Daily Mashriq


موزوں وقت پر میزائل کا کامیاب تجربہ

موزوں وقت پر میزائل کا کامیاب تجربہ

چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کا جھگڑا لو پڑوسی کے خلاف امن کی ضمانت کے طور پر بیلسٹک میزائل نصر کا کامیاب تجربے کا مشاہدہ قوم کیلئے باعث اطمینان لمحہ ہے ۔ پاکستانی قوم من حیث المجموع جنگ وجدل سے گریزاں اور ہمسائیوں کے ساتھ اچھے تعلقات کی خواہاں ہے اور یہی ہماری خارجہ پالیسی بھی ہے لیکن پڑوس سے جس تسلسل کے ساتھ کبھی جعلی سر جیکل سٹرائیک کرنے کے دعوے اور کبھی مختصر مدت کی جنگ اور اس طرح کے اشارے مل رہے ہیں ان کے تناظر میں اور خاص طور پر امریکہ سے بھاری ہتھیاروں کے حصول کے معاہدے کے بعد بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی اسرائیل یاترا میں نئی دہلی اور تل ابیب کے دشمنوں کو ایک دوسرے کا دشمن قرار دینے اور مشترکہ جواب دینے کے اعلان کے بعد پاکستان کو اپنے ترکش میں موجود بہت سے مئو ثر تیروں میں سے کسی ایک موزوں تیر کو موقع محل کی مناسبت سے سامنے لانے اور تجربے سے مئوثر ثابت کر کے دکھانے کی ضرورت تھی۔ بیلسٹک میزائل نصر کا کامیاب تجربہ اسی تناظر میں تھا۔بھارت کے جوہری ہتھیاروں کے مقابلے میں پاکستان کا اپنی جوہری طاقت کو بہتر کرنے کیلئے اقدامات جاری رکھنا ہی ہماری مجبوری ہے ۔ حال ہی میں جنیوا میں اقوام متحدہ کیلئے سابق پاکستانی سفیر ضمیر اکرام کا اسٹریٹجک ویژن انسٹی ٹیوٹ (ایس وی آئی )کی جانب سے منعقدہ ایک سمینار سے خطاب کے دوران کہنا تھا کہ ہم اسے برابری کی بنیاد پر نہیں لے رہے، ہم اسے تناسب کے حوالے سے لے رہے ہیں، ہم اسے اپنے تحفظ کیلئے جوابی حملے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ درست کام اور معتبر جوہری طاقت صرف جوابی حملے کی صلاحیت سے حاصل ہوسکتی ہے جو تیار کر لی گئی ہے، سب سے بڑی ضرورت اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ جوہری طاقت کیلئے کسی قسم کی تاخیر نہیں ہونی چاہیے، جس کے لیے ''مکمل سپیکٹرم ڈیٹرنس ''کے نظریے کے تحت اقدامات جاری ہیں۔اس موقع پرضمیر اکرام نے اس خوف کا اظہار کیا تھا کہ بھارت پاکستان کو غیر مسلح کرنے کیلئے حملے میں پہل کی کوشش کرے گا۔ بھارت چاہتا ہے کہ ایسی صلاحیت حاصل کرے جو پاکستان کو پہلے ہی حملے میں مکمل تباہ کرکے غیر مسلح کردے اور ہمارے جوہری اثاثے ختم کردے۔ پاکستانی حکمت عملی ترتیب دینے والوں کو اس کا بخوبی علم تھا جنہوں نے پہلے ہی اپنا منصوبہ اس خیال کے تحت بنایا تھا کہ بھارت ایسا کرنے کی کوشش کرے گا۔ہمارے ماہرین نے بھارت کی جانب سے محض زبانی عزم کی نشاندہی پر اپنی جوہری اور دفاعی صلاحیت ترتیب نہیں دی۔بلکہ معاملات کے مکمل ادراک کے بعد اس کی منظم اور مکمل منصوبہ بندی کی گئی ہوگی۔بھارت کی جانب سے ہتھیاروں کی دوڑ شروع کرنے اور اسلحہ کا انبار لگانے سے پاکستان کو اپنے دفاع میں ہر قسم کے وسائل کو بروئے کار لانے اور حکمت عملی اختیار کرنے کا اختیار خود بخود مل جاتا ہے اس صورتحال میں پاکستان کے پاس نئے زمینی ، بحری اور فضائی میزائل ڈیلیوری نظام میں پیشرفت ہی دفاع وطن کا تقاضا ہے بیلسٹک میزائل نصر کا کامیاب تجربہ اس کی کڑی ہے ۔ پاکستان کے پاس اپنی دفاعی صلاحیت کو بہتر اور مضبوط بنانے کی سعی کے سوا کوئی چارہ نہیں خاص طور پر خطے کے بدلتے حالات میں تو پاکستان خطرات میں گھرا نظر آتا ہے۔ بد قسمتی سے پاکستان کے دشمن ملک کی معاشی واقتصادی ترقی اور اس کے مزید امکانات اور سی پیک کی صورت میں خطے میں عالمی اہمیت اختیار کر جانے کی صورتحال کا مقابلہ جوابی معاشی واقتصادی حکمت عملی کی صورت میں کرنے کی بجائے پاکستان میں کبھی اندرونی حالات خراب کرنے کی سازش کر کے کبھی پاکستان پر الزامات لگا کر اور خواہ مخواہ کی انگشت نمائی اور کبھی ہتھیاروں کی دوڑ اور جنگ کی دھمکیوں کے ذریعے کرنا چاہتے ہیں ۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکی سینیٹر جان مکین کے دھمکی آمیز بیانات اور صیہونی حکومت کی طرف سے پاکستان کے خلاف بھارت کی مدد کرنے کے اعلان سے پاکستان کے خلاف طاغو تی طاقتوں کا گٹھ جوڑ واضح ہوگیا ہے۔ اسے بد قسمتی ہی قرار دیا جائے گا کہ اس گٹھ جوڑ کا جواب دینے کیلئے مسلم ممالک میں سے کوئی بھی پاکستان کے ساتھ کھڑا ہونے کے عزم کے ساتھ سامنے نہیں آیا یہاں تک کہ وہ ممالک بھی جن کی اسرائیل سے براہ راست مخاصمت اور ایک دوسرے کو تباہ کرنے کی دھمکیاں دینے والے ملک کے کسی عہدیدارکا کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ۔ پاکستان عالم اسلام کا فوجی و دفاعی قوت کا حامل وہ ملک ہے جو طاغوتی طاقتوں کو روز اول سے کھٹکتا ہے۔ اس کو کمزور کرنے کی سازشیں امت مسلمہ کو کمزور کرنے کی سازشیں ہیں جس کا ادراک کرنے اور صیہونی و طاغوتی قوتوں کے گٹھ جوڑ کے خلاف امت مسلمہ کے اتحاد و اتفاق کی ضرورت ہے ۔ قوم بجا طور پر توقع رکھتی ہے کہ ہمارے سائنس دان اور انجینئر ز دفاع وطن کی ضرورتوں کے ادراک میں اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے اور دشمن کے عزائم بھانپ کر مستقبل کی ضرورتوں کی منصوبہ بندی اور ان کو پورا کرنے کی سعی جاری رکھیں گے ۔ بہتر ہوگا کہ پڑوسی ممالک خطے میں عدم توازن پر مبنی اقدامات بیانات اور سرگرمیوں کی بجائے خود بھی اپنے وسائل اپنے ملک کے عوام کی فلاح کیلئے بروئے کار لائیں اور پاکستان کو بھی اس کا موقع دیں ۔

متعلقہ خبریں