Daily Mashriq


پاکستان کے مختلف ادوار حکومت

پاکستان کے مختلف ادوار حکومت

میری ہمیشہ یہ کو شش ہوتی ہے کہ ہر سیاسی پا رٹی اور حکومت کی ہر اس مثبت بات اور کام کو اُجاگر کروں جو اس نے پاکستان کے پسے ہوئے عوام کی فلا ح و بہبود کے لئے کیا ہوتا ہے۔ اگر ہم صدر ایوب خان کے دور حکومت کا تجزیہ کریںتو ان کے دور کو Green Revolution ، سبز انقلاب یا زرعی انقلاب کا دور کہا جاتا ہے۔اس دور میں ایوب خان نے میکسی پاک گندم کا ایسا بیج متعارف کر وایا جس سے کسانوں کی زمینیں سونا اُگلنے لگیں۔ اور وہ کسان اور زمیندار جن کی زمینوں میں منوں فصلیں ہوتی تھیں وہ ٹنوں میں سونا اُگلنا شروع ہو گئیں۔اسکے بعد ذوالفقار علی بھٹو کا دور آیا۔ اس دور میں پاکستانیوں کو سمندر پار بھیجا گیا اور لوگوں کی سماجی اقتصادی حالت اور اعشاریوںمیں مُثبت تبدیلی آئی۔بڑے بڑے ادارے بنے، جس سے ملک کے انفرا سٹرکچر میں انقلاب بر پا ہوا۔ اور عام لوگ ملیشا کے کالے کپڑوں کو چھوڑ کر ٹیٹرون اور آئی سافی پہننے لگے۔ اسکے بعد جنرل ضیاء الحق کا دور آیا ۔ اس دور میں وطن عزیز میں تباہی اور بر بادی شروع ہوئی ۔ ضیاء الحق نے ملکی مفا دات پر امریکی مفا دات کو ترجیح دی ۔ اس دور میں پاکستان پیپلز پا رٹی کو ختم کر نے کے لئے ضیاء الحق نے ایم کیو ایم کی داغ بیل ڈالی۔ اور اسی طر ح سندھ کو دو بڑے سیاسی گروہوں میں تقسیم کیا گیا ۔ عام طو ر کسی بھی مطلق العنان کی پالیسی ہمیشہDivide and Rule ہوتی ہے۔ انہوں نے سندھ اور بلو چستان میں ایسی پھو ٹ ڈالی جس کا ازالہ ابھی تک نہیں ہو سکا۔ اگر دیکھا جائے تو امریکہ سے سب سے زیادہ امداد ضیا الحق اور پر ویز مشرف کے دور میں لی گئی مگر اُس امداد سے وہ منصوبے شروع نہیں کئے گئے جن سے ملکی تقدیر بدلنے کی امید تھی۔ اسکے بعد نواز شریف اوربے نظیر بھٹو کی حکومتیں آئیں۔ اگر دیکھا جائے تو پاکستان مسلم لیگ نواز کے دونوں ادوار حکومت میں مو ٹر وے کو اسکا کارنامہ کہہ سکتے ہیں۔ پاکستان پیپلز پا رٹی نے مز دوروں کسانوں اور سر کاری ملازمین کی اُجرتوں اور تنخواہوںمیں بے تحا شا اضافہ کیا۔جہاں تک نواز شریف کا تعلق ہے تو ان کی حکومت کو سرمایہ داروں اور کا رخانہ داروں کا دور کہا جاتا ہے۔ اور ان کے دور حکومت میں کبھی بھی غریب ، پسے ہوئے اور سرکاری ملازمین کے لئے کوئی قابل ذکر کام نہیں ہوا۔ اور ہمیشہ زیادہ زور نجکاری پر دیا جاتا رہا ، جس سے غریب غریب تر اور مالدار مالدار تر ہوتے رہے ہیں۔ اور وہ سرکاری ادارے میں جو اس ملک کے غریب عوام کے خون پسینے کی کمائی سے بنے ہوتے ہیں انکو کوڑی کے دام بکوا کر مالداروں اور سرمایہ داروں کو دیا گیا۔ وطن عزیز میں سب سے زیادہ نج کاری پر ویز مشرف اور نواز شریف کے ادوار حکومت میں ہوئی۔نوازشریف حکومت نے سرکاری ملازمین کے لئے ایک پیکج پیش کیا تھا جو بغیر کسی وجہ بتائے واپس لیا گیا۔مشرف کے دور کو ہم پاکستان کا برا ترین دور کہہ سکتے ہیں۔ اس دور میں مشرف نے امریکہ کی حد سے زیادہ مدد کی جسکا نتیجہ یہ ہوا کہ مشرف کی ناکام خارجہ پالیسی کی وجہ سے پاکستان میدان جنگ بن گیا۔جس کے نتیجے میں پاکستان کے60 ہزار لوگ لُقمہ اجل بن گئے اور پاکستانی معیشت کو100 ارب ڈالر کا نُقصان پہنچا۔ علا وہ ازیں بلو چستان میں نواب اکبر بگٹی کو ما را گیا جس سے بلوچستان میں حالات خراب ہوئے ۔اگر ایک طرف دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ سے پاکستانی پریشان تھے تو دوسری طرف افغانیوں کا بھی یہ شکوہ ہے کہ پاکستان نے امریکہ کا ساتھ دے کر ہمارے ملک کو کھنڈر بنا دیا۔ اگر ہم پختونخوا میں اے این پی کے دور حکومت کو دیکھیں تو اس دور میں صوبہ سرحد میں تعلیمی اداروں کا جال بچھا یا گیا اور بُہت سارے ترقیاتی کام ہوئے۔ لیکن اس اچھائی کے ساتھ ساتھ افراتفری، اقربا پر وری کا ایسا با زار گرم تھا جیسا کہ کل حکومت ختم ہو نے والی ہے اور ایم این اے، ایم پی اے اور سینیٹرز نے سب کچھ ساتھ لے جانا ہے ۔جہاں تک کے پی کے میں پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی کی مخلوط حکومت کا تعلق تھا تو اس دور میں کچھ ترقیاتی اور اصلا حاتی کام ہوئے ۔ جس میں پولیس اور پٹواری سسٹم میں اصلا حات، ہسپتالوں کی حالت زار کو بہتر بنا نا ، سرکاری اداروں میں شفافیت، شفاف طریقے سے سرکاری ملازمتوں کی تقرریاں، صفائی ستھرائی، ناجائز تجا وزات کو ختم کرنا اور تعلیمی اصلاحات قدر کارنامے تھے۔مگر پشاور کو ریپڈ بس سروس کے لئے کھنڈر بنا دیا گیا ۔ جہاں تک پاکستان مسلم لیگ کی حکومت کا تعلق ہے تو مسلم لیگ(ن) کے تیسرے دور حکومت میں پاکستان کا قرضہ۱۳ ہزار ارب روپے سے بڑھا کر ۲۹ ہزار ارب روپے تک پہنچادیاگیا۔ بلوچستان اور سندھ کی صورت حال ما ضی کی طرح ہے۔بہر حال اگر پاکستان کے سماجی اقتصادی اعشاریوں کو دیکھا جائے تو یہ جنوبی ایشیاء میں بھوٹان ، نیپال سری لنکا ، بنگلہ دیش اور بھارت سے بھی گئے گزرے ہیں اور اسکی اصل وجہ یہ ہے کہ وطن عزیز میں سیاسی لیڈر شپ میں اتنی اہلیت نہیں کہ ملکی معاملات کو احسن طریقے سے سنبھال سکیں۔ ایک وقت تھا کہ پاکستان ملائیشیا، انڈو نیشیا، جرمنی اور ڈنمارک کو قرضہ دیا کرتا تھا اور اب ایک ایسا وقت آیا ہے کہ پاکستان کی پو زیشن جنوبی ایشیاء میں تمام ملکوں سے نیچے ہے۔ اور اس کی ایک ہی وجہ ہے اور وہ ہے کرپشن۔ اب یہ دیکھنا ہے کہ ۲۰۱۸ کے انتخابات کے بعد پاکستان کی کیا صورت حال ہوگی۔

متعلقہ خبریں