Daily Mashriq


نیب عدالت کا بڑا فیصلہ اور ملکی سیاست پر اثرات

نیب عدالت کا بڑا فیصلہ اور ملکی سیاست پر اثرات

ایون فیلڈ ریفرنس کیس میں فیصلہ سنانے کے روز تاخیر در تاخیراور بڑھتے تجسس کی فضا میں بالآخر سنائے جانے والے فیصلے میں سابق وزیر اعظم نوازشریف ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن صفدر کو سزا کا فیصلہ ہرلحاظ سے متوقع تھا جس کا اندازہ صرف ماہرین قانون اور تجزیہ نگاروں ہی کو نہیں عام آدمی کو بھی تھا جس کے ملک کی سیاست و حکومت اور احتساب سبھی پر گہرے اثرات مرتب ہونا تقریباً یقینی ہے۔ عدالت کافیصلہ اور اس بارے عدالتی طریقہ کار سے اب معاملات جس طرح سے بھی آگے بڑھیں اس سے قطع نظر انتخابات کی فضاء میں اس فیصلے کے سیاسی اثرات زیادہ اہمیت کے حامل ہیں۔ فوری طور پر تو اس فیصلے سے مسلم لیگ(ن) کو بڑا دھچکا لگا ہے جبکہ مخالف سیاسی جماعتوں کے لئے انتخابی مہم میں یہ ایک فری کک ملنے کی مانند ہے۔ عدالتی طورپر بھی اپنی نوعیت کا یہ اہم ترین فیصلہ ہے جس میں تین بار وزیر اعظم رہنے والے اور ایک بڑ ی سیاسی جماعت کے سابق سربراہ کو ان کی صاحبزادی اور داماد سمیت بدعنوانی کے مقدمے میں سزا ہوئی ہے جسے پاکستان میں چوٹی سے احتساب کاعمل شروع ہونے سے تعبیر کیاجاسکتاہے لیکن اس سے زیادہ اہمیت اس فیصلے کے ملکی سیاست اورانتخابات پر پڑنے والے اثرات ہیں۔شہباز شریف کی طرف سے پاکستان مسلم لیگ(ن) کے صدر اور شریف خاندان دونوں ہی اس فیصلے کے خلاف رد عمل میں فیصلے کو مسترد کرنا اور فیصلے کے کمزور نکات کو اجاگر کرنا فطری امر تھا ساتھ ہی شہباز شریف نے نیب کے خلاف بھی ایک چارج شیٹ پیش کی یہ سب اپنی جگہ لیکن اسوقت ان کی جانب سے اختیار کردہ موقف کی حیثیت کمزور ہے اور اس وقت تک اس موقف کی وقعت نہیں ہوگی جب تک آگے چل کر اس کیس کے مجرموں کوکسی عدالت سے ریلیف نہیں ملتا۔نواز شریف کو مسلم لیگ(ن) کی قیادت نے بھی واپسی کا مشورہ دیا تھا اور انہوں نے خود بھی واپس آکر حالات کاسامنا کرنے کے عزم کا اظہار کیا تھا لیکن سزا کے فیصلے کے فوری بعد پریس کانفرنس میں مسلم لیگ(ن) کے صدرشہباز شریف نے اس کا کوئی عندیہ دیا اور نہ ہی نواز شریف کی جانب سے اپنے بیان کا اعادہ سامنے آیا ہے۔ اگرچہ عدالتی فیصلے کا مناسب طورپرجائزہ لینے اور اس کے نکات کو زیر بحث لانے کی گنجائش موجود ہے لیکن ہمارے تئیں قانونی اور احتساب سے بڑھ کر اس فیصلے میں دلچسپی اور اہمیت کا حامل عنصر اس کے ملکی سیاست اور انتخابات پر پڑنے والے اثرات ہیں۔ اگر نیب کی جانب سے دائر ایون فیلڈ ریفرنس کے ایک بڑی سیاسی جماعت اورحال تک حکمران رہنے والی جماعت پر عین انتخابات کے موقع آنے والے فیصلے کے متوقع سیاسی اثرات کا جائزہ لیا جائے تو دو باتیں سامنے آتی ہیں اس کے ووٹروں اور سیاسی طور پر اثرات کا امکان کم و بیش برابرہی کا امکان زیادہ نظر آتا ہے۔ اگر عدالت عظمیٰ کے فیصلے سے اولاً وزارت عظمیٰ کے عہدے اور بعد ازاں پارٹی صدارت اور عوامی نمائندگی دونوں سے نا اہلی کے مکرر اثرات کاجائزہ لیا جائے تو جب تک نواز شریف اور مریم نواز ملک میں موجود رہ کر حالات کا مقابلہ کرتے رہے مسلم لیگ(ن) کی مقبولیت کے گراف میں کمی کی بجائے اضافے کا گمان گزرتا رہا مگر جیسے ہی وہ لندن چلے گئے تو صورتحال بدل گئی۔ایک خیال یہ ہے کہ نواز شریف اور مریم نواز کو ہونے والی سزا کا انتخابات میں مسلم لیگ (ن) پر منفی اثر پڑے گا اور ان کے اقتدار کی راہ مسدود ہوگی لیکن دوسری جانب پاکستانی مزاج اور پھر اس سزا کو کس حد تک سیاسی طور پر کیش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اس کا انحصار مسلم لیگی قیادت اور سینئر رہنمائوں پرہوگا۔ لیکن بہر حال یہ توواضح ہے کہ نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم کی ملک سے طویل غیر حاضری نے مسلم لیگ (ن)کی انتخابی مہم پر سنگین اثر ڈالا ہے۔ امکانات کے اس عالم میں اس امر کا صحیح اندازہ لگانا مشکل ہے کہ مسلم لیگ کی انتخابی حکمت عملی میں نواز شریف کی سزا سے تبدیلی آئے گی لیکن یہ بات بہر حال طے ہے کہ اگر نواز شریف اور مریم نواز حسب اعلان واپس آکر جیل جانے کا فیصلہ کرتے ہیں اور انتخابات کے دنوں میں وہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہوتے ہیں تو اس کے متوقع منفی اثرات کے باوجود اس امر کا واضح امکان ہے کہ مسلم لیگ کو ملنے والی ہمدردی کے ووٹوں میں اضافہ ہو اور مخالفین کے عدالتی فیصلے کو چیخ چیخ کر مخالفت میں استعمال کرنے کے باوجود لوگ متاثر نہ ہوں جبکہ یہ امکان بھی اپنی جگہ ہے کہ غیر مسلم لیگیوں کا بھی کوئی حلقہ بھی ان کی طرف آئے۔ سیاست امکانات کا کھیل تو ہے لیکن امکانات کو کوئی کیسے اپنے حق میں استعمال کرتاہے اور کس قدر مہارت کا مظاہرہ کیا جاتا ہے اس کی بھی بڑی اہمیت ہے۔ عدالتی سزا عدالت کا فیصلہ ہے جس پر قانون کے مطابق عملدرآمد اور سزا کے خلاف اپیل کاعدالتی اور قانونی طے شدہ طریقہ کار تو موجود ہے لیکن عوام اس فیصلے کو منفی یا مثبت کیسے لیتے اور دیکھتے ہیں اس کا امکان ففٹی ففٹی ہے لیکن نواز شریف کو سزا سے یہ بات بہر حال طے ہے کہ اس سے مسلم لیگ (ن) اور اقتدار کے درمیان فاصلوں میں اضافہ ضرور ہوگا۔

متعلقہ خبریں