کیا انسداد منشیات صرف قانون سازی سے ممکن ہو گا؟

کیا انسداد منشیات صرف قانون سازی سے ممکن ہو گا؟

گوکہ اینٹی نارکاٹکس فورس کو یونیورسٹیز کالجوں ،نجی محفلوں اور دیگر مقامات پر کسی اجازت کے بغیر براہ راست چھاپہ مارنے کے اختیارات قانونی طور پر دینے کا اقدام معروضی صورتحال اور معاشرے میں اختیارات کے ناجائز استعمال کے تناظر میں جواز سے بڑھ کر نظر آتا ہے لیکن معاشرے میں نشے کی لت کی روک تھام کے اقدامات کو مئوثر بنانے کیلئے اس کی مخالفت نہیں کی جا سکتی۔ قانون کے مسودے کی منظوری کے بعدڈیڑھ سو افراد پر مبنی خصوصی فورس کے انتخاب کے مرحلے پر اگر سو فیصد میرٹ پر اور امیدوار وں کے پس منظر اور نفسیاتی طور پر خصوصی ٹیسٹ لینے کے بعد ممکنہ طور پر اہل افراد کا انتخاب کرنے کے بعد ان کو بہتر تربیت دی جائے اور فورس کے ارکان کی نگرانی اور بہتر سربراہ کے ماتحت کر دیا جائے تو اس انتظام کے مئوثر ہونے کی توقع ہے اگر ایسا کرنے کی بجائے روایتی انداز اختیار کیا جائے تو اس کا حشر بھی انسداد منشیات کے ذمہ دار دیگر اداروں سے مختلف نہ ہوگا۔ اسے ستم ظریفی ہی قرار دیا جائے گا کہ اینٹی نارکاٹکس کے دفاتر سے چند قدم کے فاصلے پر نشے کے عادی افراد بد مست پڑے دیکھے جاتے ہیں مگر اس امر کی سعی نہیں ہوتی کہ ان افراد کو نشہ آور اشیاء پہنچانے والوں ہی کو پکڑ ا جائے ۔ پولیس کیلئے بھی منشیات سپلائی کرنے والوں اور منشیات کی تجارت کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی ممانعت نہیں مگر پولیس تھانے کے سائے میں پڑے افراد کو نشے کی اشیاء پہنچانے والوں سے تعرض نہیں کرتی۔ اگر پولیس سنجیدگی کے ساتھ توجہ دے تو کیا یہ مناظر ممکن ہوں گے کہ پلوں کے نیچے اور عوامی مقامات پر نشے کے عادی افراد کی ٹولیاں کھلے عام نشہ کر یں ۔ جہاں تک آئس کے نشے کا تعلق ہے یہ نسبتاً پوشیدہ اور اس تناظر میں ''محفوظ'' ہونے کے ناتے نوجوانوں میں خاص طور پر مقبول ہو رہا ہے۔ اسے ایک درد ناک حقیقت ہی قرار دیا جائے گا کہ حیات آباد میں واقع ایک ایسے معروف سکول کی ساتویں جماعت کے طلبہ بھی اس نشہ میں مبتلا بتائے جاتے ہیں جس سکول کے نام میں اسلام کا سابقہ لگتا ہے ۔ اگر معاشرے میں اس لعنت کے سرایت کر جانے کا یہ عالم ہوگا تو اس کی تباہی میں باقی بچتا کیا ہے ۔ سکولوں کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طالب علموں کو کسی جنرل سٹور سے یہ لعنت تھمائی نہیں جاتی بلکہ اس کا حصول وہ اپنے تعلیمی ادارے کے اندر یا ارد گرد ہی سے کرتے ہوں گے جہاں نگرانی کی جائے تو نتیجہ خیز کامیابی مل سکتی ہے۔ مجوزہ نشے کی نشاندہی کرنے والے آلات کی فراہمی کے بعد اس کے خفیہ اور نامعلوم ہونے کے امکان کا بھی خاتمہ ہوگا ۔ جبکہ فورس کو چھاپہ مارنے اورکارروائی کرنے کے وسیع اختیارات اپنی جگہ نتیجہ خیزی کیلئے کافی ہوں گے۔ تعلیمی اداروں میں اساتذہ والدین اور من حیث المجموع یہ معاشرے کے ہر فرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس لعنت کے خلاف جہاد میں حصہ لے اور خاص طور پر ہر فرد اپنے گھر اور اپنے زیر اثر نوجوانوں کو اس لعنت سے بچانے پر خاص توجہ دے۔ جس نوجوان اور بچے میں نشے کی علامات ہوں سکولوں کالجوں اور یونیورسٹیوں میں ماہرین کے ذریعے ان کی نشاندہی کرکے ان کے گھر والوں کو اس کی اطلاع دی جائے ایسے بچوں کو تعلیمی اداروں سے اخراج کی سہل پالیسی اختیار کرنے کی بجائے ان کے علاج معالجے اور نشے کی لعنت سے چھٹکارا دلانے میں مدد کی جائے ۔
میٹرک نتیجہ ، دعوے غلط ثابت ہوگئے
میٹرک کے سالانہ امتحانات میں سرکاری سکولوں کے معیار کی بہتری اورنجی سکولوں کی کثیر اور ناقابل یقین تعداد میں طالب علموں کے سرکاری سکولوں کے معیار سے متاثر ہو کر داخلے کے بلند و بانگ دعوئوں کے باوجود اس امر کی بہر حال توقع نہ تھی کہ سرکاری سکولوں کے طالب علم بورڈ میں نمایاں پوزیشن حاصل کرپائیں گے۔ بہرحال بورڈ کے نتائج جہاں ان اندازوں کی نفی ہوئی وہاں حکمرانوں اور محکمہ تعلیم کے کرتا دھرتا عناصر کے دعوئوں کا پول بھی کھل گیا ۔ اسے حقیقت پسندانہ توقعات وابستہ کرنا قرار ہی نہیں دیا جا سکتا کہ کسی سرکاری تعلیمی ادارے میں زیر تعلیم طالب علم بورڈ کا امتحان نمایاں پوزیشن لیکر پاس کرے۔ لاکھوں طالب علموں میں سے کسی ایک طالب علم کے پوزیشن لینے کے امکان کو معدوم قرار دینا اس تجربے اور مشاہدے ہی کی بناء پر ہو سکتا ہے جس کے مظاہرہمارے سرکاری سکولوں میں اساتذہ کی اور طالب علموں کی کارکردگی کی صورت میں سامنے آتا ہے ۔اس حقیقت کو تسلیم کیا جانا چاہیئے کہ سرکاری سکولوں کا معیار نجی سکولوں کے برابر لانا ممکن ہو یا نہ ہو کم از کم سرکاری سکولوں میں تدریس کا اتنا معیار تو قائم ہونا چاہیئے کہ ان سکولوں کے طالب علم بھی مسابقت کی دوڑ میں شریک ہوسکیں ۔

اداریہ