Daily Mashriq

سال جو ضائع ہو گیا

سال2019ملک میںجمہوری ترقی کے حوالے سے مایوس کن رہا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ حکومت نے جمہوری نظام کو چلانے کیلئے وہ تمام حربے استعمال کیے جو اپنی فطرت میں نہایت غیر جمہوری سمجھے جاتے تھے۔ تحریک انصاف سال 2018کے وسط میں اقتدار میں آئی سو اس سے اسی سال کے باقی مہینوں میں ہی کارکردگی کی امید کرنا کچھ زیادتی تھی کہ ایک نا تجربہ کار جماعت کو جمہوری نظام سمجھنے کیلئے چند مہینے درکار ہوتے ہی ہیں۔ البتہ جنوری 2019 کے بعد ان کے پاس اپنی کمزور کارکردگی کا کوئی جواز نہیں بچا ۔ اب جب کہ 2020 کا آغاز ہو چکا ہے تو حکومت کوچاہیے کہ وہ عوامی امنگوں پر پورا اترنے میں ناکامی کی وجوہات پر اپنا احتساب کرے۔وہ خود سے سوال کرے کہ کیااس نے پارلیمان کو وہ عزت دی جس کی وہ حقدار تھی؟حکومت کا صدارتی حکم ناموں کی بہتات کرنا اس کے پارلیمان پر عدم اعتماد کی نشاندہی کرتا ہے۔ حکومت کو یہ بات ہضم نہیں ہوتی کہ ایوان بالا میں حزب اختلاف اکثریت میں ہے سو وہ قوانین پاس کرنے کیلئے اتفاق رائے پیدا کرنے کی بجائے قانون سازی کے عمل میں سینٹ کے ادارے کو یکسر ہی نظر انداز کرنے کو فوقیت دیتی ہے۔ حتیٰ کہ حکومت نے 120روز کے بعد سینٹ کا اجلاس بلانے کی آئینی ضرورت کو بھی پورا کرنا ضروری نہیں سمجھا۔

حکومت چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی کیلئے بھی اپوزیشن کے ساتھ اتفاق رائے پیدا کرنے میں ناکام رہی ہے اور اسے اپنے نامزدکردہ نمائندے کو تعینات کرنے کیلئے دو تہائی اکثریت بھی حاصل نہیں۔ اور اب بجائے اپوزیشن کے ساتھ اتفاق رائے پیدا کرنے کی جمہوری راہ اپنانے کے، حکومت اس معاملے کیلئے دو تہائی اکثریت کی آئینی شرائط ہی بدل کر اسے سادہ اکثریت کرنے کے د رپے ہے۔

پارلیمانی جمہوریت میں کابینہ ہی حکومت ہوتی ہے البتہ موجودہ حکومت میں کابینہ کا بطور فیصلہ ساز، کردار مشکوک دکھائی دیتا ہے، گو کہ موجودہ حکومت باقاعدگی کے ساتھ کابینہ اجلاس طلب کرنے کے حوالے سے شہرت کی حامل ہے البتہ کابینہ اجلاس کی اندرونی کہانیوں کے منظر عام پر آنا بھی معمول بن چکا ہے اور اس سلسلے کو روکنے کی اشد ضرورت ہے۔ ویسے توکسی چھوٹے سے حکومتی محکمے کے سربراہ کی تعیناتی کیلئے بھی کابینہ کی منظوری لینا ضروری ہے اور یہاں اس بات کا کوئی ثبوت نہیں مل پا رہا کہ آرمی چیف کے عہدے کی میعاد میں توسیع کیلئے کابینہ کی منظوری لی گئی تھی یا نہیں۔ اسی طرح نیب قانون میں کی گئی حالیہ ترمیم میں بھی کابینہ کی منظوری شامل نہیں تھی اور اس حوالے سے چند وزراء کے احتجاج کے بعد آئندہ ایسے معاملات پر کابینہ سے مشاورت کا وعدہ کیا گیا تھا۔

