Daily Mashriq

'چاہتے ہیں حکومت سے آرمی ایکٹ پر جو غلطی نوٹیفکیشن کے وقت ہوئی وہ اب نہ ہو'

'چاہتے ہیں حکومت سے آرمی ایکٹ پر جو غلطی نوٹیفکیشن کے وقت ہوئی وہ اب نہ ہو'

 پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹوزرداری کا کہنا ہے کہ نئے بل میں آرمی ایکٹ کا ریگولیشن ہمیں یا کسی اور کو نہیں دکھایاگیا، چاہتے ہیں آرمی ایکٹ کا نیا قانون جمہوری طریقے سے پاس ہو۔

بلاول بھٹو زرداری نے پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آرمی ایکٹ کے حوالے سے پیپلز پارٹی چاہتی ہے کہ پارلیمانی طریقہ کار کو اپنایا جائے اور آرمی ایکٹ کا ریگولیشن اپوزیشن سے شیئر کیاجائے اگر ایسا نہ ہوا تو حکومت پر سوال اٹھیں گے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ  آرمی ایکٹ پر سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل کیا جائے۔

 پیپلز پارٹی کی دی ہوئی ترامیم کے بارے میں بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ ہمیں امید ہے اپوزیشن جماعتیں ہمارا ساتھ دیں گی، اس حوالے سے مسلم لیگ (ن) جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) ف اور بلوچستان کی جماعتوں سے بھی بات چیت کی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی چاہتی ہے کہ جو غلطی حکومت سے نوٹیفکیشن کے وقت ہوئی تھی وہ اب نہ ہو۔

خیال رہے کہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع نے سروسز ایکٹ میں ترمیم کے بلز متفقہ طور پر منظور کرلیے ہیں۔

اس حوالے سے وزیر قانون فروغ نسیم نے کہاکہ تمام جماعتوں نے ترمیمی بل کو متفقہ طور پر منظور کیا جس کے بعد اب یہ ترمیمی بل پارلیمنٹ میں جائے گا۔

وزیر دفاع پرویزخٹک کا کہنا تھا کہ سب نے یکجہتی دکھائی ہے، قوم کو مبارک ہو، قو م اور ساری سیاسی جماعتیں پاک فوج کے ساتھ کھڑی ہیں۔

خیال رہے کہ سروسز ایکٹس میں ترمیم کے بلز منگل کو قومی اسمبلی میں پیش کیے جائیں گے جہاں سے منظوری کے بعد سینیٹ سے بھی منظوری لی جائے گی۔

آرمی ایکٹ ترمیمی بل 2020 کیا ہے؟

یکم جنوری کو وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے ہنگامی اجلاس میں آرمی ایکٹ میں ترامیم کی منظوری دی گئی تھی۔

وفاقی کابینہ نے سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں آرمی ایکٹ ترمیمی بل 2020 کی منظوری دی جس میں آرمی چیف کی مدت ملازمت اور توسیع کا طریقہ کار وضع کیاگیا ہے۔

آرمی ایکٹ ترمیمی بل میں ایک نئے چیپٹرکا اضافہ کیا گیا ہے، اس نئے چیپٹر کو آرمی چیف اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کی تعیناتی کا نام دیا گیا ہے۔

اس بل میں آرمی چیف کی تعیناتی کی مدت تین سال مقررکی گئی ہے جب کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت پوری ہونے پر انہیں تین سال کی توسیع دی جا سکے گی۔

ترمیمی بل کے مطابق وزیراعظم کی ایڈوائس پر قومی مفاد اور ہنگامی صورتحال کا تعین کیا جائے گا، آرمی چیف کی نئی تعیناتی یا توسیع وزیراعظم کی مشاورت پر صدر کریں گے۔

'دوبارہ تعیناتی یا توسیع عدالت میں چیلنج نہیں کی جا سکے گی'

ترمیمی بل کے تحت آرمی چیف کی تعیناتی، دوبارہ تعیناتی یا توسیع عدالت میں چیلنج نہیں کی جا سکے گی اور نہ ہی ریٹائر ہونے کی عمر کا اطلاق آرمی چیف پر ہوگا۔

علاوہ ازیں ترمیمی بل کے مطابق پاک فوج، ائیر فورس یا نیوی سے تین سال کے لیے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کا تعین کیا جائے گا جن کی تعیناتی وزیراعظم کی مشاورت سے صدر کریں گے۔

ترمیمی بل کے مطابق اگر چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی پاک فوج سے ہوا تو بھی اسی قانون کا اطلاق ہو گا، ساتھ ہی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کو بھی تین سال کی توسیع دی جاسکے گی۔

واضح رہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت 28 نومبر 2019 کی رات 12 بجے مکمل ہورہی تھی اور وفاقی حکومت نے 19 اگست کو جاری نوٹیفکیشن کے ذریعے انہیں3 سال کی نئی مدت کے لیے آرمی چیف مقرر کردیا تھا جسے سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا گیا تھا۔

سپریم کورٹ نے گذشتہ سال 28 نومبر کو آرمی چیف کی مدت ملازمت کیس کی سماعت کے دوران آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں 6 ماہ کی مشروط توسیع کرتے ہوئے پارلیمنٹ کو اس حوالے سے قانون سازی کرنے کا حکم دیا تھا۔

متعلقہ خبریں