Daily Mashriq


احتجاج نہیں مفاہمت

احتجاج نہیں مفاہمت

آئینی ترمیم میں ملاکنڈ ڈویژن کی خصوصی حیثیت’’پاٹا‘‘ کے خاتمے کے خلاف ملاکنڈ کے تمام اضلاع سوات، دیر بالا، لوئر دیر ، شانگلہ، بونیر، ضلع ملاکنڈ اور چترال میں مکمل شٹر ڈائون ہڑتال اور بازاروں کی بندش نگران حکومت کے لئے توجہ طلب مسئلہ ضرور ہے لیکن اس کا حل خاصا مشکل اور سنجیدہ معاملہ ہے۔ تاجروں نے دھمکی دی ہے کہ پہلے مرحلہ میں ڈویژن بھر میں مکمل اور کامیاب شٹر ڈائون ہڑتال کی گئی اور اگر اس کے باوجود ملاکنڈ ڈویژن کی ’’پاٹا‘‘ کی حیثیت کو بحال نہ کیا گیا، تو دوسرے مرحلے میں ہر ضلع کی سطح پر احتجاجی مظاہرے کئے جائیں گے ۔تیسرے مرحلے میں سول نافرمانی کی تحریک شروع کی جائے گی۔ احتجاج کرنے والوں کا موقف ہے کہ فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام سے آرٹیکل 247 کے خاتمے سے ملاکنڈ ڈویژن کی خصوصی حیثیت اور ٹیکس فری زون کی سہولت ختم ہوچکی ہے۔ ملاکنڈ ڈویژن ایک پسماندہ علاقہ ہے گزشتہ دس سال میں یہاں دہشت گردی ، سیلاب، زلزلوں اور فوجی آپریشن کی وجہ سے عوام کی معاشی حالت تباہ ہوگئی ہے مگر حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کے برعکس ٹیکس فری زون حیثیت ختم کرکے لوگوں کو فاقہ کشی پر مجبور کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے مگر ہم کسی قسم کی ٹیکس ادا کرنے کو تیار نہیں ۔اس موقع پر یہ مطالبہ بھی دہرایا گیا کہ ملا کنڈ ڈویژن ایک پسماندہ علاقہ ہے یہاں پرکوئی انڈسٹری ہے اور نہ کوئی سہو لت ہے ملا کنڈ ڈویژن کو بھٹو دور میں سو سال کیلئے ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا تھا اس لئے ملاکنڈ ڈویژن کی پاٹا حیثیت کو برقرار رکھا جائے۔دریں اثناء ہمارے نمائندے کے مطابق وفاق اور خیبر پختونخوا حکومت نے مشاورت کے بعد صوبے میں شامل ہونے والے سابقہ فاٹا اور پاٹا کے علاقوں کو وفاقی اور صوبائی ٹیکسوں سے پانچ سال تک مستثنیٰ قرار دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں انکم ٹیکس اور کسٹم ڈیپارٹمنٹ سے رابطوں کیلئے صوبائی سیکرٹری خزانہ کو ٹاسک حوالے کردیا گیا ہے۔ملاکنڈ ڈویژن میں نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کا کاروبار سب سے اہم مسئلہ ہے۔ ان گاڑیوں کے کاروبار سے افراد کا روز گار وابستہ نہیں بلکہ ان کی گاڑیوں کو بطور ٹرانسپورٹ استعمال کرکے اس پسماندہ ڈویژن کے ہزاروں سے بھی زائد افراد اپنے خاندان کا پیٹ پال رہے ہیں۔ جہاں تک فاٹا کی تحلیل اور صوبے سے انضمام کا معاملہ ہے گو کہ اس بارے بھی وہاں کے عوام میں اختلاف رائے کی صورت تھی۔ مگر بہر حال یہ مطالبہ موجود تھا کہ فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کیا جائے لیکن اس بل میں جس خاموشی کے ساتھ پاٹا کو بھی شامل کرکے منظور کرایاگیا اس میں ملاکنڈ ڈویژن اور پاٹا کے عوام کے کسی بھی نمائندے اور عوام کی رائے شامل نہیں تھی بلکہ نہایت خاموشی کے ساتھ حکومت نے ایوان سے اس کی منظوری لے کر پاٹا کو ملنے والی مراعات کے خاتمے کی راہ ہموار کی جس پر عوام کا حتجاج فطری امر ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس ضمن میں بنیادی غلطی ایوان میں بیٹھے ان نمائندوں سے ہوئی ہے جن کا تعلق پاٹا سے ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دیگر سیاسی جماعتوں نے بھی اس ضمن میں اپنا کردار ادا نہیں کیا۔ اس کی بروقت نشاندہی ہو جاتی اور کوئی ایک نمائندہ بھی اس بل کی تفصیل سے عوام کو آگاہ کرنے کی ذمہ داری ادا کرتا تو ملاکنڈ ڈویژن اور پاٹا کے عوام اسی وقت سخت رد عمل کامظاہرہ کرتے۔ بہر حال اس ضمن میں اب بھی عوام اس بل کی منظوری کے باوجود ان قوانین کا جو مالیاتی اور معاشی معاملات سے ہے نفاذ ممکن بنانے کی راہ میں مزاحم ہیں۔ اس ساری صورتحال میں نگران حکومت کے لئے کوئی فیصلہ کرنا ممکن نہ ہو ۔ چونکہ نگران وزیر اعظم خود اسی علاقے سے تعلق رکھتے ہیں اس لئے ان سے علاقے کے عوام کی توقعات میں اضافہ فطری امر ہے۔ جہاں تک ہمارے نمائندے کی محولہ رپورٹ کا تعلق ہے اس کی رو سے حکومت اس معاملے کا حل نکالنے میں سنجیدہ ہے اور ان تجاویز اور معاملات پر عوام کو مطمئن کیا جاسکتا ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ نگران دور میں اس اجلاس میں جس طرح اس معاملے کے حل کا عندیہ دیا جا رہا ہے کیا ان چند دنوں میں ایسا کرنا ممکن ہوگا۔ ہمارے تئیں اس کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے لیکن اس کے باوجود اس اجلاس کے مندرجات اور تجاویز اس لئے بے وقعت نہیں کہ اسی بنیاد پر ہی آئندہ کی منتخب حکومت سے بات چیت اور فارمولے کا تعین ممکن ہوگا۔ اس کی سفارشات اور تجاویز جواز کے طور پر پیش کئے جاسکتے ہیں۔کسی بھی حکومت کے لئے عوام کی غالب ترین بلکہ سو فیصد اتفاق کے ساتھ کسی امر کی مخالفت پر حکومتی فیصلے کا اطلاق ممکن نہیں ہوتا۔ ملاکنڈ ڈویژن اور پاٹا جس میں صرف خیبر ختونخوا ہی نہیں بلکہ بلوچستان کے بھی کچھ علاقے شامل ہیں کے عوام سے بس یہی گزارش ہوسکتی ہے کہ وہ اپنے مطالبات کے حل کے لئے اٹھنے والی آواز میں درشتی اور امن میں خلل جیسے معاملات کی آمیزش ہونے نہ دیں۔ جذبات پر قابو رکھا جائے خاص طور پر انتخابات کے دنوں میںمزید احتیاط اور برداشت سے کام لیا جائے۔ ان کو اس امر کا یقین رکھنا چاہئے کہ حکومت اس ضمن میں ان سے مذاکرات کاراستہ ہی اختیار کرے گی اور بالآخر کسی مدت کا تعین ہوگااور کوئی متفقہ اور قابل قبول فارمولہ طے پا جائے گا۔

متعلقہ خبریں