Daily Mashriq

وژن کی سلیمانی ٹوپی

وژن کی سلیمانی ٹوپی

اکتوبر2014میں جب ابھی خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت کو قائم ہوئے ایک سال سے کچھ ہی زیادہ وقت گذرا تھا جب تحریک انصاف کی جانب سے بری کارکردگی پرایم پی ایز سے وزارتیں لینے یا بدلنے پرراقم نے ایک قومی روزنامے میں اپنے کالم میں ایک ایسے فوجی یونٹ کی آپ بیتی لکھی تھی جوکئی کتابوں کے مصنف اورآئی ایس پی آرمیں کرنل کے طورپرخدمات دینے والے اشفاق حسین کی کتاب سے نقل کی گئی تھی۔ مذکورہ یونٹ پر کچھ ایسی حالت میں استورکی برف پوش اونچی پہاڑیوں میں رمضان آیا تھا کہ پیچھے سے راشن پہنچنے کے راستے بندہوچکے تھے۔یونٹ انچارج نے میس منیجر کو بلاکرپوچھا کہ راستے تو بند ہیں اورسامان تو پہنچ نہیں پائے گا یہ بتائیں سٹورمیں کیا کیا پڑا ہے تاکہ رمضان کے مہینے کا مینیو سیٹ کیا جاسکے توانہیں بتایا گیا کہ میس سٹورمیں صرف آلو، پیاز اوربیسن ہے۔

یونٹ انچارج صاحب نے پہلے دن کے مینیو پرکام شروع کیا اورانہیں معلوم ہوا کہ پہلی سحری کے لئے اس سامان سے کچھ سالن قسم کی چیز بنائی جاسکتی ہے جبکہ افطاری کی باری آنے پرانہیں بتایا گیا کہ آلو، پیاز اوربیسن سے پکوڑے بن سکتے ہیں، دوسرے دن کی سحری کے لئے بھی اسی سالن قسم کی چیز پراکتفا ہوااورافطاری کے لئے پکوڑوں کا انتخاب ہوا ، ہوتے ہوتے کئی دنوں کا مینیو سیٹ کرلیا گیا لیکن بات پکوڑوں سے آگے نہیں بڑھ رہی تھی جس پریونٹ انچارج نے زچ ہوکر کہا کہ پکوڑے کھا کھا کر تو جوان بورہوجائیں گے اس لئے پکوڑوں کے علاوہ بھی کچھ بننا چاہیئے جس پرمعصوم سی صورت والے میس منیجر نے سلیوٹ مار کر کہا کہ سرآپ کی بات بجاہے لیکن جب آپ کے پاس آلو، پیاز اوربیسن ہوگا تو اس سے پکوڑوں کے علاوہ کچھ نہیں بن سکتااوریہی وہ لمحہ تھا جب یونٹ انچارج صاحب کو احساس ہو ا کہ میس منیجر ٹھیک کہہ رہے ہیں۔جب یہ کہانی لکھی تھی تو اس وقت سچ مچ تحریک انصاف ایسی ہی کیفیت سے دوچارتھی کہ اس کے زیادہ تر لوگ اپنے ہی تھے اوراپنی ہی پارٹی کے ٹکٹ پرمنتخب ہوکر آئے تھے،ان کے پاس تجربے نام کی کوئی چیز نہ تھی لیکن اخلاقی لحاظ سے وہ پھر بھی قابل قبو ل تھے اورجب بری کارکردگی پرعمران خان صوبائی وزرا سے وزارتیں واپس لے رہے تھے تو یہ کہانی فٹ آرہی تھی کہ جب آپ کے پاس لوگ ہی سارے کے سارے ناتجربہ کارہیں توآپ کس وزیر کو کس کے ساتھ بدلیں گے یا کس کی جگہ کسے لے کر آئیں گے اوریہی وجہ تھی کہ احساس ہونے پرپارٹی نے اس پانچ سالہ دور میں صرف ایک آدھ بار ہی بری کارکردگی پروزرا کو بدلااورپھراس کے بعد ایسی کسی کوشش سے توبہ کرلی۔ اب جب خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت کو دوسری باری دی گئی ہے تو نہ صرف اس کے اپنے منتخب نمائندے پہلے کے مقابلے میںزیادہ تجربہ کار ہیں بلکہ انتخابات سے قبل پارٹی میں شامل ہونے والے تمام کے تمام''سمجھدار'' بھی تجربے کے حامل ہیں اوراب یہ جماعت اپنے پیاز،آلو اوربیسن کے ساتھ پکوڑے پکانے پر مجبور نہیں تھی۔بلکہ اب تو برف پڑنے سے پہلے ہی بہت سابیف، چکن، مٹھن، سبزیاں اوردالیں خود ہی اس کے سٹورمیں سما چکی تھیں جن سے ایک مہینہ تو کیا پورا سال بھی قسم قسم کی ڈشیں پکائی جاسکتی تھیں۔