اب تو کابینہ کی تشکیل پر بھی کئی سوالا ت اُٹھنے لگے ہیں کہ یہاں بیشتر اہم قلمدان غیر منتخب افراد کو تھمائے گئے ہیںاور وزیر اعظم کے خصوصی مشیران کی تعداد بہت زیادہ ہو چکی ہے۔ اکثر کابینہ اجلاسو ں میںہمیں ان اجنبیوں کی بڑی تعداد دیکھنے کو ملتی ہے ۔اب جو لوگ تو عوام کی جانب سے منتخب کر کے بھیجے گئے وہ پارلیمان کو جوابدہ ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے ووٹروں کو بھی جوابدہ ہیں اور انہیں اگلا الیکشن جیتنے کیلئے اپنے ووٹروں کوراضی بھی رکھنا ہوتا ہے اور یہی بات جمہوریت کو مستحکم کرنے میں مدد دیتی ہے۔ البتہ ایک غیر منتخب فرد کو اس قسم کی کوئی فکر نہیں ہوتی۔ اگر انتخابات جیتنے والی جماعت کا سربراہ اس فرد کو پسند کرتا ہے تو وہ بغیر کسی دقت کے ایک بار پھر مشیر بن جاتا ہے اور یوں اسے ایک ایم این اے، جو کہ ایک منتخب نمائندہ ہوتا ہے پر بھی فوقیت حاصل ہوتی ہے۔ ایسا مشیراگرچہ بہتر کارکردگی دکھا بھی دے اس کے باوجود اس پر کسی قسم کی جمہوری اقدار کی پاسداری کا دباو نہیں ہوتا۔ غیر منتخب مشیران کی اس قدر بہتات نہ صرف آئین کی خلاف ورزی ہے بلکہ اس سے حکومتی امور میں عوامی حصہ داری بھی کم ہوتی جاتی ہے جو کہ جمہوریت کی روح کے عین مخالف ہے۔حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنے منتخب ممبروں کی تربیت پر زور دے تاکہ انہیں وزارت کے قلمدان سنبھالنے کے قابل بنایا جاسکے اورحکومت میں غیر منتخب افراد کے اثرورسوخ کو کم کیا جا سکے۔

ابھی حال ہی میں نیب کے حوالے سے جاری کردہ صدارتی حکم نامے پر بھی حکومتی صفوں میں عدم اتفاق کھل کر سامنے آیا ہے۔ وزیر اعظم کے مشیر برائے احتساب کا کہنا ہے کہ یہ حکم نامہ تاجروں کی مشکلات دور کرنے کیلئے جاری کیا گیا ہے جبکہ نیب سربراہ کے مطابق اس حکم نامے کی کوئی ضرورت ہی نہیں تھی کہ نیب نے خود ہی تاجروں سے متعلقہ مسائل کو ایف بی آر کے حوالے کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ اب اس حکم نامے کی حتمی منظوری سے پہلے نیب سربراہ کو اعتماد میں نہ لینا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ حکومت اتفاق رائے اور مفاہمت سے نظام حکومت چلانے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتی۔ یہ ترمیم این آر او کی ایک نئی قسم کہلائی جا سکتی ہے۔ حکومت کا تمام جمہوری قواعد اور آئینی پابندیوں سے مسلسل رو گردانی کو معمول بنانے کے پیچھے یہی سبب کارفرما ہے کہ اس نے جمہوری نظام حکومت میں حزب اختلاف کے کردار اور اس کی اہمیت کو یکسر ہی پس پشت ڈال دیا ہے۔ اس نئے سال میں حکومت کا آئین کی درست معنوں میں پاسدار ی کا اعادہ ہی ملک میں جمہوریت کے استحکام کی امید روشن کر سکتا ہے۔

(بشکریہ ڈان، ترجمہ : خزیمہ سلیمان)

متعلقہ خبریں