Daily Mashriq

کہ آتی ہے اردو زباں آتے آتے

کہ آتی ہے اردو زباں آتے آتے

ہندکو زبان کی ترویج و فروغ کے لئے صحافیوں کی ٹیم تشکیل دے دی گئی اور زہے نصیب کہ اس ٹیم کے بانی اراکین کے اجلاس کی صدارت کااعزاز راقم السطور کے حصہ میں آیا ، حالانکہ وہ اپنے آپ کو صحافت کے تقدس مآب پیشہ کی دھول کا ذرہ بھی نہیں سمجھتا ۔

لکھتے رہے جنوں کی حکایات خوں چکاں

ہر چندکہ اس میں ہاتھ ہمارے قلم ہوئے

ہم نے کبھی بھی اپنے آپ کو صحافی تو صحافی ادیب اور شاعر ہونے کے معیار پر بھی پورا نہ پایا ، بس اپنی مادری زبان ہندکو اور چہرے پر سفید ریشی کا ماسک ہمیں بہت سے چاہنے والوں میں معتبر بنانے کی خوش فہمیوں میں مبتلا کرتا رہا اور ہم اپنے آپ کو عالم فاضل ثابت کرنے کے لئے نام نہاد لیکچر داغتے ہوئے کہنے لگے کہ انسان ایک سماجی جانور ہی نہیں۔ حیوان ناطق بھی ہے۔ یعنی وہ بولنا چالنا اور گفتگو کرکے اپنا ما فی الضمیر بیان کرنا یا اپنے دل کا حال بیان کرنا جانتا ہے۔ اس کی گفتگو کرنے کی اس صلاحیت ہی نے اسے دیگر جانوروں سے ممیز اور ممتاز بنایا اور اسے سماج بنا کر رہن سہنا سکھایا۔ اس نے بولنا چالنا یا گفتگو کرنا سیکھنے سے پہلے اپنے حلق منہ اور زبان کے مختلف حصوں کو مختلف انداز سے حرکت دے کر مختلف النوع آوازیں نکالنا شروع کیں۔ اس کے منہ سے نکلنے والی یہ آوازیں حرف و صوت کہلائیں یا انہیں حروف کا نام دیا گیا۔ مختلف حروف کے ملاپ سے الفاظ بنے۔ الفاظ جملوں کے قالب میں ڈھلے اور یوں

