اسلامی انتہا پسندی اور ٹرمپ مودی ایکا

اسلامی انتہا پسندی اور ٹرمپ مودی ایکا

مجھے اس بات کی سمجھ اس کے سواکچھ نظر نہیں آتی کہ دنیا بھر کی غیر مسلم اقوام و ممالک کتنے ہی اچھے اور غیر جانبدار ہو جائیں پھر بھی کسی مسلمان ملک کے مقابلے میں ضرورت اور اہم امور کے فیصلہ کن موڑ پر آپس میں اپنے اندرونی سیاسی اور معاشرتی وسماجی اور فکری اختلافات کے باوجود متحد نظر آئیں گے جبکہ مسلمانوں پر ایسی افتاد پڑی ہے کہ ایک قوم و ملت ہونے کے باوجود ایک دوسرے کے خلاف بر سر پیکار ہیں۔ ماضی کو چھوڑئیے' عصر حاضر میں امت مسلمہ کے معاملات پر نظرڈالئے۔ وہی صورتحال ہے جو کبھی اندلس کی سر زمین پر عربوں کے درمیان پیدا ہوئی تھی کہ ایک دوسرے کے خلاف وہاں کے مسیحی حکمرانوں سے مدد طلب کرکے اپنے ہم مذہب و ہم قوم کے خلاف لڑتے رہے۔دوسری طرف دوسری جنگ عظیم کے دوران چھبیس مغربی ممالک کا امریکی چھتری کے نیچے جو اتحاد قائم ہوا جس نے محوری قوتوں' جرمنی' جاپان' اٹلی کو شکست دی اقوام متحدہ کہلائیں۔ ان اقوام متحدہ نے جنوری 1942ء کو ایک اعلان پر دستخط کئے جس نے اس اتحاد کے اہداف و مقاصد متعین کئے۔ یوں یہ تنظیم جو آگے جا کر یو این او (UNO) کے نام سے دنیا کے سامنے آئی دوسری جنگ عظیم میں مسیحی بپتسمہ کر چکی تھی۔ اس تنظیم کے بنیادی اہداف میں یہ دو اہم نکات شامل تھے کہ آئندہ یورپ کے اندر گروہ بندی اور تقسیم نہ ہونے پائے اور دوسرا یہ کہ جنگ عظیم کے بعد وجود میں آنے والی نئی دنیا کے (تیسری دنیا) کے حکمرانوں اور وسائل کو اس طرح قابو میں رکھا جائے کہ ان کا خام مال امریکہ اور مغرب کی دسترس میں ہو اور اسی مال کی کھپت کے لئے ان کی منڈیاں انتظار میں ہوں۔1950ء کے عشرے میں جب پاکستان امریکہ کا نیا نیا اتحاد ی بنا تھا لیکن سینٹو کارکن نہیں بنا تھا تو کشمیر پر استصواب رائے کی دو قرار دادیں منظور ہوئی تھیں لیکن جب ہم امریکہ کے یکطرفہ ''عشق'' میں مبتلا ہوئے اور اپنے قریب کے سپر کمیونسٹ ملک کی طاقت کا اندازہ لگائے بغیر اس کے مخالف امریکی کیمپ میں سر تا پا غوطہ زن ہوئے تو اس کے بعد کشمیر کے حوالے سے ہر اہم قرارداد پر روسی ویٹو کا سامنا کرنا پڑا۔ہندوستان کے زیرک اور چالاک حکمرانوں اور سیاستدانوں کی چالاکی اور مکاری کا اعتراف کرنا پڑے گا اور ساتھ ہی غیر مسلم طاقتوں کا ایک دوسرے کا پشتیبان ہونا بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ 1950ء کے عشرے میں جب پاکستان امریکہ کا اتحادی تھا اور سینٹو کے رکن کی حیثیت سے کمیونسٹ طوفان کے خلاف اپنے نحیف و نزار جسم و جاں کے ساتھ کھڑا تھا اور بھارت دھڑلے کے ساتھ اشتراکی کیمپ میں ممتاز حیثیت کے ساتھ اشتراکی روس کا چہیتا تھا اس وقت بھی امریکہ بہادر کی آشیر باد سے محروم نہ تھا اور طرفہ تماشا یہ کہ ڈیمو کریٹ سینیٹر جان ایف کینیڈی اور ری پبلکن سینیٹر جان شیر مین کو پرنے مل کر میوچل سیکورٹی (1958ئ) میں دو حزبی ترمیم پیش کی جس میں کہا گیا تھا کہ:''امریکہ کا مفاد اسی میں ہے کہ وہ دوسری قوموں کے ساتھ مل کر ہندوستان کو اتنی مقدار اور اتنی مدت تک امداد فراہم کرے کہ وہ کامیابی کے ساتھ اپنے اقتصادی پروگرام کی تکمیل کرسکے''۔ یہ ترمیم اتنی موثر رہی کہ ہندوستان کو ایٹمی ری ایکٹروں کے لئے بھاری پانی' فوجی ساز و سامان اور سرمایہ کاری کی صورت میں بھرپور امداد دی گئی۔ ہر قسم کی مالی و جذباتی حمایت اس کے علاوہ تھی۔ ظاہری سیکولر ازم کی بنیادوں پر ہم آہنگی کے علاوہ امریکہ اور بھارت میں اس وقت محبت کی جو پینگیں عروج پر پہنچ چکی ہیں اس میں بنیادی نکتہ امریکہ کا تجارتی خسارہ ہے جو کھربوں ڈالر ہی ہے۔ اس خسارہ پر قابو پانا بہت ضروری ہے کیونکہ اس کے مقابلے میں چینی معیشت ہے جو دن دگنی رات چگنی کے حساب سے بڑھ رہی ہے۔ لہٰذا امریکہ کو بھارتی منڈیوں کی سخت ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ چین کی تیز رفتار ترقی' پاک چین راہداری منصوبہ' شنگھائی تعاون تنظیم ' روس' چین پاکستان کے درمیان علاقائی حوالوں سے تعاون و حمایت امریکہ کی نیند اڑانے کے لئے کافی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت کے مودی سرکار کے دورہ امریکہ کے دوران ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے بھارت کو خوش کرنے اور شیشے میں اتارنے کے لئے مقبوضہ کشمیر کے فریڈم فائٹر حزب المجاہدین کے رہنما سید صلاح الدین کو عالمی دہشت گرد قرار دیا۔ ہمیں بہت پہلے سے یہ معلوم ہے کہ امریکہ اور نہ ہی اقوام متحدہ کشمیریوں کے لئے حق خود ارادیت کے حصول کے لئے کچھ ٹھوس قدم اٹھائیں گے اور نہ ہی مغربی اقوام کو ان کشمیری اور فلسطینی مظلوموں سے کچھ ہمدردی اور سروکار ہے۔ حالانکہ اسی صدی میں مشرقی تیمور اور جنوبی سوڈان کو بنیادق حق کے اصول پر آزادی دلوائی گئی ہے۔ لیکن ہم پاکستانیوں کو حوصلہ رکھنا ہوگا اور کشمیریوں کی اخلاقی' قانونی' سفارتی' سیاسی اور معاشی حمایت جاری رکھنے اور امت مسلمہ کو اس حوالے سے بیدار کرنے کا کام جاری رکھنا ہوگا۔ ساری طاقتوں سے اعلیٰ ترین و برتر ترین طاقت اللہ تعالیٰ ہے جو کشمیریوں کی لا زوال جدوجہد کو ایک نہ ایک دن ضرور کامیابی سے ہمکنار کرے گا۔

اداریہ