Daily Mashriq


لہو لہان ہوا شہر ان کے جھگڑوں میں

لہو لہان ہوا شہر ان کے جھگڑوں میں

جناب چیف جسٹس نے اگرچہ اس غبارے سے ہوا نکال دی ہے جسے ایک مخصوص لابی جب بھی موقع ملتا بھر کر ملک میں طوفان کھڑا کردیتی‘ حالانکہ تینوں چھوٹے صوبوں کی اسمبلیوں نے کئی مرتبہ متفقہ طور پر اس غبارے کو اپنی قراردادوں کے ذریعے چھید کر کے اس میں مزید ہوا بھرنے کے قابل نہیں چھوڑا لیکن بڑے صوبے کی ایک مخصوص لابی مان کرہی نہیں دے رہی تھی اور آخری پنکچر لگا کر اسے دوبارہ ہوا بھرنے کے لئے سپریم کورٹ میں پہنچا ہی دیا تھا‘ کیونکہ اس غبارے سے ان لوگوں کی ’’ روزی روٹی‘‘ وابستہ تھی۔ تاہم اب یہ حربہ بھی حقائق کے پیش نظر بری طرح سے ناکام ہوچکا ہے اور کالا باغ ڈیم کو اسی لابی نے جو ہر صورت اس ملک پر تھوپ کر چھوٹے صوبوں کے مفادات کے برعکس تعمیر پر تلی ہوئی تھی سپریم کورٹ ہی میں دفن کردیا ہے۔ سو اب دیکھتے ہیں کہ وہ جو غداریوں کے سرٹیفیکیٹ اور ملک دشمنیوں کے طعنے چھوٹے صوبوں بالخصوص خیبر پختونخوا کی سیاسی قیادت کے حصے میں آتے تھے ان میں سے اب کتنے کسی اور پر چسپاں کئے جاتے ہیں۔ کیونکہ جناب چیف جسٹس نے بھاشا اور مہمند ڈیم کی فوری تعمیر کا حکم دے کر اور کالا باغ ڈیم کو متنازعہ قرار دے کر یہ مسئلہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے طے کردیا ہے۔

جناب چیف جسٹس کے گزشتہ روز کے فیصلے کے بعد پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیر اعلیٰ میاں شہباز شریف نے بھی جمعرات کے روز اپنی جماعت کے انتخابی منشور کا اعلان کرتے ہوئے نہ صرف بھاشا ڈیم کی تعمیر کو اولین ترجیح قرار دے دیا ہے بلکہ چیف جسٹس کے حکم کے تحت کہ بھاشا اور مہمند ڈیم کی تعمیر کے لئے قوم چندہ دے‘ کہا ہے کہ ڈیموں کے لئے چندہ اکٹھا کرنا پڑے تو کریں گے اور یوں کالا باغ ڈیم کے تابوت میں بڑے صوبے کی جانب سے آخری کیل بھی ٹھونک دی ہے۔ ادھر اے این پی کے سربراہ اسفند یار ولی خان نے بھی کہا ہے کہ بھاشا ڈیم کی تعمیر کے لئے بساط بھر چندہ دیں گے۔ ادھر گزشتہ روز ہی یہ خبر آئی تھی کہ نگران وزیر اعظم جسٹس (ر) ناصر الملک نے آبی بحران سے نمٹنے اور نئے آبی ذخائر کے قیام کے لئے واٹر کونسل کا ہنگامی اجلاس 9جولائی کو طلب کرلیا ہے جس میں واٹر پالیسی پر عملدرآمد کے پلان کی منظوری دی جائے گی۔ دوسری جانب جناب چیف جسٹس ثاقب نثار کے اس حکم پر کہ بنکوں سے معاف کرائے گئے قرضوں کے لئے سپریم کورٹ کے نام اکائونٹ کھلوا کر یہ رقوم اسی اکائونٹ میں جمع کرائی جائیںگی اور عوام سے مانگے جانے والا چندہ بھی اسی اکائونٹ میں جمع ہوگا تاکہ ڈیم کی تعمیر ممکن بنائی جاسکے۔ سوشل میڈیا پر بعض ٹویٹس میں منفی تبصرے کئے جا رہے ہیں کہ سپریم کورٹ کس قانون کے تحت یہ پیسہ محولہ اکائونٹ میں رکھ سکتی ہے کہ یہ رقوم تو بنکوں کی امانت ہیں اور انہیں ہی واپس کردینی چاہئیں۔ تاہم معترضین کو یہ احساس نہیں کہ بنک تو ان رقوم کو دبائو‘ سفارش یا پھر کسی بھی دوسری بد عنوانی کے تحت معاف کرکے ان سے ہاتھ دھو چکی ہیں اور درحقیقت تو یہ رقوم بنکوں کے پاس عوام کی امانت تھی مگر بوجوہ بنک ان کی حفاظت کرنے میں ناکام ہوچکی ہیں جس کا خمیازہ عوام کو ہی بھگتنا پڑا ہے اس لئے اصولی طور پر عوام ہی کی ملکیت (جن پر ڈاکے پڑتے رہے ہیں) یہ رقوم بنکوں کو واپس کرنے کی کوئی تک ہی نہیں بلکہ ڈیمز بنانے میں کام آنی چاہئیں۔ بقول امام بخش ناسخؔ

