Daily Mashriq

غیر جانبدار رہنے کا دانشمندانہ فیصلہ

غیر جانبدار رہنے کا دانشمندانہ فیصلہ

خطے میںجب بھی کشیدگی کے حالات ہوں اور مشرقی وسطیٰ میں صورتحال کشیدہ اور خراب ہورہی ہو تو پاکستان کے کردار اور پاکستانی قیادت کے فیصلوںکی اہمیت کے پیش نظر، نظریں اسی کی طرف ہو جاتی ہیں۔یمن کے تنازعے کے وقت پارلیمان نے جو فیصلہ کیا اور پاک فوج کی قیادت نے جو دانشمندانہ کردار ادا کیا اس کے بعد سے ملکی پالیسی کا ایک ایسا واضح رخ متعین ہوا جسے بجا طور پر قومی امنگوں کا آئینہ دار ملکی پالیسی قرار دیا جا سکتا ہے ۔اگرچہ ایران اور امریکہ میں کشیدگی پیدا ہوئی تو ایک مرتبہ پھر پاکستان کے کردار کا سوال اٹھا۔پاکستان نے افغانستان کے حوالے سے امریکہ کو جو لا جسٹک سپورٹ فراہم کی تھی اس کے منفی اثرات سے پاکستان ہنوز نکل نہیں سکا ہے خدشات کے شکار ذہنوں میں اٹھنے والے سوالات کا ایک واضح جواب پاک فوج کے ترجمان کی طرف سے آنے کے بعد خطے میں کسی کشیدگی کا حصہ نہ بننے کا یقین نہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں پاک فوج کے ترجمان نے برملا کہا ہے کہ خطے میں امن کے خواہاں ہیں لیکن ملکی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے اور خطے کا امن خراب کرنے والے کسی عمل کا حصہ نہیں بنیں گے۔پاکستان کو خطے کی تمام صورتحال کا بخوبی اندازہ ہے اور پاکستان کا سرکاری موقف یہی ہے کہ تمام فریقین تحمل سے کام لیں اور معاملے کو جنگ کے بجائے سفارتی رابطوں سے حل کریں۔اہم سوال یہ ہے کہ پاکستان اس سفارتی چیلنج سے کیسے نبردآزما ہوگا؟ان سوالات کے جوابات اگر چہ واضح طور پر دفتر خارجہ اور ترجمان پاک فوج دے چکے ہیں کہ پاکستان مکمل طور پر غیر جانبدار رہے گا اور اپنی سرزمین کسی کیخلاف استعمال نہیں ہونے دے گا۔امر واقع یہ ہے کہ ہمارا خطہ گزشتہ چار دہائیوں سے سیکورٹی کے حوالے سے مشکلات کا شکار رہا ہے اور پاکستان کی خطے میں ایک حیثیت ہے، پوری دنیا کو اس کا بخوبی علم ہے کہ پاکستان نے خطے میں امن کیلئے ہر ممکن کام کیا، پاکستان نے افغان مصالحتی عمل میں کردار ادا کیا، پاک افغان سرحد کو محفوظ بنایا، خطے میں دہشت گردوں کو شکست دی۔پاکستان جن حالات سے گزرکر اب جس مقام پر آچکا ہے وہ ایک ایسا مشکل دور تھا جس میں واپسی تو درکنار اُن حالات کا سوچ کر ہی خوف کی فضا طاری ہونے لگتی ہے ۔ ہمارے تئیں پاکستان کی حکومت کیلئے زیادہ اہم مسئلہ یہ ہے کہ حکومت داخلی استحکام اور عوامی مسائل کے حل پر زیادہ توجہ دے ۔پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اہم نکتہ غیر جانبداری اور خطے کے ممالک سے اچھے روابط استوار کرنے کا رہا ہے ۔ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کی جو موجودہ صورتحال ہے اُس کے خطے پر منفی اثرات جس میں خود پاکستان بھی شامل ہے غیر متوقع نہیں ہم سمجھتے ہیں کہ ایران برادار اسلامی پڑوسی ملک ہے اگر ان حالات میں مزید کچھ نہ بن پائے تو غیر جانبداری کا مظاہرہ وہ کم سے کم طریقہ اور حکمت عملی ہے جو اختیار کیا جا سکتا ہے ۔ پاکستان کا اس قضیے میں کسی فریق کی حمایت ومخالفت ہی اہم نہیں بلکہ عالم اسلام کے اہم ملک ہونے کے ناتے اپنے پڑوس میں بڑھتی کشیدگی کے خاتمے کیلئے بھی اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔شام اور یمن کی خانہ جنگی مشرق وسطیٰ میں ایران اور امریکہ کے اتحادی ملکوں کے درمیان فاصلے بڑھتے بڑھتے اب یہ خلیج اتنی وسیع ہوگئی ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان خدانخواستہ باقاعدہ جنگ شروع ہونے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے اسے روکنا پاکستان اور پورے اسلامی ممالک کا فرض ہے۔پاکستان کے ایران،امریکہ اور اتحادی عرب ملکوں سے گہرے روابط ہیں اس لئے پاکستان کو خاص طور پر کشیدگی میں کمی لانے کیلئے فوری طور پر اپنا کردار ادا کرنے کیلئے آگے آنا چاہیئے۔

متعلقہ خبریں