Daily Mashriq

عراقی پارلیمان کے مطالبات کا احترام کرنے کی ضرورت

عراقی پارلیمان کے مطالبات کا احترام کرنے کی ضرورت

عراقی پارلیمنٹ نے ملک سے امریکی فوجیوں کے انخلاء کی قرارداد منظور کرتے ہوئے سیکورٹی معاہدہ بھی ختم کردیا ہے جس کے بعد امریکہ کو اب عراق سے اپنی فوجیں نکالنے میں جتنا جلد ممکن ہو پیشرفت کرلینی چاہیئے جاری حالات میں ایران سے کشیدگی میں کمی لانے کیلئے بھی عراق سے امریکی فوجوں کی واپسی مدد گار ثابت ہو سکتی ہے ۔جہاں امریکہ کو عراق سے اپنی فوجیں واپس نکالنا چاہیئے وہاں عراقی پارلیمان کے تمام غیر ملکی افواج کو عراق سے نکلنے کے مطالبے کے ذیل میں جو دیگر ممالک یا گروہ آتے ہیں ان سب کو عراق سے نکلنا ہوگا تاکہ عراق میں عوام کی نمائندہ حکومت کا آزادانہ طور پر قیام عمل میں آسکے اور عراقی عوام مکمل طور پر خود مختاری کے ساتھ اپنے نمائندے کسی اثر اور دبائو کے بغیر چن سکیں۔ہم سمجھتے ہیں کہ غیر ملکی چھتری تلے اور ملک میں با اثر گروپوں کی موجودگی عراق میں کشیدگی اور انتشار کا بنیادی سبب ہیں۔عراقی پارلیمنٹ سے منظور قرارداد میں کہا گیا ہے کہ حکومت کسی بھی غیرملکی افواج کی عراقی سرزمین پر عدم موجودگی کو یقینی بنائے اور کسی بھی مقصد کیلئے غیر ملکی افواج کو عراقی زمینی، فضائی اور بحری حدود استعمال نہ کرنے دی جائے۔ اس سے قبل عراقی وزیراعظم عادل عبدالمہدی نے پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک سے غیر ملکی فورسز کے جلد ازجلد انخلا کیلئے اقدامات کیے جائیں،ملک کو بہت سی اندرونی اور بیرونی مشکلات کا سامنا رہا ہے تاہم افواج کا انخلا عراق کے لیے بہتر ہے۔دوسری جانب عراقی وزیر خارجہ نے امریکی حملے میں جنرل سلیمانی کی ہلاکت پر اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں باقاعدہ شکایات درج کرائی ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ امریکی حملہ عراقی خودمختاری کیخلاف ہے۔عراقی پارلیمان اور عراقی وزیراعظم نے جن امور کی نشاندہی کی ہے اور جو مطالبات کئے ہیں ان پر عملدرآمد اور ان کا احترام کرنا متعلقہ ممالک کی ذمہ داری ہے علاوہ ازیں یہ اقوام متحدہ کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ عراقی عوام کے نمائندوں کے مطالبات اور ان کی رائے کا احترام یقینی بنائے عراق میں قیام امن اور خطے کے استحکام کیلئے خطے سے غیر ملکی افواج کی واپسی ہونی چاہیئے خطے کے ممالک کو بھی اچھی ہمسائیگی اپنی خود مختاری وسلامتی کا تحفظ اور دوسرے ممالک کے معاملات میں دخل اندازی سے گریز اختیار کرنا چاہیئے تب جا کر خطے کا امن بحال ہوگا۔عراقی پارلیمان کے مطالبات ان عراقی عوام کے بھی دلوں کی آواز ہونا فطری امر ہے جو جنگ وجدل بدامنی اور انتشار کی کیفیت کا خاتمہ چاہتے ہیں۔

