Daily Mashriq


خطے میںداعش کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں

خطے میںداعش کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں

داعش جنوبی ایشیاء کے خطے کو خراسان کے نا م سے پکارتی ہے اور پچھلے کچھ عرصے میں نہ صرف خراسان بلکہ یورپ اور مڈل ایسٹ میں بھی بہت سی دہشت گرد کارروائیوں کی ذمہ داری قبول کر رہی ہے ۔ داعش کی جانب سے ہونے والی ان کارروائیوں میں گزشتہ کچھ عرصے میں تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں جاری حالیہ سفارتی بحران اورکشیدگی داعش کے لئے زیادہ سود مند ثابت ہوگی کیونکہ اس بحران کے باعث داعش کو اپنی کارروائیاں کرنے میں آسانی رہے گی۔ ایران میں ہونے والے حالیہ حملوں کی ذمہ داری داعش نے قبول کی ہے جو اپنی نوعیت کے پہلے حملے ہیں ۔ سنی فرقے سے تعلق رکھنے والی داعش نے شیعہ اکثریتی ایران پر حملے پر انتہائی خوشی کا اظہار کیا تھا ۔ ایران کے دارالحکومت پر عین اس وقت حملہ کیا گیا جب مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی بحران شروع ہو چکا تھا ۔ اس حملے کے بعد ایران نے سعودی عرب پر الزام عائد کیا کہ ایران پر حملے کے پیچھے سعودی عرب کا ہاتھ ہے جس سے خطے میں پہلے سے موجود تنائو میں مزید اضافہ ہوگیا۔

ایران کی جانب سے سعودی قطر تنازعے میں قطر کی حمایت کی وجہ سے ایران اور سعودی عرب کے تعلقات پہلے ہی کشیدگی کا شکار تھے جس میں مذکورہ حملوں کے بعد مزید اضافہ ہوا ہے۔ ان حالات میں داعش نہ صرف سنی ممالک کے اندرونی اختلافات سے فائدہ اٹھا سکتی ہے بلکہ سعودی عرب کے زیرِ قیادت سنی اتحادی ممالک اور ایران کے زیرِ قیادت شیعہ ممالک کے درمیان پائی جانے والی کشیدگی سے بھی مشرقِ وسطیٰ سمیت دنیا کے دیگر ممالک میں اپنی جڑیں مضبوط کر سکتی ہے۔ امام خمینی کی زیرِ قیادت آنے والے انقلاب کے بعد ایران میں سنی اقلیت کے ساتھ دوسرے درجے کے شہریوں سا برتائو کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے ایران کے مشرق میں بسنے والی بلوچ سنی آبادی اور خوزستان کے عرب سنی باشندے داعش کے پراپیگنڈے کا باآسانی شکار ہوسکتے ہیں۔ سعودی عرب اور دیگر سنی ممالک کی جانب سے داعش کی سرپرستی ان ممالک کے لئے دورُخی تلوار ثابت ہوسکتی ہے کیونکہ داعش جیسی تنظیم کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں اپنے سرپرست ملک کو زیادہ نقصان پہنچاسکتی ہے۔مشرقِ وسطیٰ کی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے کچھ ماہرین کے مطابق ایران کے مقابلے میں دیگر عرب ممالک کو داعش سے زیادہ خطرہ لاحق ہے کیونکہ ان ممالک کے پاس جدید فوج موجود نہیں ہے جبکہ دوسری جانب ایران کے پاس نہ صرف پاسدارانِ انقلاب موجود ہیں بلکہ ایران کی مطلق العنان طرزِ حکومت بھی داعش کی کسی بھی سازش کا مقابلہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں اپنی جڑیں مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ داعش جنوبی ایشیاء میں بھی اپنے پنجے گاڑنے کی کوشش میں مصروف رہتی ہے۔ جنوبی ایشیاء میں داعش کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پچھلے ہفتے ذرائع ابلاغ میں آنے والی رپورٹس کے مطابق داعش نے افغانستان میں تورا بورا کی مشہور پہاڑیوں پر قبضہ کرکے وہاں سے دیگر عسکریت پسندوں کو نکال باہر کیا ہے جن میں افغان طالبان بھی شامل تھے۔داعش نے جلال آباد کے قریب واقع تورا بورا کے غاروں پر اس وقت سے قبضہ کرنے کی کوششیں شروع کر دی تھیں جب اس کے ٹھکانوں پر امریکہ کی جانب سے ''بموں کی ماں'' کہلایا جانے والے بم گرایا گیا تھا۔ افغانستان کے ساتھ ساتھ داعش پاکستان کے لئے بھی ایک بہت بڑا خطرہ ہے کیونکہ داعش نے تحریکِ طالبان پاکستان کے چند گروہوں،کے ساتھ اتحاد کرکے ڈیورنڈ لائن کی دونوں جانب اپنی پناہ گاہیں بنانے کا کام شروع کردیا ہے۔داعش نے حال ہی میں خراسان میں حملوں کا ایک تصویری خاکہ جاری کیا ہے جس کے مطابق پچھلے آٹھ ماہ میں داعش نے اس علاقے میں دو ہزار سے زاہد افراد ہلاک کئے ہیں جن میں امریکی، پاکستانی اور افغان سیکورٹی اہلکاروں کے علاوہ افغان طالبان کے اراکین اور شیعہ اور احمدی کمیونٹی کے افراد شامل ہیں۔ مغرب میں بھی داعش اپنی کارروائیوں میں اضافہ کررہی ہے اور اس کام کے لئے سوشل میڈیا کا سہارا لیا جارہا جس سے پراپیگنڈہ مشین کا کا م لیا جاتا ہے۔داعش کی کامیابی میں علاقائی کشیدگی ضرور اپنا کردار ادا کرتی ہے لیکن علاقائی کشیدگی داعش کی کامیابی کی بنیادی وجہ نہیں ہے۔ داعش دراصل کسی بھی معاشرے میں پہلے سے موجود شدت پسند رویوں اور فرقہ ورانہ تعصبات سے فائدہ اٹھا کر اس معاشر ے میں اپنی جگہ بناتی ہے۔ اس لئے داعش جیسی تنظیم سے لڑنے کے لئے ایک جامع منصوبہ بندی کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہمارے سیاسی اور مذہبی رہنمائوں کو داعش جیسی تنظیموں کے خطرے سے نمٹنے کے لئے ایک ترقی پسندانہ اور روشن خیال نظریے کو فروغ دینا ہوگا۔ دوسری جانب مغرب کو بھی داعش جیسے خطروں سے نمٹنے کے لئے اپنے رویوں پر غور کرنا ہوگااور کمزور مگر مستحکم مسلم ممالک کے خلاف بے بنیاد الزامات لگا کر چڑھائی کرنے کی اپنی پالیسی کا از سرِ نو جائزہ لینا ہوگا۔مغرب کی جانب سے مسلط کی جانے والی ایسی جنگیں شدت پسندی کے فروغ کا سبب بنتی ہیں جس سے داعش جیسی تنظیمیں فائدہ اٹھا کر خود کو مستحکم کرنے کے ساتھ ساتھ ان علاقوں سے عسکریت پسند بھی بھرتی کرتی ہیں۔

(بشکریہ: پاکستان آبزرور،ترجمہ: اکرام الاحد)

متعلقہ خبریں