اس وقت جب تحریک انصاف کا سٹورخالی تھا کے بعد بھی پورے پانچ سال اچھی طرزحکمرانی، لوگوں کے مسائل حل ہونے،وزارتیں تقسیم کرتے ہوئے میرٹ اوروزرا کے طرز انتخاب کے بارے میں سوالوں کا سامنا تھا اوراب جب اس صوبے میں ان کی حکومت کو باضابطہ شروع ہوئے قریبا ساڑھے چھ سال ہونے کو ہیں اب بھی ان کے کام سے کوئی مطمئن نہیں۔ پہلی حکومت کے دوران ان کو ان کے کہنے کے مطابق اچھے لوگ نہیں مل پارہے تھے اوراب حالت یہ ہے کہ لوگ توہیں لیکن پارٹی پردبائو، جماعت کے اندر پارٹی کی بجائے گروہوں کی حکمرانی، بلیک میلنگ اورمیں ناں مانوں کے راج نے پارٹی کوپہلے سے زیادہ مشکل میں رکھاہے۔رہی سہی کسراعلی تعلیمیافتہ لوگوں کو چھوڑکرصرف میٹرک کی سند کے حامل لوگوں کو وزارتیں دینے کے عمل نے نکال دی ہے وہ سارے جو اپنے لیڈر عمران خان کی جانب سے پارٹی اورحکومتی معاملات کو میرٹ پرچلانے کے نعرے سن سن کر پلے بڑھے تھے یہ سب کچھ دیکھ کر بغلیں جھانک رہے ہیں کہ اب اس کا کیا جواز ہوسکتا ہے کہ پارٹی کی اکیس اچھی شہرت کی حامل اعلی تعلیمیافتہ خواتین میں سے کسی کو کسی قابل نہیں سمجھا گیا اورساری کی ساری وزارتیں مردوں میں تقسیم کردی گئیں، مرکز میں نوجوان مراد سعید کو وزارت دینے کے لئے کم عمری کا جواز دینے والے صوبے میں کم تعلیمیافتہ لیکن تجربہ کاروں کوکابینہ میں شامل کرنے کی دلیلیں دے رہے ہیں۔اچھی انگریزی آنے پرمیٹرک پاس وزیرکو وزارت دینے کا جواز بناکرپیش کیا جارہا ہے اورکوئی یہ کہہ ہی نہیں رہا کہ اس ذہنی غلامی سے بچنے کا نعرہ تو کئی بار آپ کے اپنے وزیراعظم دے چکے تھے کہ بہت سی اقوام نے اپنی ہی زبانوں میں ترقیاں کی ہیں۔پارٹی میں شامل ہونے والے بڑے خاندانوں اور گروہوں کے لوگوں کی اجارہ داری سے کیسے نکلا جائے آج کا سب سے اہم سوال ہے، ہرزبان پریہی ایک سوال ہے کہ جن وزرا کی کارکردگی ایک وزارت میں ٹھیک نہیں تھی انہیں دوسری وزارت کیوں دی گئی وہ جب پہلے ناکام ہوچکے تو نئی وزارت ان کو دینے کا کیا جواز بنتا ہے۔ مفادات کے ٹکرائو کے قانون کے تحت کسی اورکا راستہ تو کیا روکتے وہ تو اپنے ہی لوگوں کو اسی طرز پرخوش کرنے کے لئے کارفرما ہیں۔کہتے ہیں صوبے میں ایک خاص وژن کے تحت معاملات چلائے جارہے ہیں، پتہ نہیں کس کا وژن ہے اوریہ وژن سلمانی ٹوپی پہن کر کیوں پھر رہا ہے؟۔

متعلقہ خبریں