آتے ہیں غیب سے مضامین خیال میں

غالب صریر خامہ نوائے سروش ہے

کالامتناہی سلسلہ شروع ہوگیا۔ کرہ ارض کے مختلف خطوں پر زندگی گزارنے والی مختلف النوع قوموں یا اقوام عالم نے نظام قدرت کے تابع رہ کر لا شعوری طور پر زبانوں کے مختلف النوع خاندان بنائے۔ اور اس طرح زبانیں نسل در در نسل پروان چڑھتی ، پلتی بڑھتی ، پھلتی پھولتی اور پھیلتی رہیں۔ زبانوں کے پھلنے پھولنے اور پھیلنے کے اس سفر میں بہت سی زبانیں وقت کی رفتار کے ساتھ ساتھ نابود بھی ہوتی رہیں اور حالات کی ستم ظریفیوں سے اپنا دامن بچا کر اپنے وجود کو محفوظ بھی کرتی رہیں۔ ایک لسانی جائزے کے مطابق کہتے ہیں کہ اس وقت دنیا میں کل چھ ہزار آٹھ سو نو زبانیں بولی جا رہی ہیں ۔ گویا ہم رنگ رنگ کی زبانوں کے ایک جنگل میں آباد ہیں۔ لیکن دنیا کے7 ارب سے زائد لوگوں میں سے ہر فرد کا کسی ایک ایسی زبان سے ناطہ ضرور ہے جسے وہ اپنی' مادری زبان' کہتا ہے۔ میڈیکل سائنس کے ماہرین کے علاوہ ماہرین نفسیات اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ بچہ اس دنیا میں آنے سے پہلے ہی اپنی ماں کی کوکھ ہی میں اس زبان سے آشنا ہونے لگتا ہے جسے اس کی مادری زبان کہاجاتا ہے۔ یہ زبان نہ صرف اس بچے کی ماں بول رہی ہوتی ہے بلکہ اس کے بھائی بند خویش رشتہ دار بھی بول رہے ہوتے ہیں۔ ضروری نہیں کہ بچہ اپنے ماں کے پیٹ میں ان باتوں کو کما حقہ ہو سمجھ بھی رہا ہو جو اس کے چاہنے والے بول رہے ہوتے ہیں لیکن وہ اس لب و لہجہ سے مانوس ضرور ہورہا ہوتا ہے جو وہ اپنی پیدائش کے فورا بعد ہی نہیں زندگی بھر اپنائے رکھتا ہے۔ نومولود بچہ جو زبان شکم مادر میں سنتا ہے اسے وہ آغوش مادر میں سیکھنا اور سمجھنا شروع کرتا ہے اور سات برس کی عمر تک وہ اس زبان کی مدد سے 70فی صد علم حاصل کر لیتا ہے جب کہ باقی 30فی صد اپنی زندگی کے باقی حصہ میں سیکھتا ہے اورجب وہ بڑا ہوکر لمبی لمبی تقریریں کرنے لگتا ہے تو دنیا کی کوئی ایک زبان بھی بولتے وقت قدرتی طور پر وہ لب ولہجہ جسے ہم اس کی مادری زبان یا اس کا فلیور کہہ سکتے اس کی بات چیت میں در آکر اس کی 'مادری زبان' کا سچ اگلنے لگتا ہے۔ ہندکو میری مادری زبان ہے۔ اپنی زندگی کے سولہویں سال کی حماقت کی وجہ سے میرے جاننے والے مجھے شین شوکت کے نام سے جانتے ہیں۔ جس وقت میرے بیٹے شہساز علی نے شین ویب کے نام سے ایک ویب سائٹ لانچ کی تھی اس کو چلتا رکھنے کے لئے مجھے اس کے کنٹنٹ انگلش میں لکھ کر آن لائن دینے پڑتے تھے۔ میں جو اپنی گھٹی میں ہندکو زبان اور اس کے لب و لہجہ کی شیرینی چاشنی مٹھاس یا چسکہ لیکر پلا بڑھا تھا بھلا انگریزوں جیسے لب و لہجے کی انگلش کیسے لکھ پاتا۔ سو میں نے اپنی اس کمزوری یا عیب کو چھپانے کی بجائے برملا کہنا شروع کردیا کہ یہ شین ویب ڈاٹ کام میں جو مواد آپ کو پڑھنے یا سمجھنے کے لئے مل رہا ہے اسے آپ لاکھ انگلش یا انگلش نما کہہ لیں راقم السطور اسے ''شنگلش یا شنگریزی'' ہی کہے گا کیونکہ دوست احباب یا علم و ادب کا شغف رکھنے والے اس ہیچمدان کو شین شوکت کے نام سے جانتے ہیں۔ اپنی اس بات سے احباب اور یار لوگ بڑے محظوظ ہوتے رہے اور کالم قبیلہ کے نامور مردان میدان میں سے محترم مشتاق شباب، شباب کی باتوں میں میرے اس پر شباب زعم یا نظریہ کا مزے لے لے کر حوالہ بھی دے بیٹھے۔ اس تناظر میں، میں شین کی ڈائری کے قارئین کو باور کرانا چاہتا ہوں کہ وہ زیر نظر تحریر کا مطالعہ کرتے وقت کبھی بھی یہ نہ سوچیں کہ وہ کسی اہل زبان یا اردو دان کا کالم پڑھ رہے ہیں۔ کیونکہ اس میں کسی نہ کسی جگہ آپ کو میری مادری زبان ہندکو کے لب و لہجہ کی چاشنی ضرور نظر آئے گی اور جب آپ اسے میرے قلمی نام شین شوکت کے تناظر میں پڑھیں گے تو یہ آپ کو اردو کی بجائے '' شردو'' لگے گی کیونکہ بقول داغ دہلوی

نہیں کھیل اے داغ یاروں سے کہہ دو

کہ آتی ہے اردو زباں آتے آتے

متعلقہ خبریں