Daily Mashriq


دامن صاف ہے تو شور و غل کیسا؟

دامن صاف ہے تو شور و غل کیسا؟

اک واری فیر شیر( ایک بار پھر شیر) کے نعرے مارتے مارتے ہیں یکدم لیگی خواتین و حضرات جس تندو تیز انداز میں تماشا لگائے ہوئے ہیں اس سے لگتا ہے کہ بالاد ست اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے حکمران خود کو قانون سے بالا تر سمجھتے ہیں۔ جناب اسحٰق ڈار کی برہمی' کرمانی کی بے بسی اور دانیال و طلال کے سیاپوں کے ساتھ جو لیگی میدان میں ہیں ان سب کو یہ امر مد نظر رکھنا ہوگا کہ قانون کی بالادستی سے محروم سماجی ارتقا کا سفر طے نہیں کر پاتے۔ یہاں سوال یہ ہر گز نہیں کہ حساب دیا یا نہیں سوال یہ ہے کہ نوبت یہاں تک پہنچی کیسے؟ ضمناً یہ عرض کردوں کہ احتساب کے کٹہرے میں کھڑا فریق دوسرے کے بارے درست بات بھی کرے تو اسے کوئی درست نہیں مانتا۔ سیاست منفعت بخش تجارت ہے اس ملک میں اور تجارت سب کرتے ہیں۔ یہی بنیادی خرابی ہے۔ تعمیر سماج و ملک کے لئے ہوتی سیاست کو کاروبار بنانے والوں نے جمہوری اقدار کو روندا اور روندتے چلے جا رہے ہیں۔ بڑی عجیب بات ہے کسی کا یہ کہنا کہ میری 85 سالہ دادی اماں وہیل چیئر پر ہیں انہیں بھی بلا لیجئے۔ وزیر اعظم کے فرزند غالباً نہیں جانتے کہ جاتی امراء کی جاگیر کے لئے زمین کیسے اور کس بھائو خریدی گئی۔ 80روپے مرلہ' حضور' یہ زمین بنیادی طور پر پنجاب حکومت کے ایک ایکوائر نوٹیفیکیشن کی بنیاد پر سرکاری ملازمین کے لئے ہائوسنگ سوسائٹی بنانے کے لئے خریدی گئی تھی۔ زمین خریدی جا چکی تو ہائوسنگ پراجیکٹ کا حکم نامہ منسوخ کردیاگیا۔ یہی اراضی شریف فیملی نے خریدی۔

پھر اعتراضات سامنے آئے تو ڈپٹی کمشنر لاہور کے مال خانے میں آگ لگ گئی۔ آگے بڑھنے سے قبل ایک سوال سامنے رکھتا ہوں آخر ایسا کیوں ہے کہ جس منصوبے سے دور نزدیک کا کوئی تعلق شریف خاندان کا بنتا ہے اس منصوبے کے ریکارڈ روم میں آگ لگ جاتی ہے؟ لاہور کے مال خانے اور پھر میٹرو بس منصوبے کے ریکارڈ کا آگ میں جلنا شک یقین میں یہیں سے بدلتا ہے۔ ان سطور میں مکرر عرض کرتا ہوں پانامہ سکینڈل میں سے اگر حدیبیہ پیپر مل اور التوفیق بنک کے معاملے کو نکال دیا جائے تو پیچھے ریت بچتی ہے یا خاک۔ کہانی شروع ہی یہیں سے ہوئی تھی۔غیر قانونی طریقے کی پوری کہانی سب کے سامنے ہے۔ پیسہ لندن پہنچانے میں قاضی فیملی کے جعلی اکائونٹس کھولے گئے۔ شواہد و دستاویزات سب موجود ہیں اس غیر قانونی طریقہ کار کے حوالے سے ہی موجودہ وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے مجسٹریٹ کی عدالت میں دفعہ 164 کا بیان دیا تھا۔ وہ شریک جرم نہیں تھے تو بیان کیوں دیا تھا۔ کیا یہ سچ نہیں کہ انہوں نے اس بیان کے عوض وعدہ معاف گواہ کے طور پر آزادی خریدی تھی؟۔