اٹھنے لگی ہے کیوں مرے زخم کہن سے ٹیس

آتی ہے شاید آج ہوا کوئے یار کی

بھاشا اور مہمند ڈیمز کی تعمیر کے حوالے سے جناب چیف جسٹس کے حکم پر جب میں اپنے کالم میں گزشتہ کئی برس سے اسی موضوع پر وقتاً فوقتاً کئے جانے والے تجزیوں پر نظر ڈالتا ہوں تو یہ احساس دو چند ہو جاتاہے کہ یہ مشورے تو نہ جانے میں کب سے دے رہا ہوں۔ مگر وہ جو پشتو میں کہاجاتا ہے کہ دخوار ملا پہ بانگ سوک کلمہ نہ وائی یعنی غریب ملا کی اذان پر کلمہ پڑھنے والا بھی کوئی نہیں ہوتا‘ تو یقینا اپنی کم مائیگی کا احساس ہوتا ہے تاہم اس کی کم مائیگی میں اپنی کمزوری کم اور بڑے صوبے کی مخصوص لابی کی خود غرضیاں زیادہ نظر آتی ہیں۔ کالا باغ ڈیم کی بوجوہ مسلسل مخالفت( جس کی حقیقت کئی بار سامنے لا چکا ہوں) میں تین صوبوں کی منتخب اسمبلیوں کی پاس کردہ کئی قراردادوں کے با وصف اور بھاشا اور دیگر ڈیمز کے لئے رقوم مختص کرنے‘ خصوصاً بھاشا ڈیم کے لئے زمین کی خریداری پر بھاری رقوم خرچ کرنے کے باوجود اس کی تعمیر سے جان بوجھ کر اغماض برتنے کے پیچھے کئی قسم کی سازشیں کار فرما ہیں جن کی تفصیل میں جایا جائے تو ایسے کئی کالم بھی کم پڑ جاتے ہیں۔ اس لئے اشارۃً کچھ ذکر ہو جائے۔ سب سے بڑی وجہ تو یہی تھی کہ اگر بھاشا ڈیم تعمیر کرنے پر کام شروع کردیا جاتا اور اب تک یہ تعمیر مکمل ہو جاتی تو اس کے بعد کالا باغ ڈیم کی تعمیر کا جواز خود بخود ختم ہو جاتا مگر مخصوص لابی یہی تو چاہتی نہیں تھی کہ کالا باغ ڈیم کی تعمیر ترک کردی جائے۔

دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ بھاشا ڈیم کے لئے پاور ہائوس چونکہ خیبر پختونخوا میں تعمیر ہونا ہے اور یوں بننے والی پن بجلی کی رائلٹی کی ادائیگی کے پی کو کرنی پڑے گی جو محولہ لابی کسی بھی طور برداشت نہیں کرسکتی۔ تیسری وجہ یہ ہے کہ پن بجلی کے منصوبوں پر ایک ہی بار خرچہ آتا ہے اور اس سے انتہائی سستی بجلی حاصل ہوتی ہے یعنی تقریباً دو ڈھائی روپے فی یونٹ جس میں دیگر منصوبوں میں کمیشن کے مسلسل حصول سے ہاتھ دھونے پڑ سکتے ہیں حالانکہ سستی پن بجلی سے نہ صرف عوام کو سستی بجلی فراہم ہوگی بلکہ ملک میں صنعتی‘ تجارتی اور زرعی شعبوں میں ایسا انقلاب آئے گا کہ جس سے عوام خوشحال اور نہال ہوں گے۔ ان سب کی تفصیل اگر ضرورت پڑی تو آئندہ کسی کالم میں عرض کردوں گا۔ مگر یہاں تو یہ صورتحال ہے کہ

وہ جنگ اپنی انائوں کی لڑ رہے تھے مگر

لہو لہان ہوا شہر ان کے جھگڑوں میں

متعلقہ خبریں