاپہ‘

کراچی: مشہور ناول ’آ کیس آف ایکسپلوڈنگ مینگوز‘ کے مصنف محمد حنیف نے کہا ہے کہ خود کو خفیہ ادارے کے اہلکار بتانے والے افراد نے کہ ان کے ناول کی اردو طباعت کے ناشر کے دفتر پر چھاپہ مار کر تمام کاپیاں قبضے میں لے لیں۔

سابق پائلٹ سے صحافی بننے والے ناول نگار 2008 میں شائع ہونے والے اپنے پہلے ناول کے حوالے سے معروف ہیں جو فوجی آمر ضیاالحق کے دورِ حکمرانی کے آخری دنوں اور 1988 میں ان کی موت کا سبب بننے والے طیارہ تباہی کے واقعے کے بارے میں موجود ہزارہا سازشوں کی سرگزشت ہے۔

پیر کے روز سلسلہ وار ٹوئٹس میں محمد حنیف نے لکھا کہ ’آج دوپہر کچھ افراد جو کہ آئی ایس آئی سے تعلق کا دعویٰ کررہے تھے میرے اردو ناشر مکتبہ دانیال کے دفاتر میں داخل ہوئے اور آ کیس آف ایکسپلوڈنگ مینگو کے اردو ترجمے کی تمام تر کاپیاں قبضے میں لے لیں اور منیجر کو دھمکا کر ہمارے بارے میں معلومات جاننی چاہیں‘۔

انہوں نے اپنے پیغام میں مزید لکھا کہ ان افراد نے کتب فروشوں کی فہرست حاصل کرنے کے لیے اگلے روز آنے کا کہا، مصنف کے مطابق انہیں ’جنرل ضیا کو بدنام‘ کرنے پر ہتک عزت نوٹس ملا ہے۔

محمد حنیف کا کہنا تھا کہ ’گزشتہ ہفتے ہمیں جنرل ضیا کی اچھی شہرت خراب کرنے پر ان کے بیٹے کی جانب سے ایک ارب روپے ہرجانے کا ہتک عزت نوٹس ملا جس کی ہمارے وکلا تیاری کررہے ہیں، کیا آئی ایس آئی اعجاز الحق کے کہنے پر چلتی ہے‘۔

اس بارے میں  گفتگو کرتے ہوئے مصنف نے بتایا کہ چھاپہ مار کارروائی ختم نہیں ہوئی ’انہوں نے کہا تھا کہ وہ ان کتب فروشوں کی فہرست لینے اگلے روز دوبارہ آئیں گے جنہوں نے اردو طباعت فروخت کی‘۔

محمد حنیف کا کہنا تھا کہ ’یہ سراسر غیر قانونی ہے، نہ تو ان افراد نے اپنی شناخت ظاہر کی اور نہ ہی انہوں نے اپنی کوئی سرکاری آئی ڈی دکھائی‘۔

مصنف کا مزید کہنا تھا کہ ناشر ہر قسم کی کتاب کا اجرا کرچکے ہیں لیکن مجھے نہیں یاد پڑتا کہ پاکستان میں آخری مرتبہ کتاب کے کسی ناشر کے خلاف چھاپہ مارا گیا‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’کسی کو جنرل ضیا کا نام بدنام کرنے کی ضرورت نہیں،خود کو آئی ایس آئی کا ظاہر کر نے والے افراد محب وطن کو ہراساں کر کے جنرل باجوہ کا نام بدنام کرنے کی کوشش کررہے ہیں‘۔

واضح رہے کہ مذکورہ ناول کو بہت پذیرائی حاصل ہوئی تھی اور یہ بکر پرائز کی فہرست میں شامل تھا جبکہ گارجیئن فرسٹ بک ایوارڈ اور دولت مشترکہ ادبی انعام کے لیے شارٹ لسٹ بھی کیا گیا علاوہ ازیں اس ناول کو شکتی بھٹ فرسٹ بک ایوارڈ بھی ملا۔

بے تحاشہ پذیرائی کے باجود ایک دہائی سے زائد کا عرصہ گزرنے کے بعد اس ناول کا اردو میں ترجمہ کیا گیا جو اکتوبر 2019 میں شائع ہوا تھا۔

محمد حنیف کا کہنا تھا کہ ’آ کیس آف ایکسپلوڈنگ مینگوز کو چھپتے ہوئے 11 سال ہورہے ہیں لیکن کبھی کسی نے مجھے تنگ نہیں کیا تو اب کیوں؟ میں یہاں بیٹھا اور حیران ہوں کہ وہ ہمارے لیے کب آتے ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ ’آئی ایس آئی دنیا کی نمبر ون خفیہ ایجنسی ہے مجھے یقین ہے ان کے پاس کرنے کے لیے مزید بہتر کام ہوگا، اور مجھے کل اپنا اسکول چلانا ہے‘۔

متعلقہ خبریں