جناب اسحق ڈار اگلے روز جب جے آئی ٹی میں پیش ہونے گئے تو بڑے مطمئن تھے مگر پیشی کے بعد باہر نکلے تو مزاج برہم تھے پارہ دسویں آسمان کو چھو رہا تھا۔ تب انہوں نے عمران خان پر الزامات اور ان کی بے توقیری میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ حضور جے آئی ٹی میں عمران خان بیٹھا ہوا تھا کیا؟ کہتے ہیں مریم وہ جن دو بچیوں کو لاہور میں 17جون 2014ء کو منہاج القرآن کے باہر پنجاب پولیس کے شیر جوانوں نے منہ میں گولیاں مار کر شہید کیا تھا انہیں ان کے والدین نے کسی کھیت سے اٹھایا تھا یا درخت سے اتارا تھا؟ نون لیگ کے پچھلے دو ادوار میں محترمہ بے نظیر بھٹو کے خلاف لگ بھگ 21مقدمات قائم ہوئے تھے بے نظیر بھٹو عدالتوں کے دھکے کھاتی رہیں۔ صبح 10بجے راولپنڈی کی عدالت۔ سہ پہر تین بجے کراچی اور اگلے روز لاہور کی عدالت۔ کیا بے نظیر بھٹو کسی کی بیٹی نہیں تھیں۔ تب تو آپ کہتے تھے قانون سب کے لئے ہوتا ہے۔ اب کیا ہوا۔ طبقاتی امتیاز کیوں طلب کر رہے ہیں آپ؟ سوال یہ ہے کہ تماشا لگا یا کس نے؟ ٹھنڈے دل سے غور کیجئے گا۔ حدیبیہ پیپر مل کا قصہ ہو یا پانامہ سکینڈل تو خیر اسی میں تھی کہ مستعفی ہو جاتے اور احتساب کا مطالبہ کرتے آپ نے دوسرا راستہ اختیار کیا۔ یہاں تک منی لانڈرنگ کا بوجھ مرحومین کے گلے ڈال دیا۔ پاکستانی سیاست کا بنیادی المیہ یہ ہے کہ سیاسی و مذہبی سیاسی جماعتیں خاندانوں کی ملکیت ہیں جو ایک آدھ خاندانی نظام سے بچ رہی اس میں شخصیت پرستی کاجادو چلتا ہے۔ ایسے میں نظریاتی سیاسی کارکن کہاں سے آئیں گے۔ جو دستیاب ہیں وہ کارکنوں کی بجائے ذاتی ملازم ہیں۔ یہاں ایک بات اور عرض کردوں اگر شریف فیملی کا دامن واقعتاً صاف ہے تو پھر یہ رونا دھونا کس لئے؟ یہاں جہاں تک تاریخ کا تعلق ہے تو سپریم کورٹ پر حملہ اور اس سے قبل سپریم کورٹ کو تقسیم کرنے کے لئے بریف کیسوں کی چہل پہل نون لیگ کی ہی تاریخ ہے۔ جے آئی ٹی کے باہر بڑھکیں مارنے' مکے لہرانے اور آنسو بہانے والوں نے کبھی خواب میں بھی خود کو قانون کے رو برو نہیں دیکھا تھا۔ میاں نواز شریف جب سے جلا وطنی نمٹا کر واپس آئے ہیں تب سے وہ رائل فیملی کے طور طریقے اپنائے ہوئے ہیں۔ انہیں بھی سمجھنا ہوگا کہ یہ ملک کسی کو خیرات میں ملا ہے نہ کسی لشکر نے فتح کیا اور نہ ہی کسی دولت مند نے خریدا ہے۔ یہ 22کروڑ لوگوں کا ملک ہے۔ قانون کی بالادستی اور سماجی مساوات کے بنا اس کا مستقبل تاریک ہے۔ سید ابوالحسن امام علی ابن ابی طالب کرم اللہ وجہہ الکریم فرماتے ہیں '' معاشرہ کفر پر تو قائم رہ سکتا ہے ظلم پر نہیں''۔

متعلقہ خبریں