سفارش کلچر کا خاتمہ آخر کب ہوگا؟

ایبٹ آباد اور مردان کے تعلیمی بورڈز میں سے کسی ایک بورڈ میں کنٹرولر یا ڈپٹی کنٹرولر کے عہدوں پر تعیناتی کیلئے ایک اسسٹنٹ پروفیسر کی وفاقی اور صوبائی وزیروں کی سفارش پر مشتمل درخواست محکمہ تعلیم کو ارسال کرنے کا معاملہ کس حد تک درست ہے اس کی تردید ووضاحت نہیں آئی معروضی حالات میں اس قسم کی صورتحال بعید از امکان نہیں بلکہ جس طرح قبل ازیں کی حکومتوں میں اداروں کے معاملات میں سیاسی مداخلت اور سفارشی تعیناتیاں معمول کی بات تھیں اس میں ابھی کمی نہیں آئی اس ضمن میں دلچسپ امر یہ ہے کہ محولہ اسسٹنٹ پروفیسر کی سفارش کرنے والوں میں بڑے بڑے نام شامل ہیں محکمے کی طرف سے سفارشی رقعہ کی واضح تردید کی بجائے اس پر غور نہ کرنے اور اپنے طریقہ کار کی وضاحت بالواسطہ طور پر اس امر کا اعتراف ہے کہ حکام کو سفارشی رقعہ موصول ہوا ہے۔ہم سمجھتے ہیںکہ وائس چانسلروں کی تقرری سے لیکر ثانوی واعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈوں کی پرکشش اسامیوں پر تقرری کیلئے کھینچاتانی سفارشی اور سیاسی دبائو ڈالنے کا جو سلسلہ ہے اس سے جامعات اور تعلیمی بورڈوں کا نظام بگڑ چکا ہے کم از کم تعلیم اور صحت کے شعبے میں ہی میرٹ کی پاسداری کی جائے اور ایک شفاف طریقہ کار کے تحت تقرریاں کی جائیں تو ان شعبوں میں بہتری ممکن ہے حال ہی میں ان دونوں محکموں کے وزراء کی کارکردگی پر وزیراعلیٰ کا عدم اعتماد اور قلمدان میں تبدیلی اعتراف حقیقت کے زمرے میں ضرور آتا ہے لیکن جب تک عملی طور پر ان محکموں میں میرٹ کی بالادستی یقینی نہیں بنائی جاتی اس وقت تک اصلاح اور بہتری کی توقع نہیں۔

عوام کو زہر کھلا نے والوں کے خلاف سخت مہم کی ضرورت

اگرچہ فوڈ اتھارٹی کا عملہ اپنے دائرہ کار کے حامل اضلاع اور صوبائی دارالحکومت میں ملاوٹ،حفظان صحت کے اصولوں کا خیال نہ رکھنے اور صحت بخش خوراک کی تیاری وفروخت یقینی بنانے کیلئے پوری طرح کوشاں ہے لیکن اس کے باوجود اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ غیر معیاری اور مضر صحت دودھ، مضر صحت کوکنگ آئل سمیت حفظان صحت کے اصولوں کے منافی خوراک اور اشیا کی فروخت بھی جاری ہے ۔مضر صحت اور غیر معیاری گھی سے کھانے اور خوردنی اشیاء کی تیاری سنگین مسئلہ ہے۔ بدقسمتی سے صوبے میں صرف فٹ پاتھ اور ٹھیلوں پر ملنے والی خوراک ہی جعلی گھی میں تیار نہیں کی جاتی بلکہ بڑے بڑے ریسٹورنٹس اور ہوٹلوں میں بھی اس کے استعمال کی شکایات ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس ضمن میں خصوصی مہم شروع کی جائے اور جعلی کوکنگ آئل سمیت ملاوٹی اشیاء کی خرید وفروخت میں ملوث نیٹ ورک اور دکانداروں کیخلاف بھر پور مہم شروع کی جائے تاکہ عوام کو اس مضر صحت خوراک کے استعمال سے بچایا جاسکے۔ ملک بھر میں جس طرح جعلی وغیرمعیاری اشیاء بنتی ہیں اور اس کا کاروبار ہوتا ہے وہ کسی سے پوشیدہ امر نہیں مضر صحت' خوردنی اشیاء کی تیاری اور فروخت کا معاملہ اسلئے زیادہ سنگین ہے کہ اس سے براہ راست انسانی جانوں کو خطرہ ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ اگر حکومتی ادارے اپنی ذمہ داریاں سنجیدگی سے نبھانے پر توجہ دیں تو نہ مضر صحت اشیاء کی تیاری ممکن ہوگی اور نہ ہی ان کی خرید وفروخت اور کاروبار کا کوئی امکان بنتا ہے۔ توقع کی جانی چاہئے کہ حکومتی ادارے اس ضمن میں مزید غفلت کے مرتکب نہیں ہوں گے اور صوبہ بھر میں جعلی اور مضر صحت اشیاء کی تیاری اور کاروبار کیخلاف سخت مہم چلائی جائے گی اور ذمہ دار عناصر کی گرفتاری اور ان کو کیفرکردار تک پہنچانے میں کسی مصلحت سے کام نہیں لیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں