Daily Mashriq

مشرقیات

مشرقیات

آج کل ہر جگہ معاشرہ،جس تباہی کی طرف جارہا ہے اور جس طرح سے غیر محسوس طریقہ سے نئی نسل کو شیطان کے جال میں پھنسایا جا رہا ہے اور اس سے اس کے ایمان کو خطرہ لاحق ہوتا جارہا ہے ،اس سب کو دیکھ کر دل ودماغ پریشان سا ہو جاتا ہے۔ ڈش، کیبل، موبائل،نیٹ،فحش مناظر، فحش لٹریچر، مخلو ط نظام تعلیم اورناچ گانوں کی محفلیں وغیرہ بہت ساری چیزوں کے ذریعہ نئی نسل سے اس کے انسانیت کا لباس اتار کر اس کو بے حیائی کا لباس پہنایا جارہا ہے اور بد قسمتی سے نئی نسل ان چیزوں کو افیون کی طرح استعمال کر رہی ہے اور وہ ان چیزوں کی اس قدر عادی بن چکی ہے کہ شاید اب اس کا اس سے نکلنا اگر نا ممکن نہیں مگر مشکل ضرور ہے۔موجودہ دور میں مسلم نوجوانوں نے جو طرز زندگی اختیار کر رکھا ہے ،اس کے پیچھے خاص طور پر بالی ووڈ اورہالی وڈ کی نقالی ہوتی ہے ،ان کے چہرے اور ان کی داڑھی کی بناوٹ اور ان کے لباس میں مسلم تہذیب اور اسلامی معاشرہ کی کوئی علامتی چیز نظر نہیں آتی ہے،چونکہ غیروں کی نقالی اورمشابہت مسلمانوں کی مغلوبیت کی عکاسی کرتا ہے،جو کہ ایک سنگین مسئلہ ہے اگر باریکی سے دیکھا جائے تو آج کل شیطانی قوتوں نے جس طرح کے جال بچھارکھے ہیں،ان کے جو دائو پیچ سر چڑھ کر بول رہے ہیں،ان کے شکار لڑکوں کے مقابلے میں زیادہ تر لڑکیاں نظر آتی ہیں،بے پردگی،سج دھج اور بناوسنگار کے ساتھ نکلنا اور زیادہ تر وقت مختلف پارکوں میں موبائل اور نیٹ کے ساتھ گزارنا ان کی طبیعت ثانیہ بن چکی ہے ،ہمارے معاشرے کے افراد کو اس جانب توجہ دینی ہوگی اور اپنا محاسبہ کرنا ہوگا شاید کسی شاعر نے ایسی ہی لڑکیوں کے بارے میں یہ شعر کہا ہے۔

قوم کی وہ بیٹیاں کہ جن کو بننا تھا بتول

کالجوں میں سیکھتی ہیں ناچ گانوں کے اصول

دراصل مسلم معاشرہ اور نئی نسل کی اس بے راہ روی کے بنیادی ذمہ داروہ والدین بھی ہیں،جنہوں نے اپنے بچوں کو حد سے زیادہ آزادی اور مہنگے موبائل ونیٹ کی غیر ضروری سہولیات دے رکھی ہیں اور اب وہ ان کے ہاتھ سے نکلتے جارہے ہیں اور یہی بچے پھر بڑے ہو کر اپنے ماں باپ کو چھوڑ کر اپنی موج مستی کی دنیا میںچلے جاتے ہیں اور جہاں بظاہر سب کچھ تو ہوتا ہے ،مگر سکون ،ایمان اور اپنے والدین کی دعائیں نہیں ہوتی ہیں اور ایسے ہی لوگوں کا انجام بالآخر دنیا وآخرت کی بربادی سے ہوتا ہے۔علامہ اقبال نے بھی بجا فرمایا ہے۔

قلب میں سوز نہیں،روح میں احساس نہیں

کچھ بھی پیغام محمد کا تمہیں پاس نہیں

اللہ ہمارے معاشرے کی نئی نسل کو سمجھ دے اور ضروری ہے کہ ان کو سمجھانے کیلئے ناصرف والدین اساتذہ بلکہ ہمارے معاشرے کے ہر ذی شعور انسان کو اس محنت میں جت جانا چاہیئے کہ چاہے نوجوان جس کی بھی اولاد ہیں لیکن ہیں ہمارے ہی معاشرے کا حصہ اگر انہیں تھوڑی رہنمائی کر کے اپنی سی کوششیں کریں تو اس کے دورس نتائج سامنے آئیں گے جس سے ہم خود اور نئی نسل بھی مستفید ہوگی۔

متعلقہ خبریں