اور بھی دکھ ہیں زمانے میں...

اور بھی دکھ ہیں زمانے میں...

اور بھی دکھ ہیں زما نے میں محبت کے سوا 

راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا
کتنی کھر ی بات فیض احمد فیض مرحوم نے کی تھی مگر کیا کیا جائے کہ قوم کی مسیحائی گیر ی کا ادعا کر نے والو ں نے اہم ترین مسائل کو درکنا ر کر کے جٹی کو پر دہ سیمیں نہیں بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ پر دہ سیا کا مرکزی کر دار بنا دیا ہے جے آئی ٹی حروف کو جوڑ کر جٹی بنا یا گیا ہے اور اب اس کا کر دار بھی جٹی کی طر ح کا ہو گیا ہے ۔ کیو ں کہ مرکز توجہ وہی بنی ہوئی ہے اور سب کی حیثیت ثانوی ہوکر رہ گئی ہے حالا نکہ ریمنڈ ڈیو س کے انکشافات نے ایک ایسا بھونچال پید ا کر دیا ہے کہ دنیا میں پاکستانی چہرے شرمساری کا شکا ر ہو کر رہ گئے ہیں ۔ ریمنڈ ڈیوس نے صرف ایک جما عت کا ذکر یو ں کیا ہے کہ وہ آخر وقت تک ا س کی رہائی کی مخالفت کر تی رہی اور اس مہم جو ئی میں رہی۔ یہ بات درست ہے کہ جماعت اسلامی نے اپنے پاکستانیوں کے قاتل کے خلا ف مئو ثر انداز میںآواز اٹھائی مگر وہ اس میں اکیلی نہیں تھی بیس کر وڑ عوام بھی اس آواز میں شامل تھے۔ صرف مٹھی بھر لو گ ریمنڈ ڈیو س کو پا کستان سے فرار کر انے کی عجلت میں مبتلا تھے۔ ان میں سرکا ری ادارے اور سیا سی شخصیات بھی شامل تھیں جن کا ذکر ریمنڈ ڈیوس نے اپنی کتا ب میں کیا ہے۔ لیکن ا س کے علا وہ دو تنظیمیں اور بھی تھیں جو ریمنڈ ڈیو س کے فرار کے خلاف تھیں۔ ان میںایک ڈاکٹر عافیہ رہائی تحریک اور دوسری پا سبان تنظیم تھی جس کی سر براہی الطا ف شکور کررہے ہیں ، انہو ں نے مقتولین کے خاندا ن سے کہا تھا کہ ان کو دیت کے نام پر جتنی رقم کی پیش کش کی جا ئے وہ ان کو بتادی جائے اس رقم کا بندو بست وہ کردیں گے مگر ان کے سا تھ کوئی سمجھو تا نہ کیا جائے بلکہ امریکی شہر ی کو پاکستانی شہر ی قتل کر نے کی سز ا ملنی چاہیے ۔ یہ کتنا ظلم ہے پا کستان کے سرکار ی ادارو ں اور حکمر انو ں و سیا ستدانو ں جنہوں نے ریمنڈ ڈیو س کے پا کستان سے فرارکے لیے گھناؤنا ترین کر دار اداکیا ، ایک ایسے مجر م کو جس نے اعتراف جر م اس وقت بھی کیا تھا اور اب اپنی کتا ب میں بھی تحریراًکر لیا ہے کو بچانے کے لیے مقتولین کے ورثاء کو انصاف دلا نے کی بجا ئے اسلا می قانو ن ، اخلا قیا ت ، آئین اور قانو ن کی دھجیا ں بکھیر دیں ۔کیا عافیہ پاکستان کی بیٹی نہیں ہے نو از شریف جو یہ دعویٰ کرتے تھے کہ چھ ما ہ میں وہ ڈاکٹر عافیہ کو امریکیو ں کے چنگل سے چھڑا لا ئیں گے اب تو ڈاکٹر عافیہ کا نا م توسنتے ہیں ان کا سارا بدن کپکیانا شروع کر دیتا ہے ۔ اسی لیے کہنے والے یہ ہی کہتے ہیں کہ ممتاز قادری کی آہ اور مظلو م بیٹی ڈاکٹر عافیہ کی مظلو میت نے میا ں کے اقتدار کو گھیر ا ہے۔ بات تو سچ ہے بہر حال پو رے پا کستان کو جٹی کے جلو ؤں میںالجھا دیا گیا ہے اور اہم ترین معاملا ت سے اعراض برتا جارہا ہے اور اب تو ریمنڈ ڈیو س کی تحریری گواہی بھی سامنے آگئی ہے کہ جو کچھ اس کے فرار کے لیے بند وبست کیا گیا وہ غیر شرعی ، غیر اسلا می ، غیر آئینی اور غیر قانو نی اقدام تھا جس طر ح امریکی عدالت نے ڈاکٹر عافیہ کو سزا دی اسی طر ح کا یہ فعل قر ار پا تی ہے ۔ سوال یہ ہے کہ اب ہو نا کیا چاہیے ۔ میاںنواز شریف کے حامی فرماتے ہیںکہ جب ریمنڈ ڈیو س کے فرار کا بندوبست کیا گیا اس وقت میاں نوازشریف پاکستان میں نہیں تھے وہ لند ن میں عارضہ قلب میں مبتلا تھے اور دل کا علا ج کر ارہے تھے۔ ان کی ایک شریا ن سے خو ن رسنا شروع ہو گیا تھا ، بھائی شہبا ز شریف بھی بیما ر پر سی اور خدمت گزاری کے لیے لند ن گئے ہوئے تھے ۔ مقتولین کے وکیل اسد منظوربٹ کاکہنا ہے کہ جس دن دیت کا فیصلہ کیا گیا اس رو ز ان کو نہ تو اپنے موکلّو ں سے ملنے دیا گیا نہ عدالت میں پیش ہو نے دیا بلکہ ان کو چار گھنٹے تک ایک اسسٹنٹ جیلر کی نگر انی میں جیل کے ایک کمر ے میں حبس بیجا میں رکھا گیا ۔ جیل اور اس کا عملہ صوبائی حکومت کے کنٹرول میں ہے جب چھوٹے میا ں یہ فرماتے ہیں کہ ان کی حکومت کا اس میںکوئی کر دار نہیںہے تو ان کے زیر کنٹرول محکمے کے عملے نے یہ غیر قانو نی اقدام کس مجال سے کیا ۔ اسد منظور بٹ کی شکایت پر کیا کا رروائی کی گئی ، اس کی تحقیق اور تفتیش کا اختیار تو میاں جی کے پا س اب بھی ہے اور تب بھی تھا ، قوم کو بتائیں کہ اپنے محکمو ں کی اس لا قانو نیت کا انہوں نے کیا نو ٹس لیا ۔ اگر وہ اس مذمو م کھیل میں ملوث نہ تھے ۔چیف جسٹس سے عوام کو توقع ہے کہ وہ پاکستان کی اس شرمساری اور بعض شخصیا ت و ادارو ں کی جانب سے آئینی ، قانو نی اور شرعی خلا ف ورزیو ں پر ازخود نو ٹس لے کر کا رروائی کر یں گے ۔ کیو ں کہ مقتولین کے حقیقی ورثا ء کا بھی صحیح طورپر تعین نہیں کیا گیا، ریمنڈ ڈیوس کی تحریر یہ کہہ رہی ہے کہ دیت کا معاملہ ورثا ء کی آزادانہ مر ضی سے نہیںہو ا ۔ مدعیو ں کے وکیل اسد منظو ربٹ کا مو قف ہے کہ اسلا می قانو ن کی خلا ف ورزی اور توہین کر کے ریمنڈڈیوس کی رہائی میں کر دار ادا کرنے والو ں کے خلا ف مقدمہ چل سکتا ہے۔ میا ں شہبازشریف ایک مضبوط وزیر اعلیٰ ہیں ، پولیس ، صوبائی انتظامیہ ، محکمہ جیل خانہ جا ت وغیر ہ سب ان کے ما تحت ہیںانہی کے اختیا ر میں ہیں پھر وہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ وہ اس میں شریک نہ تھے اگر شریک کا رنہ تھے تو انہو ں نے ان کر داروں کے خلا ف کیا کا رروائی کی قوم کو بتائیں ۔ اسد منظور بٹ ایڈووکیٹ نے جیل انتظامیہ کے خلا ف ایک کیس دائر کیا تھا جس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ محکمہ قانو ن پنجا ب نے جج کو دباؤ میںلا کر یہ کیس چلنے نہیں دیا ، یہ ایک بہت بڑا الزام ہے۔ میا ں صاحب کو چاہیے کہ اس امر کا نو ٹس لیں اور وہ بھی ایک جٹی اس الزا م کی روشنی میں بنا دیں کہ اسد منظور بٹ ایڈووکیٹ کے اس مقدمہ کا کیا حشر ہو ا اور کیو ں ہو ا۔ پاکستان کا مسئلہ صرف جٹی کے جلوئو ں کا ہی نہیںہے اور بھی دکھ اس کے سوا جن کا مداوا بھی زیادہ ضروری ہے۔

اداریہ