Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

امام ابو حنیفہؒ کو بیس سال کی عمر کے بعد باضابطہ تحصیل علم کا شوق ہوا۔ ایک دن آپ اپنے کسی کام کو جا رہے تھے۔ راستے میں کوفہ کے مشہور عالم اور قاضی علامہ شعمیؒ سے ملاقات ہوئی۔ حضرت علامہ نے پوچھا: میاں صاحبزادے تم کس سے پڑھتے ہو؟ ابو حنیفہؒ نے بڑے افسوس کے ساتھ جواب دیا کہ میں کسی سے نہیں پڑھتا ہوں۔ حضرت علامہ شعمیؒ نے بڑے محبت آمیز لہجہ میں فرمایا: مجھے تم میں قابلیت کے جوہر نظر آتے ہیں۔ (اللہ کے صالح بندے نور ایمان کی روشنی سے دور دور تک دیکھتے ہیں) تم علماء کی صحبت میں بیٹھا کرو۔ اس موثر نصیحت نے امام ابو حنیفہؒ کے دل پر گہرا اثر کیا۔گھر آئے۔ والدہ محترمہ سے تمام ماجرا بیان کیا اور تحصیل علم کے لئے کسی مدرسہ میں جانے کی اجازت مانگی۔ والدہ محترمہ تو پہلے سے ہی علم اور اہل علم کی دلدادہ تھیں یہ سن کر بہت خوش ہوئیں اور بخوشی دعا کے ساتھ اجازت دے دی۔ آپؒ جو ابتدائی مذہبی تعلیم اپنے گھر پر حاصل کرچکے تھے۔ حدیث شریف اور فقہ کا علم حاصل کرنے کے لئے استاد کی تلاش میں لگ گئے اور بخت ( قسمت) وقت نے ان کو کوفہ کے سب سے مشہور اور استاد وقت حضرت حمادؒ کے حلقہ شاگردی میں داخل کردیا۔ قابل استاد نے لائق شاگرد کے فطری جوہر پہچان کر خصوصی توجہ مبذول فرمائی اور امام صاحب نے کامل دو برس تک حضرت حمادؒ کے درس میںشامل رہ کر فقہ کی مکمل تعلیم حاصل کی۔ آپؒ نے فقہ کی تعلیم کے ساتھ ساتھ حدیث شریف پڑھنے کا سلسلہ بھی شروع کردیا تھا کیونکہ آپ خوب جانتے تھے کہ مسائل فقہ کی مجتہدانہ تحقیق حدیث کی تکمیل کے بغیر نا ممکن ہے۔ چنانچہ آپؒ کوفہ کے محدثین عظام کی طرف متوجہ ہوئے اور علم نبوت کے اس عظیم مرکز کاکوئی محدث باقی نہ تھا جس کے سامنے آپؒ نے زانوائے شاگردی تہ نہ کیا ہو۔ محدثین کوفہ میں خصوصیت سے حضرت امام شعمیؒ اور دیگر محدثین کرام سے آپ نے علم حدیث حاصل فرمایا۔ کوفہ کے بعد آپؒ بصرہ تشریف لے گئے جہاں مشہور امام حدیث اور تابعی حضرت قتادہؒ اور امیر المومنین فی الحدیث حضرت شعبہؒ کے درس میں شامل ہو کر ان کے فیض صحبت سے خوف فائدہ اٹھایا۔ کوفہ اور بصرہ سے فارغ ہو کر امام صاحبؒ نے حرمین کے لئے رخت سفر باندھا۔ آپؒ کی عمر مبارک چوبیس سال کے لگ بھگ تھی۔ پھر مکہ مکرمہ کے مشہور محدثین کرام سے علم حدیث کی سند حاصل کی جن میں حرت عکرمہؒ کا اسم گرامی بہت نمایاں ہے۔ وہاں سے فارغ ہو کر آپؒ نے مدینہ منورہ کا رخ کیا اور حضورؐ کی بار گاہ عالیہ میں شرف حاضری سے بہرہ ور ہو کر وہاں کے بڑے بڑے مشہور علمائے کرام و شیوخ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اورحضرت سالم بن عبداللہؒ اور حضرت سلیمانؒ سے روایت حدیث شریف کا شرف حاصل کیا۔ الغرض حضرت امام ابو حنیفہؒ کے اساتذہ و شیوخ عظام کی فہرست بہت وسیع ہے۔ بعض حضرات نے چار ہزار تک بیان کی ہے۔

(مظاہر حق جلد اول ص60)

متعلقہ خبریں