سازش بے نقاب کر دیجئے

سازش بے نقاب کر دیجئے

وزارت عظمیٰ کا منصب اور اس پر متمکن شخصیت پاکستانی قوم کی امانت ہیں۔ ان کی اور ان کے وقارکی حفاظت ساری قوم کا فرض ہے۔ یہ منصب قوم کے سامنے جوابدہی کا تقاضا کرتا ہے جو اس منصب کا حصہ ہے۔ اس جوابدہی کے فریضہ کے باوجود موجودہ وزیر اعظم نواز شریف قوم کے نمائندہ ہیں۔ انہوں نے بڑے حوصلے' یقین اور تدبر کے ساتھ پاناما کیس کے حوالے سے اپنے آپ کو اور اپنے اہل خانہ کو تحقیقات کے لیے پیش کیا تاکہ وہ عوام کے سامنے سرخرو ہوں اور قوم کے لیے اطمینان کا باعث ہوں۔ سپریم کورٹ کے جزوی فیصلے کے بعد تحقیقات جاری ہیں اور شاید آخری مرحلے میں ہیں لیکن اس دوران ان کی پارٹی کے مختلف مدارج کے لیڈر یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ تحقیقات کا عمل ان کے اطمینان کے مطابق نہیں ہے۔ خود انہوں نے کہا ہے کہ ان کے خلاف کٹھ پتلیاں سرگرم ہیں اور ان کے خلاف کوئی سازش ہو رہی ہے۔ بدھ کے روز ان کی دختر محترمہ مریم نواز نے جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم کے سامنے پیش ہونے کے بعد اگرچہ یہ تو نہیں بتایا کہ ان سے کیا پوچھا گیا اور انہوں نے اس کا جواب کیا دیا' البتہ انہوں نے ٹیم کے سامنے پیش ہونے کے بعد کہا کہ وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف ان کے مخالفین سازش کر رہے ہیں۔ ایک اخبار نے کئی دیگر اخبارات کی طرح ان کی خبر شہ سرخی کے ساتھ شائع کی ہے جس کے مطابق محترمہ مریم نواز نے کہا '' تمام راز اور سازشیں بتانے پر مجبور نہ کرو۔ سازش کرو گے تو نواز شریف چوتھی اور پانچویں بار بھی وزیر اعظم بنیں گے۔ اس دن سے ڈرو جب تمام کہانی عوام میں لے کر جائیں گے۔''محترمہ مریم نواز کی یہ تنبیہہ قومی تشویش کا باعث ہونی چاہیے جس طرح وزیر اعظم نواز شریف کا یہ بیان کہ ان کے خلاف کٹھ پتلیاں سرگرم ہیں اور ان کے خلاف سازش ہو رہی ہے۔ محترمہ مریم نواز کی توثیق سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف کے اہل خانہ میں اس موضوع پر بات ہو رہی ہے کہ ان کے خلاف کوئی سازش ہو رہی ہے۔ منتخب وزیر اعظم کے خلاف سازش کسی ایک خاندان یا سیاسی جماعت کا ایشو نہیں ہے۔ یہ ساری قوم کا ایشو ہے۔ اس لیے محض بعض عناصر کو اس وقت سے ڈرنے کی تنبیہہ کرنے کی بجائے ''تمام کہانی'' عوام کے سامنے پیش کردی جانی چاہیے کیونکہ یہ ملک اور اس کے ادارے عوام کے ادارے ہیں۔ ان کے خلاف سازش پاکستان کے عوام کے خلاف سازش تصور کی جانی چاہیے۔ مسلم لیگ ن کے لیڈروں کے بیانات سے لگتا ہے کہ ''سازش'' کا ذکرصرف وزیر اعظم نواز شریف کے خاندان تک محدود نہیں ہے بلکہ مسلم لیگ ن کے اہم ذمہ دار لیڈر بھی اس سے واقف ہیں۔ وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق مسلم لیگ ن کے اہم لیڈروں میں شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے بھی چند روز پہلے اپنے حلقۂ انتخاب کے ووٹروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ جمہوریت کو پٹڑی سے اُتارنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ انہوں نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ آپ بھی کل ہمارے ساتھ ہمارے ٹرک پر احتجاج کرنے والوں میں ہوں گے۔ اس سے یہ مطلب اخذ کیا جا سکتا ہے کہ خواجہ سعد رفیق کے نزدیک عمران خان جمہوریت کو پٹڑی سے اُتارنے کی کوشش یا سازش کا حصہ نہیں ہیں کیونکہ سعد رفیق نے عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان (عمران خان) کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا۔ جے آئی ٹی میں ہر پیشی کے بعد اس دفتر کے باہر جس میں جے آئی ٹی کی کارروائی ہوتی ہے ، مسلم لیگ ن اور دیگر پارٹیوں بالعموم تحریک انصاف کے کلامی لیڈروں کی میڈیا سے گفتگو ہر بار ہوتی ہے۔ اس گفتگو میں بھی مسلم لیگ ن کے لیڈر ایسا تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں گویا جے آئی ٹی ان کی قیادت کے خلاف کوئی کارروائی کر رہی ہے۔ یہ بات بھلا دی جاتی ہے کہ جے آئی ٹی سپریم کورٹ کے تحت قائم ہونے والی تحقیقاتی ٹیم ہے جو وزیر اعظم نواز شریف کی اپنی پیش کش کے مطابق سپریم کورٹ کی ہدایت کی روشنی میں وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے اہل خانہ کی دولت کے قانونی ہونے' اس پر قانون کے مطابق ٹیکسوں کی ادائیگی اور اس کی قانون کے مطابق منتقلی کا جائزہ لے رہی ہے۔ اور وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے اہل خانہ اس میں معاونت کر رہے ہیں۔ ان بیانات سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ جے آئی ٹی کوئی فیصلہ دینے والی ہے حالانکہ یہ ٹیم محض تحقیقات پر مامور ہے۔ تحقیقات کے بعد اپنی رپورٹ سپریم کورٹ کو رپورٹ پیش کرنے کی پابند ہے۔ اس کے بعد اس پر عدالتی کارروائی کیا ہوتی ہے یہ سپریم کورٹ کا دائرۂ اختیار ہے۔ جے آئی ٹی نے جس مکمل رازداری سے اپنا کام کیا ہے اور جو سوال جواب ہوئے اس کے بارے میں کوئی بات باہر نہیں آئی یہ قابلِ تعریف انتظام ہے۔ نہ ہی پیش ہونے والوں نے سوالات اورجوابات کے حوالے سے کوئی بات کی ہے یہ بھی قابلِ تعریف ہے۔ لیکن مسلم لیگ ن کے لیڈروں کی طرف سے قائم کیا جانے والا یہ تاثر کہ ان کی پارٹی کے خلاف کوئی سازش کی جا رہی ہے جے آئی ٹی کی تحقیقات کے بعد کی گفتگوؤں کے ذریعے قائم ہونا بڑی عجیب بات ہے۔ وزیر اعظم نواز شریف محض مسلم لیگ ن کے وزیر اعظم نہیں ہیں وہ پاکستان کے وزیر اعظم ہیں اور ان کے خلاف کوئی سازش پاکستان کے عوام کے خلاف سازش تصور کی جانی چاہیے۔ اس لیے مسلم لیگ ن کے جے آئی ٹی کے دفتر کے باہر گفتگو کرنے والے لیڈروں پر بالعموم اور خواجہ سعد رفیق ' محترمہ مریم نواز اور خود وزیر اعظم نواز شریف پر پوری قوم کی طرف سے یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس سازش کو بے نقاب کریں۔ قوم کو بتائیں کہ کون ان کے خلاف سازش کر رہا ہے۔ تمام ''راز اور سازشیں'' عوام کے حوالے کر دینی چاہئیں کہ نواز شریف محض ایک فرد نہیں بلکہ پاکستان کی وزارت عظمیٰ پر متمکن عوام کے نمائندہ ہیں۔ اور ان کا منصب عوام کی امانت ہے وہی اس کی حفاظت کے اصل ذمہ دار اوروارث ہیں۔

اداریہ